بدھ 08 جولائی 2020ء
بدھ 08 جولائی 2020ء

اہم خبریں

سول ایوی ایشن اتھارٹی کا جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن،بڑی تعداد میں پائلٹس کے لائسنس معطل،نام بھی سامنے آ گئے

اسلام آباد(آن لائن)سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے پر 34 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دئیے ہیں۔ڈائریکٹر لاجسٹک نے دو خواتین سمیت پائلٹس کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے پر 34 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دئیے ہیں،جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔معطل ہونے والے پائلٹس کی فہرست میں دو خواتین پائلٹس کے نام بھی شامل ہیں۔سول ایوی ایشن کے نوٹیفکشین کے مطابق دو بہنیں ارم مسعود اور مریم مسعود بھی googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مشکوک لائسنس رکھنے والوں میں شامل ہیں۔سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر لاجسٹک خالدمحمود کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہمالیاقت،مساویہ محمد،سید محمود احمد،بابر درانی، عاصم عزیز،فیاض الرحمان،عابد حمزہ،فہیراکبر بخاری،محمد نوید الحسن،فرخ اعظم چوہان،سید محسن علی،کاروان اصغر، سید حیدر عباس، مہتاب طاہر نیازی، ارم مسعود، مریم مسعود، ماجد وسیم اختر، محمد احمد فاروقی، شیرافگن جوگیزئی، عامر محمود، ارتضیٰ علی، محمد کاشف، عاطف منیر، فیصل محمود اور احمد شفیق خواجہ سمیت34پائلٹس کے لائسنس معطل کردئیے گئے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے پر 34 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دئیے ہیں۔ڈائریکٹر لاجسٹک نے دو خواتین سمیت پائلٹس کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے پر 34 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دئیے ہیں،جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔معطل ہونے والے پائلٹس کی فہرست میں دو خواتین پائلٹس کے نام بھی شامل ہیں۔سول ایوی ایشن کے نوٹیفکشین کے مطابق دو بہنیں ارم مسعود اور مریم مسعود بھی مشکوک لائسنس رکھنے والوں میں شامل ہیں۔

پاکستان

سول ایوی ایشن اتھارٹی کا جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن،بڑی تعداد میں پائلٹس کے لائسنس معطل،نام بھی سامنے آ گئے

اسلام آباد(آن لائن)سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے پر 34 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دئیے ہیں۔ڈائریکٹر لاجسٹک نے دو خواتین سمیت پائلٹس کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے پر 34 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دئیے ہیں،جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا۔معطل ہونے والے پائلٹس کی فہرست میں دو خواتین پائلٹس کے نام بھی شامل ہیں۔سول ایوی ایشن کے نوٹیفکشین کے مطابق دو بہنیں ارم مسعود اور مریم مسعود بھی googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مشکوک لائسنس رکھنے والوں میں شامل ہیں۔سول ایوی ایشن کے ڈائریکٹر لاجسٹک خالدمحمود کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق ہمالیاقت،مساویہ محمد،سید محمود احمد،بابر درانی، عاصم عزیز،فیاض الرحمان،عابد حمزہ،فہیراکبر بخاری،محمد نوید الحسن،فرخ اعظم چوہان،سید محسن علی،کاروان اصغر، سید حیدر عباس، مہتاب طاہر نیازی، ارم مسعود، مریم مسعود، ماجد وسیم اختر، محمد احمد فاروقی، شیرافگن جوگیزئی، عامر محمود، ارتضیٰ علی، محمد کاشف، عاطف منیر، فیصل محمود اور احمد شفیق خواجہ سمیت34پائلٹس کے لائسنس معطل کردئیے گئے ہیں۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے پر 34 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دئیے ہیں۔ڈائریکٹر لاجسٹک نے دو خواتین سمیت پائلٹس کی معطلی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا۔تفصیلات کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی نے جعلی لائسنس پر بڑا ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات مکمل ہونے پر 34 پائلٹس کے لائسنس معطل کر دئیے ہیں،جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیاگیا۔معطل ہونے والے پائلٹس کی فہرست میں دو خواتین پائلٹس کے نام بھی شامل ہیں۔سول ایوی ایشن کے نوٹیفکشین کے مطابق دو بہنیں ارم مسعود اور مریم مسعود بھی مشکوک لائسنس رکھنے والوں میں شامل ہیں۔

انٹرنیشنل

برطانوی حکومت کا لاکھوں کورونا وائرس ٹیسٹ ریکارڈ نہ ہونے کا انکشاف،سرکاری اعداد و شمار میں حیرت انگیز بات سامنے آ گئی

لندن(این این آئی)برطانوی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں لاکھوں کورونا وائرس ٹیسٹ ریکارڈ ہی نہیں کیے جا رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر (ڈی ایچ ایس سی) نے بتایاکہ جب سے ٹیسٹنگ شروع ہوئی ہے ایک کروڑ 50 لاکھ کے قریب ٹیسٹ کیے گئے ہیں، لیکن ان میں سے 80 لاکھ کے قریب ہی پراسیس کیے جا سکے ہیں۔20 لاکھ سے زیادہ یا پانچ میں سے ایک ٹیسٹ،یا تو لیبارٹری میں بھیجے ہی نہیں گئے یا پھر غلط قرار دیا گیا ہے۔وزیرِ اعظم کے ترجمان نے رپورٹرز کو بتایا کہ کچھ لوگ ٹیسٹ googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کے لیے کہیں گے اور پھر کسی بھی وجہ سے ٹیسٹ واپس نہیں بھیجیں گے۔جب ڈی ایچ ایس سی کے اعداد و شمار ان کے سامنے رکھے گئے تو انھوں نے کہا کہ انھوں نے اس کے متعلق مصدقہ نمبر نہیں دیکھے۔یہ بات اس وقت سامنے آئی ہے جب ڈانننگ سٹریٹ نے لوگوں کی ٹیسٹنگ کے روزانہ کے اعداد و شمار کو شائع نہ کرنے کا دفاع کیا ہے۔ اس کے برعکس وہ اس کی حمایت کرتی ہے کہ یہ شائع کیا جائے کہ کتنے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔وزیرِ اعظم کے ترجمان نے کہا کہ ڈی ایچ ایس سی اب یہ شائع نہیں کرے گی کہ کتنے لوگوں کو ٹیسٹ کیا جا رہا ہے بلکہ وہ شائع کرے گی کہ روزانہ کتنے ٹیسٹ پراسیس کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ روزانہ ٹیسٹنگ کا ڈیٹا صرف یہ بتاتا ہے کہ کتنے نئے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ مثلا اگر کسی کو فروری میں ٹیسٹ کیا گیا اور پھر دوبارہ اس ماہ ٹیسٹ کیا گیا تو اسے صرف ایک ہی تصور کیا جائے گا۔ برطانوی حکومت نے انکشاف کیا ہے کہ ملک میں لاکھوں کورونا وائرس ٹیسٹ ریکارڈ ہی نہیں کیے جا رہے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ سوشل کیئر (ڈی ایچ ایس سی) نے بتایاکہ جب سے ٹیسٹنگ شروع ہوئی ہے ایک کروڑ 50 لاکھ کے قریب ٹیسٹ کیے گئے ہیں، لیکن ان میں سے 80 لاکھ کے قریب ہی پراسیس کیے جا سکے ہیں۔20 لاکھ سے زیادہ یا پانچ میں سے ایک ٹیسٹ، یا تو لیبارٹری میں بھیجے ہی نہیں گئے یا پھر غلط قرار دیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں