بدھ 18  ستمبر 2019ء
بدھ 18  ستمبر 2019ء

اہم خبریں

جے یو آئی(ف) کادھرنا کامیاب بنانے کیلئے 15ہزار کارکنوں کو وفاق میں جمع کرانے کا ٹاسک،سرکاری گھروں کو خالی کرانے کا عندیہ ،خفیہ نگرانی شروع

اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علماء اسلام (ف) نے دھرنے کو کامیاب کرنے کیلئے اسلام آباد میں 15ہزار تک طلباء جمع کرنے کی غرض سے سرکاری گھروں سمیت دیگر گھر کرائے پر لینے کی تلاش شروع کردی ہے،سابق وفاقی وزیر اکرم درانی کے دور میں الاٹ ہونیوالے سرکاری گھروں کو جمعیت نے ایک ماہ کے لئے خالی کرانے کا عندیہ دیدیا جبکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے سرکاری گھروں سمیت دیگر کی خفیہ نگرانی شروع کردی ہے۔انتہائی معتبرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہجمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جو چھ کمیٹیاں تشکیل دی تھیں ان کے ذمہ دار googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ایک اہم ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ کم ازکم 20ہزار سے زائد افراد اسلام آباد دھرنے سے قبل وفاقی دارالحکومت میں شفٹ کردیں اور ان کی رہائش کے لئے سابق وفاقی وزیر اکرام درانی کے دور میں الاٹ ہونیوالے سینکڑوں سرکاری گھروں کو خالی کرا کر استعمال میں لایا جائے اور نیز اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں کرائے کے گھروں کا فی الفور بندوبست بھی کیا جائے۔دوسری جانب وزارت ہاؤسنگ و دیگر اداروں میں جمعیت علماء اسلام کے ووٹرز اور سپورٹرز جو سرکاری ملازمین ہیں انہیں بھی پیغامات دے دیئے گئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے سرکاری گھر دھرنے کے موقع پر نہ صرف خالی رکھیں بلکہ ان کے گھروں میں آنیوالے مہمانوں کے قیام و طعام کا بھی انتظام کیا جائے۔ادھر حکومت نے دھرنے کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے خفیہ اداروں کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ بالخصوص وفاقی دارالحکومت میں سرکاری گھروں اور سرکاری ملازمین کی کڑی نگرانی کریں اور جلد ازجلد رپورٹس پیش کی جائیں کہ کونسے ایسے افسران، ملازمین ہیں جن کے سرکاری گھر عارضی طور پر خالی کیے جارہے ہیں اوران کے مکانات فوری طور پر کینسل کرکے ان سرکاری ملازمین کو جو میرٹ لسٹ پر آتے ہیں انہیں فی الفور الاٹ کردیئے جائیں۔اس سلسلے میں سٹیٹ آفس نے بھی ابتدائی کام شروع کردیا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق 700کے قریب ایسے سرکاری گھر ہیں جو کہ سابق وزیراکرام درانی نے اپنے دور وزارت میں جمعیت علماء اسلام کے ورکرز کو سرکاری نوکریاں دلوا کر الاٹ کیے تھے۔

پاکستان

جے یو آئی(ف) کادھرنا کامیاب بنانے کیلئے 15ہزار کارکنوں کو وفاق میں جمع کرانے کا ٹاسک،سرکاری گھروں کو خالی کرانے کا عندیہ ،خفیہ نگرانی شروع

اسلام آباد(آن لائن)جمعیت علماء اسلام (ف) نے دھرنے کو کامیاب کرنے کیلئے اسلام آباد میں 15ہزار تک طلباء جمع کرنے کی غرض سے سرکاری گھروں سمیت دیگر گھر کرائے پر لینے کی تلاش شروع کردی ہے،سابق وفاقی وزیر اکرم درانی کے دور میں الاٹ ہونیوالے سرکاری گھروں کو جمعیت نے ایک ماہ کے لئے خالی کرانے کا عندیہ دیدیا جبکہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں نے سرکاری گھروں سمیت دیگر کی خفیہ نگرانی شروع کردی ہے۔انتہائی معتبرذرائع سے معلوم ہوا ہے کہجمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے جو چھ کمیٹیاں تشکیل دی تھیں ان کے ذمہ دار googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ایک اہم ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ کم ازکم 20ہزار سے زائد افراد اسلام آباد دھرنے سے قبل وفاقی دارالحکومت میں شفٹ کردیں اور ان کی رہائش کے لئے سابق وفاقی وزیر اکرام درانی کے دور میں الاٹ ہونیوالے سینکڑوں سرکاری گھروں کو خالی کرا کر استعمال میں لایا جائے اور نیز اسلام آباد کے مضافاتی علاقوں میں کرائے کے گھروں کا فی الفور بندوبست بھی کیا جائے۔دوسری جانب وزارت ہاؤسنگ و دیگر اداروں میں جمعیت علماء اسلام کے ووٹرز اور سپورٹرز جو سرکاری ملازمین ہیں انہیں بھی پیغامات دے دیئے گئے ہیں کہ وہ اپنے اپنے سرکاری گھر دھرنے کے موقع پر نہ صرف خالی رکھیں بلکہ ان کے گھروں میں آنیوالے مہمانوں کے قیام و طعام کا بھی انتظام کیا جائے۔ادھر حکومت نے دھرنے کے اثرات کو زائل کرنے کے لئے خفیہ اداروں کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ بالخصوص وفاقی دارالحکومت میں سرکاری گھروں اور سرکاری ملازمین کی کڑی نگرانی کریں اور جلد ازجلد رپورٹس پیش کی جائیں کہ کونسے ایسے افسران، ملازمین ہیں جن کے سرکاری گھر عارضی طور پر خالی کیے جارہے ہیں اوران کے مکانات فوری طور پر کینسل کرکے ان سرکاری ملازمین کو جو میرٹ لسٹ پر آتے ہیں انہیں فی الفور الاٹ کردیئے جائیں۔اس سلسلے میں سٹیٹ آفس نے بھی ابتدائی کام شروع کردیا ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق 700کے قریب ایسے سرکاری گھر ہیں جو کہ سابق وزیراکرام درانی نے اپنے دور وزارت میں جمعیت علماء اسلام کے ورکرز کو سرکاری نوکریاں دلوا کر الاٹ کیے تھے۔

انٹرنیشنل

اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے بعدکابل میں امریکی سفارتخانے کے قریب دوسرا بم دھماکہ،48 افراد ہلاک،80زخمی،ذمہ داری قبول کرلی گئی

کابل(آن لائن) امریکی سفارتخانے کے قریب اور صوبہ پروان میں ہونے والے طالبان کے دو حملوں میں 48 افراد ہلاک اور 80 زخمی ہوگئے جبکہ افغان صدر اشرف غنی بھی بال بال بچ گئے۔رپورٹس کے مطابق دونوں حملوں کی ذمہ داری طالبان کی جانب سے قبول کرلی گئی ہے۔ پہلا دھماکا افغانستان کے صوبے پروان میں افغان صدر اشرف غنی کی انتخابی ریلی کے قریب کیا گیا۔افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کے مطابق موٹر سائیکل پر سوار خودکش بمبار نے ریلی کے قریب چیک پوسٹ پر خود کو دھماکے سے اڑایا جس میں 26 افراد ہلاک اور 42 googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); زخمی ہوگئے۔ دھماکے میں افغان صدر محفوظ رہے۔اطلاعات کے مطابق دھماکا اس وقت کیا گیا جب اشرف غنی اپنے کارکنوں سے خطاب شروع کرچکے تھے۔ دھماکے کے بعد بھی اشرف غنی نے اپنا خطاب جاری رکھا۔طالبان کا کہنا ہے کہ ان کا ہدف اشرف غنی نہیں بلکہ ریلی کی سیکیورٹی پر مامور افغان سیکیورٹی اہلکار تھے۔طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہن اہے کہ ریلی پر حملہ 28 ستمبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب کو سبوتاژ کرنے کیلئے کیا گیا، ہم نے پہلے ہی لوگوں کو خبردار کردیا تھا کہ وہ انتخابی ریلیوں میں نہ جائیں۔دوسرا دھماکا افغان دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب کیا گیا جس میں 22 افراد ہلاک اور 38 زخمی ہوگئے۔ طالبان نے دونوں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔خیال رہے کہ طالبان نے حالیہ دنوں میں حکومت اور غیر ملکی افواج پر حملوں میں اضافہ کردیا ہے اور گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان حملوں کو جواز بناتے ہوئے طالبان اور امریکا کے درمیان دوحا میں جاری امن مذاکرات کو منسوخ کردیا تھا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں