جمعرات 17 اکتوبر 2019ء
جمعرات 17 اکتوبر 2019ء

اہم خبریں

تحریک انصاف کے اہم رہنما نے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کر دی، جے یو آئی (ف) میں شمولیت کا اعلان

چارسدہ (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے اہم رہنما نے اپنے خاندان سمیت جمعیت علماء اسلام (ف) میں شمولیت کا اعلان کر دیا، اس طرح مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے قبل تحریک انصاف کی حکومت کو بڑا دھچکا لگاہے، تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ضلع ناظم چارسدہ نصیر محمد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کر لی ہے،سابق وفاقی وزیر نثار محمد خان کے فرزند نصیر محمد خان اور تحریک انصاف کے رہنما فضل محمد خان کے بھائی ہیں نے جمعیت علماء اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب وزیر googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات میں تاخیر ہماری غلطی تھی۔ ایک انٹرویو میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نہ صرف مولانا فضل الرحمان بلکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی غلطی مانتے ہیں کہ ہم سے تاخیر ہوئی لیکن مولانا فضل الرحمان مذاکرات سے انکار نہیں کریں گے۔ یہ سب کچھ وزیر اعظم عمران خان کے احکامات پر ہو ر ہا ہے۔پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نے اپنے رہنماؤں کو بیان بازی سے باز رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس وقت پاکستان انتہائی سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کردار سب کے سامنے ہو گا اس ملک کی بہتری کے لیے جو کچھ ہو سکتا ہے ہم کریں گے اور مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ بات آگے چل سکے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی،کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا ہے،مولانا صاحب اپنا ایجنڈا بتائیں بیٹھ کر بات ہو گی، کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے،ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پٹھان جرگے والے لوگ ہیں اور پورا یقین ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔ جمعرات کو یہاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا ہے۔پرویز خٹک نے کہا کہ کمیٹی تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی لیکن کمیٹی کے نام ابھی فائنل نہیں ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں لیکن وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہاکہ مولانا صاحب اپنا ایجنڈا بتائیں اس کے بعد بیٹھ کر بات ہو گی، کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پٹھان جرگے والے لوگ ہیں اور پورا یقین ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ میں طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں تاہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی بغیر کسی ایشو کے چڑھائی کر دے۔پرویز خٹک نے کہا کہ میرے خلاف طاقت استعمال کی گئی تھی جس کا اچھا نتیجہ نہیں نکلا، پوری کوشش ہو گی 27 اکتوبر سے پہلے معاملات حل ہو جائیں۔انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن سے رابطہ شروع کردیا ہے جلد مثبت نتائج آئیں گے، احتجاج کا حصہ بننے والی تمام جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔پرویز خٹک نے کہا کہ جمہوری ملک ہے مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کرکے ہی حل نکالیں گے، اگر ان کے جائز مطالبات ہیں تو حکومت ان کی بات سنے گی، لیکن ملک میں ہنگامہ آرائی اور انتشار کی اجازت نہیں دے گی۔

پاکستان

تحریک انصاف کے اہم رہنما نے مولانا فضل الرحمان کی حمایت کر دی، جے یو آئی (ف) میں شمولیت کا اعلان

چارسدہ (نیوز ڈیسک) تحریک انصاف کے اہم رہنما نے اپنے خاندان سمیت جمعیت علماء اسلام (ف) میں شمولیت کا اعلان کر دیا، اس طرح مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ سے قبل تحریک انصاف کی حکومت کو بڑا دھچکا لگاہے، تحریک انصاف کے رہنما اور سابق ضلع ناظم چارسدہ نصیر محمد نے جمعیت علمائے اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کر لی ہے،سابق وفاقی وزیر نثار محمد خان کے فرزند نصیر محمد خان اور تحریک انصاف کے رہنما فضل محمد خان کے بھائی ہیں نے جمعیت علماء اسلام (ف) میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب وزیر googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); دفاع پرویز خٹک نے کہا ہے کہ مولانا فضل الرحمان سے مذاکرات میں تاخیر ہماری غلطی تھی۔ ایک انٹرویو میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نہ صرف مولانا فضل الرحمان بلکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی سے بھی مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم اپنی غلطی مانتے ہیں کہ ہم سے تاخیر ہوئی لیکن مولانا فضل الرحمان مذاکرات سے انکار نہیں کریں گے۔ یہ سب کچھ وزیر اعظم عمران خان کے احکامات پر ہو ر ہا ہے۔پرویز خٹک نے کہا کہ ہم نے اپنے رہنماؤں کو بیان بازی سے باز رکھنے کی ہدایت کر دی ہے۔ اس وقت پاکستان انتہائی سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارا کردار سب کے سامنے ہو گا اس ملک کی بہتری کے لیے جو کچھ ہو سکتا ہے ہم کریں گے اور مولانا فضل الرحمان سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں گے تاکہ بات آگے چل سکے۔وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اپوزیشن سے مذاکرات کے لیے بنائی گئی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا ہے کہ وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی،کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا ہے،مولانا صاحب اپنا ایجنڈا بتائیں بیٹھ کر بات ہو گی، کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے،ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پٹھان جرگے والے لوگ ہیں اور پورا یقین ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔ جمعرات کو یہاں صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے پرویز خٹک نے کہا کہ کچھ مشترکہ دوستوں کے ذریعے مولانا فضل الرحمان کو پیغام بھجوایا ہے۔پرویز خٹک نے کہا کہ کمیٹی تمام اپوزیشن جماعتوں سے رابطے کرے گی لیکن کمیٹی کے نام ابھی فائنل نہیں ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سیاست میں بات چیت کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں لیکن وزیراعظم کے استعفے کا مطالبہ مضحکہ خیز ہے، اس پر بات نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہاکہ مولانا صاحب اپنا ایجنڈا بتائیں اس کے بعد بیٹھ کر بات ہو گی، کوشش ہے موجودہ صورتحال کے پیش نظر کسی سیاسی انتشار سے بچا جائے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ملک دشمن عناصر سیاسی انتشار سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، پٹھان جرگے والے لوگ ہیں اور پورا یقین ہے کہ مولانا صاحب ہمارے ساتھ بیٹھیں گے۔ایک سوال کے جواب میں پرویز خٹک نے کہا کہ میں طاقت کے استعمال کے حق میں نہیں ہوں تاہم ایسا نہیں ہو سکتا کہ کوئی بھی بغیر کسی ایشو کے چڑھائی کر دے۔پرویز خٹک نے کہا کہ میرے خلاف طاقت استعمال کی گئی تھی جس کا اچھا نتیجہ نہیں نکلا، پوری کوشش ہو گی 27 اکتوبر سے پہلے معاملات حل ہو جائیں۔انہوں نے کہاکہ امن و امان کے حوالے سے ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اپوزیشن سے رابطہ شروع کردیا ہے جلد مثبت نتائج آئیں گے، احتجاج کا حصہ بننے والی تمام جماعتوں سے رابطہ کریں گے۔پرویز خٹک نے کہا کہ جمہوری ملک ہے مولانا فضل الرحمان سے بات چیت کرکے ہی حل نکالیں گے، اگر ان کے جائز مطالبات ہیں تو حکومت ان کی بات سنے گی، لیکن ملک میں ہنگامہ آرائی اور انتشار کی اجازت نہیں دے گی۔

انٹرنیشنل

بڑا بریک تھرو، برطانیہ اوریورپی یونین کے نئی بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پا گئے، برطانوی وزیر اعظم  نے اہم اعلان کردیا

لندن(این این آئی)برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پا گئے ہیں۔برطانوی میڈیا کے مطابق بورس جانسن نے کہا کہ یورپی یونین کے ساتھ نئی شاندار بریگزٹ ڈیل سے ہمیں اختیارات واپس مل جائیں گے۔وزیراعظم بورس جانسن یورپی یونین کی سمٹ میں شرکت کیلئے برسلز روانہ ہو ئے۔برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان بریگزٹ ڈیل پر معاملات طے پانے کے بعد فریقین ڈیل کے مسودے پر کام کر رہے ہیں،نئی ڈیل پر برطانونیہ اور یورپی یونین کی پارلیمنٹ سے منظوری درکار ہو گی۔صدریورپین کمیشن جین googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کلاڈینکر کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ڈیل نئی ڈیل شفاف اور متوازن ہے،فرانسیسی صدر پرامید ہیں کہ برطانوی اراکین پارلیمنٹ بریگزٹ ڈیل منظورکر لیں گے۔دوسری جانب شمالی آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی حکومت کی اتحادی جماعت ڈی یو پی نے ڈیل کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ڈی یو پی رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ ڈیل کی موجودہ شرائط کے ساتھ اس کی حمایت نہیں کر سکتے۔برطانوی میڈیا کے مطابق ڈی یو پی کے ساتھ نہ دینے کی صورت میں حکومت کو پارلیمنٹ سے ڈیل منظور کرانے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔خیال رہے کہ وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالتے ہی بورس جانسن نے کہا تھا کہ اب چاہے کچھ بھی ہو برطانیہ 31 اکتوبر کو یورپی یونین سے علیحدہ ہوجائے گا۔ڈیوڈ کیمرون کے استعفے کے بعد برطانیہ کی وزیراعظم بننے والی ٹریزا مے نے جولائی میں بریگزٹ ڈیل کی پارلیمنٹ سے منظوری میں ناکامی کے بعد مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا اور ان کے بعد بورس جانسن نے عہدہ سنبھالا تھا۔برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا اس سے نکل جانے کے حوالے سے 23 جون 2017 کو ریفرنڈم ہوا تھا جس میں بریگزٹ کے حق میں 52 جبکہ مخالفت میں 48 فیصد ووٹ پڑے جس کے بعد اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کو عہدے سے استعفیٰ دینا پڑا، کیوں کہ وہ بریگزٹ کے مخالف تھے۔واضح رہے کہ برطانیہ نے 1973 میں یورپین اکنامک کمیونٹی میں شمولیت اختیار کی تھی تاہم برطانیہ میں بعض حلقے مسلسل اس بات کی شکایات کرتے رہے ہیں کہ آزادانہ تجارت کے لیے قائم ہونے والی کمیونٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے رکن ممالک کی ملکی خودمختاری کو نقصان پہنچتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں