اتوار 17 نومبر 2019ء
اتوار 17 نومبر 2019ء

اہم خبریں

مسلمان بننے کے بعد کیا ہوا؟

”سوشل میڈیا پر پچھلے دنوں ایک کالم بہت وائرل ہوا‘یہ کالم نو مسلم ڈاکٹر لارنس براؤن کے بارے میں تھا اور یہ جاوید چودھری نے لکھا تھا‘ کالم میں چودھری صاحب امریکن ڈاکٹر لارنس براؤن کا ذکر کرتے ہیں‘ ڈاکٹر لارنس براؤن عملی طور پر ایک ایتھیسٹ(لادین) تھے‘ 1990ء میں ان کی بیٹی حینا پیدا ہوئی‘ اس کے دل کی ایک شریان بندتھی‘ ڈاکٹر براؤن نے دعا کی اے خدا اگر تو کہیں ہے تو مجھے اس مسئلے سے نکال‘ میں اس کے بعد تیری راہ تلاش کروں گا۔اللہ پاک نے مدد فرمائی‘ڈاکٹر براؤن کی بیٹی آپریشن کے بغیر صحت یاب ہو گئی‘ ڈاکٹروں نے اس معجزے کی بے شمار میڈیکل وجوہات بیان کیں لیکن ڈاکٹر براؤن اندر سے جانتے تھے اللہ نے اپنے حصے کی googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ڈیل مکمل کر دی‘ اب اس کی تلاش ان کی ذمہ داری ہے‘ بہرحال ڈاکٹر براؤن 1994ء میں مسلمان ہو گئے‘ چودھری صاحب کا کالم اللہ پاک کی طرف رجوع‘ اللہ پاک کی طرف سے دیے گئے اشاروں اور ڈاکٹر براؤن کی لکھی اور مشہور کتابوں کو ڈسکس کر کے ختم ہو جاتا ہے لیکن پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست“۔یہ تحریر مجھے ایک دوست نے بھجوائی‘ یہ ہارون ملک کی تحریر ہے اور یہ کسی اخبار میں شائع ہوئی تھی‘ میں مصنف کو نہیں جانتا لیکن انہوں نے بہت محنت کی لہٰذا میں اسے کالم میں ری پرنٹ کر رہا ہوں‘ مصنف نے اس کے بعد لکھا”یہ کوئی پرانے زمانے کے شہزادوں اور شہزادیوں کی کہانی نہیں کہ یہ کہانی اس بات پر ختم کر دی جائے وہ اس کے بعد ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے‘ یہ ایک امریکی کے اسلام قبول کرنے کی کہانی تھی چناں چہ ڈاکٹر براؤن کی اصل کہانی مسلمان ہونے کے بعد شروع ہوتی ہے‘ چودھری صاحب کے کالم کے بعد میں نے ڈاکٹر براؤن کی زندگی کے بارے میں معلومات جمع کیں اور جو مشکلات ان کو درپیش آئیں وہ مختصر الفاظ میں آپ سے شیئر کرنا چاہوں گا‘ڈاکٹر براؤن کہتے ہیں تبدیلی مذہب بظاہر آسان ہوتا ہے لیکن اس کے سماجی اور معاشرتی اثرات بہت دور رس اور گہرے ہوتے ہیں۔ڈاکٹر براؤن جب مسلمان ہوئے تو ایک سال کے اندر اندر نہ صرف ان کی بیوی ان سے الگ ہوگئی بلکہ بچوں کی کسٹڈی بھی ان کی بیوی کے پاس چلی گئی‘ وہ بچی حینا جو ڈاکٹر صاحب کی تبدیلی مذہب کی پہلی اور بنیادی وجہ بنی وہ بھی اپنی والدہ کے پاس رہ گئی‘ ڈاکٹر براؤن کی بیوی ڈاکٹر صاحب کا گھر‘ دولت‘ ذہنی سکون اور خوشیوں کا بڑا حصہ بھی ساتھ لے گئی‘ عدالت میں طلاق کا کیس دائر کر دیا گیا‘ عدالت نے بیوی سے استفسار کیا ”کیا ڈاکٹر لارنس براؤن اس کے ساتھ مار پیٹ کرتا ہے؟“ ۔بیوی نے جواب دیا ایسی کوئی بات نہیں لیکن میں اب اپنے خاوند کے ساتھ مزید نہیں رہ سکتی‘مجھے طلاق چاہیے لہٰذا عدالت نے طلاق کا حکم جاری کر دیا‘ یہ حکم صرف یہاں تک نہیں رہا بلکہ عدالت نے ڈاکٹر براؤن کو حکم دیا وہ اپنے بچوں اور بیوی سے کم از کم سو گز دور رہیں‘ عدالت نے ڈاکٹر کو پابند کر دیا وہ ایک سیکورٹی گارڈ کا بندوبست کریں‘ اس کی تنخواہ اپنی جیب سے ادا کریں اور وہ سیکورٹی گارڈ اس بات کو یقینی بنائے کہ ڈاکٹر براؤن کے بچے اور سابقہ بیوی ڈاکٹربراؤن سے محفوظ فاصلے پر ہیں‘عدالت کا خیال تھا ڈاکٹر اب ایک پریکٹسنگ مسلمان ہے اور اس کے بچوں کا اس سے دور رہنا بہت ضروری ہے۔ڈاکٹر براؤن کے والدین نے بھی اپنے بیٹے کو عاق کر دیا‘والدین نے خط لکھ کر یہ تک کہہ دیا وہ انہیں ملنے اور فون کرنے کی کوشش نہ کرے‘ یہ ان کے لیے مر چکا ہے اور یہ اس کے بارے میں مزید کوئی خبر رکھنے میں دلچسپی نہیں رکھتے‘ ڈاکٹر براؤن کو صرف خوانگی مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ اسلام قبول کرنے کے بعد ان کی سماجی اور عملی زندگی بھی تباہ ہو گئی‘ ان کو امریکن ائیر فورس کے ساتھ کام کرتے بارہ سال ہو چکے تھے لیکن مسلمان ہونے کے بعد ان کو یہ محسوس ہونے لگا یہ نوکری ان کے نئے مذہب کے ساتھ نہیں چل سکتی‘ امریکن وار مشینری میں میجر کا رینک اور مسلمان ہونے کے بعد اس وار مشینری کا حصہ رہنا ان کے ضمیر پر بوجھ بن رہا تھا لہٰذا ڈاکٹربراؤن نے یہ نوکری چھوڑ دی۔قصہ یہیں ختم نہیں ہوا بلکہ ان کے وہ دوست جن کے ساتھ وہ اور وہ ڈاکٹر کے ساتھ گھومنا پھرنا پسند کرتے تھے وہ بھی ڈاکٹر صاحب سے دور رہنے اور اجتناب کرنے لگے‘ مسئلہ یہ تھا ڈاکٹر صاحب اسلام قبول کرنے سے پہلے پینے پلانے کے عادی تھے‘یہ خود بھی اچھی بیئر بناتے تھے لیکن اب پینا پلانا تو دور وہ ایسی جگہوں پر جاتے بھی نہیں تھے لہٰذا ڈاکٹر صاحب کی کمپنی میں کون اٹھنا بیٹھنا پسند کرتا؟ ایک بار ڈاکٹر براؤن کے والدین نے بھی کہا وہ اس کی بنائی بیئر کو مس کرتے ہیں لیکن ڈاکٹر اب اللہ کو خوش کرنا چاہتے تھے اپنے دوستوں یا والدین کو نہیں۔ڈاکٹر صاحب اپنی کہانی میں غیر محرم عورتوں سے ہاتھ نہ ملانے اور ان کو چھونے سے گریز کی بات کرتے ہوئے کہتے ہیں یہودیت اور عیسائیت میں بھی غیر محرم عورتوں سے دوری اختیار کرنے کا حکم موجود ہے‘ یہودی آج بھی اپنی محرم عورتوں کے علاوہ کسی اور عورت کو ہاتھ ملانا یا چھونا گناہ سمجھتے ہیں‘ اسلام کی یہ تعلیمات یا احکامات نئے نہیں بلکہ ابراہیمی ادیان کے عین مطابق ہیں‘ مزید ایک مثال میں ڈاکٹر براؤن کہتے ہیں کیا کوئی پسند کرے گا کوئی اور بندہ اس کی کار کو ہاتھ لگائے؟ ظاہر ہے نہیں تو اسی طرح نامحرم عورتوں کو چھونا یا ہاتھ ملانا بھی غلط ہے‘ ڈاکٹر براؤن کی یہ باتیں اور یہ حرکتیں انہیں مزید تنہا کر گئیں۔ڈاکٹر صاحب کے مسائل یہیں ختم نہیں ہوئے بلکہ ڈاکٹر صاحب کا گھر گیا‘ بچے گئے اور والدین اور دوستوں کا ساتھ بھی نہ رہا‘ امریکا میں جس شخص کا ایک گھر ہو‘ بیوی اور دو بچے ہوں‘ ایک کتا ہو اور کم از کم دو گاڑیاں ہوں تو وہ امیر آدمی سمجھا جاتا ہے‘ مغربی ممالک یا امریکا میں گھر خریدنا اور اچھی سیٹلڈ لائف گزارنا آسان نہیں ہوتا‘ ڈاکٹر صاحب کے پاس یہ سب تھا مگر جب وہ مسلمان ہو گئے تو یہ سب ایک ایک کر کے چھن گیا لیکن ڈاکٹر صاحب کے بقول اللہ پاک اپنے بندوں کو اسی طرح آزماتا ہے۔مجھے بھی ان مشکلات کا اندازہ تھا اور میں ذہنی طور پر اس آزمائش کے لیے تیار تھا‘ڈاکٹر صاحب کو قبول اسلام کے بعد ایک سستے علاقے میں سٹوڈیو فلیٹ میں رہائش اختیار کرنا پڑی‘یہ ایک گندی عمارت تھی‘ اس میں لوگ لفٹ اور سیڑھیوں کے قریب کھڑے ہو کر پیشاب کر دیتے تھے اور اس کی بدبو سے وہاں سے گزرنا تک محال ہوتا تھا لیکن وہ یہاں رہنے پر مجبور تھے‘ ان کے پاس اچھی رہائش کے لیے سرمایہ نہیں تھا‘ ڈاکٹر صاحب کے بقول یہ وہ چند مشکلات ہیں جو وہ بیان کر سکتے ہیں‘بے شمار مزید مسائل اور تعصبات ہیں جن کا سامنا وہ آئے دن کرتے رہے تھے مگر وہ آج ان کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں سمجھتے۔ڈاکٹر براؤن کا کہنا تھا یورپ میں اگر کوئی شخص وینس‘ جنیوا‘ سڈنی یا سوئٹزرلینڈ میں گھر بنا لے تو اسے کام یاب سمجھا جاتا ہے لیکن اللہ نے مجھے امریکا میں گھر چھن جانے کے بعد مدینہ میں گھر دیا‘ مدینہ دنیا کا سب سے بہترین شہر ہے‘ یہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر ہے‘ یہاں چوری کا خطرہ نہیں‘ سکون ہے‘ میں نے پوری دنیا گھوم رکھی ہے لیکن یقین کریں مدینے جیسا شہر کہیں نہیں دیکھا‘ اللہ پاک نے مجھے اب دوسری بیوی اور بچہ دے دیا اور امریکا میں جائیداد کھونے کے بعداپنے عزیز ترین شہر میں گھر دیا‘اب ڈاکٹر صاحب کے تعلقات اپنے والدین سے بھی بہتر ہو گئے ہیں‘ یہ کبھی کبھار بچوں سے بھی بات کر لیتے ہیں بلکہ سال میں ایک آدھ بار مل کر چھٹیاں بھی گزارتے ہیں۔زندگی نارمل ہو گئی ہے‘ ڈاکٹر لارنس براؤن کی دو مشہور ترین کتابیں گاڈڈ اورمس گاڈڈ ہیں‘ قبول اسلام کے بعد گو ابتدائی طور پر ان کا گھر‘ بال بچے‘ والدین اور دوست یار چھن گئے لیکن اب اس کے صلے میں انہیں امریکا سے لے کر کینیا تک‘ مصر سے سعودیہ اور پاکستان تک لوگ جانتے ہیں‘ پیار کرتے ہیں۔یہ باتیں اس لیے لکھی ہیں کہ اسلام قبول کرنا یا کوئی بھی مذہب ترک کرنا کبھی آسان نہیں ہوتا‘ اس کے لیے آپ کی سماجی اور معاشرتی زندگی تلپٹ ہو جاتی ہے‘ اللہ پاک سب کو سکون کی نعمت عطا فرمائے اور ہدایت کے راستوں پر چلنے کی توفیق دے‘ چاہے وہ ہدایت کسی شکل میں ہی کیوں نہ ہو“۔میں ہارون ملک کا مشکور ہیں‘ انہوں نے میری رہنمائی بھی فرمائی اور ڈاکٹر لارنس براؤن کی ادھوری کہانی بھی مکمل کی‘ میں اپنی کوتاہی کو تسلیم کرتا ہوں‘ میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں میں خواہ جتنی کوشش کر لوں میری نالائقی آڑے آ جاتی ہے اور میں کالم کو جامع نہیں بنا پاتا‘ شاید اس کی وجہ کالم کا محدود دامن ہے‘ ہم نے سولہ سترہ سو لفظوں میں سب کچھ کہنا ہوتا ہے‘ دنیا میں بے شمار لوگ اس فن کے ماہر ہیں‘ یہ ہزار بارہ سو الفاظ میں بھی سب کچھ بیان کر دیتے ہیں‘ میں بھی پچھلے 25 سال سے یہ کوشش کر رہا ہوں مگر مجھے کام یابی نصیب نہیں ہو رہی‘ مجھے ڈاکٹر براؤن کی کہانی کے بے شمار پہلو معلوم تھے مگر میں کالم کی تنگی داماں کی وجہ سے یہ تحریر نہ کر سکا لیکن میں اس کے باوجود اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہوں۔

پاکستان

نواز شریف کی سزا معطل نہیں ہوئی،نہ سات ارب کاجرمانہ معاف ہوا، اٹارنی جنرل انور منصو ر نے بڑا اعلان کردیا

اسلام آباد (این این آئی)وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا ہے کہ حکومت کی نیت پر بے بنیاد شک کیا گیا، شریف فیملی کا ماضی ٹھیک نہیں اس لیے ضمانتی بانڈز مانگے، بدقسمتی سے حکومت کی نیک نیتی کا مذاق اڑایا گیا جب کہ حکومت نے ہر مرحلے پر نواز شریف کے لیے راہ ہموار کی، انہیں میڈیکل بورڈ کی سہولت دی،(ن) لیگ کی طرف سے بہتان، الزام تراشی اور وزیراعظم کی کردار کشی کی گئی جبکہ اٹارنی جنرل انور منصو ر نے کہا کہ نواز شریف کو صرف باہر جانے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کی اجازت ملی ہے انکی سزا معطل نہیں ہوئی اور نہ ان کا جرمانہ معاف ہوا، ان پر تاحال سات ارب روپے کا جرمانہ عائد ہے۔ہفتہ کو نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی اجازت سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے بعد اٹارنی جنرل انور منصور خان کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ وزیراعظم نے اپنے ترجمانوں کو نوازشریف کی صحت پر بیان دینے سے منع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی نیت پر بے بنیاد شک کیا گیا، شریف فیملی کا ماضی ٹھیک نہیں اس لیے ضمانتی بانڈز مانگے۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان کا ماضی سامنے ہے کہ معاہدہ کرکے گئے اور جھٹلاتے رہے۔انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے حکومت کی نیک نیتی کا مذاق اڑایا گیا جب کہ حکومت نے ہر مرحلے پر نواز شریف کے لیے راہ ہموار کی، انہیں میڈیکل بورڈ کی سہولت دی۔انہوں نے کہا کہ حکومت نواز شریف کے باہر جانے کی مخالف نہیں،مسلم لیگ (ن) کا رویہ قابل مذمت اور افسوس ناک تھا۔انہوں نے کہا کہ (ن) لیگ کی طرف سے بہتان، الزام تراشی اور وزیراعظم کی کردار کشی کی گئی۔اٹارنی جنرل انور منصور نے کہا ہے کہ نواز شریف کو صرف باہر جانے کی اجازت ملی ہے انکی سزا معطل نہیں ہوئی اور نہ ان کا جرمانہ معاف ہوا، ان پر تاحال سات ارب روپے کا جرمانہ عائد ہے۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف پر ایک فیصلے میں سات ارب روپے ہرجانہ عائد کیا گیا ہے اور انہوں نے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی ہوئی ہے سزا صحیح ہے یا نہیں، یا تو وہ فیصلہ کالعدم ہوگا یا درست تاہم فیصلہ ابھی برقرار ہے۔انور منصور نے کہا کہ نواز شریف نے ضمانت مانگی تو سوالات اٹھے کہ ضمانت دی جائے یا نہیں؟ کیوں کہ نیب لا کے تحت ملزم کی سزا معطل نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی ضمانت دی جاسکتی ہے تاہم دیگر لاز میں ضمانت ممکن ہے۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ معاملہ عدالت میں آنے پر حکومت نے باہر جانے پر اعتراض نہیں کیا تاہم وہ کوئی نہ کوئی ضمانت چاہتی ہے کیوں کہ پہلے بھی نواز شریف نے دیے گئے بانڈز پر عمل درآمد نہیں کیا، ضمانت کے بعد وہ ہاسپٹل کے بجائے گھر چلے گئے اور اسے آئی سی یو بنالیا بعد ازاں بیرون ملک جانے کی درخواست فائل کردی جس پر ہم نے اعتراض عائد کیا کہ جس عدالت میں مقدمہ ہو درخواستیں اسی عدالت میں جانی چاہئیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہم نے آج کے فیصلے کےخلاف کوئی اپیل فائل نہیں کی ہمیں ان کے باہر جانے پر نہیں بلکہ بغیر بانڈز کے باہر جانے پر اعتراض ہے جس کی ہم نے لاہور ہائی کورٹ میں بھی مخالفت کی تاہم ہائی کورٹ نے انہیں باہر جانے کی اجازت دے دی جو کہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی ہے تاہم سزا و جرمانہ برقرار ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ کو انڈر ٹیکنگ دینا معمولی بات نہیں اس کا ذکر فیصلہ میں بھی ہوگا، خلاف ورزی پر نواز شریف اور شہباز شریف کے خلاف 61 (2) بی کی کارروائی ہوسکتی ہے، آج کی درخواست کا تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد اپنے رائے کابینہ کے سامنے پیش کروں گا فیصلے کے خلاف اپیل کرنے یا نہ کرنے کا معاملہ کابینہ کی صوابدید پر منحصر ہے۔

انٹرنیشنل

موسیقی کو سعودی عرب کے تعلیمی نصاب میں شامل کیوں کیاگیا؟سعودی وزیرثقافت نے حیرت انگیز دعویٰ کردیا

پیرس(این این آئی) سعودی عرب نے سائنس، ثقافت اور فنون کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے فنون و ثقاقت اقوام کے مابین مکالمے اور بات چیت کے کلچر کے فروغ کے ساتھ آنے والی نسلوں کے روشن اور خوش حاصل مستقبل کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس میں منعقدہ 40 ویں یونیسکوجنرل کانفرنس میں سعودی عرب کے وزیر ثقافت اور کانفرنس میں شریک سعودی وفد کے سربراہ شہزادہ بدر بن عبد اللہ بن فرحان نے کہا کہخادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); بن سلمان بن عبدالعزیز ثقافت کو اپنے عمومی تصور میں دیکھتے ہیں۔ وہ قومی ثقافت کے مختلف پہلوؤں کے اظہار کو ایک ایسی اہم بنیاد کے طور پر دیکھتے ہیں جو انسانی ترقی کی سمتوں کا تعین کرنے میں مدد کرتی ہے۔ معاشروں کے مابین تفہیم کے پل تعمیر کرتی ہے تاکہ ایک مضبوط دنیا کو فروغ دیا جا سکے۔جہاں لوگ مختلف ثقافتوں سے باہم جڑے ہوئے ہیں اور ریاست میں مل کر کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں وہاں قوموں کے آگے بڑھنے کے امکانات مزید روشن ہوجاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں ثقافت اور فنون لطیفہ ویژن 2030 کے پروگرام کا حصہ ہیں۔ یہ انقلابی ویژن ملک میں تمام شعبہ ہائے زندگی میں تبدیلیوں کی نشاندہی کرتا ہے۔ سعودی قیادت کی طرف سے متعارف کردہ وین 2030 قومی تبدیلی کا بنیادی ستون ہے۔اس کا مقصد ایک متحرک معاشرے، ایک خوشحال معیشت اور ایک متمول وطن کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالنا ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مملکت اپنے پر جوش وژن 2030 کے ذریعے مزید خوشحال مستقبل کی طرف پراعتماد اقدامات کر رہی ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبد العزیز کی قیادت میں ملک جلد ہی تعلیم، ثقافت اور فنون لطیفہ سمیت متعدد شعبوں میں مثبت انداز میں ترقی کی منازل طے کرنا شروع کرے گا۔شہزادہ بدر بن عبداللہ بن فرحان نے کہا کہسعودی عرب 'یونیسکوکے اہداف اور اس کی ترقی کو وژن 2030 کی روشنی میں آگے بڑھانے میں ہر ممکن تعاون کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ مملکت یہ مانتی ہے کہ نوجوانوں کی تعلیم اور بحالی ہمارے معاشروں میں ثقافت کی تعمیر، ترقی اور فروغ کے کسی بھی عمل کی بنیاد ہے۔ انہیں انسانی اقدار اور قومی ثقافت سیہم آہنگ کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ مختلف فنون سیکھنے سیجہاں ملک میں ترقی اور خوش حالی کے دروازے کھلیں گے وہیں سعودی قوم کے عالمی برادری کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم اور وسیع ہوں گے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں