بدھ 13 نومبر 2019ء
بدھ 13 نومبر 2019ء

ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی ٹیم کی نیوزی لینڈ پرمتنازع انداز میں باؤنڈری کے قانون کے فتح کے بعد آئی سی سی نے بڑا فیصلہ سنادیا

دبئی (این این آئی)رواں سال ورلڈ کپ میں انگلینڈ کی ٹیم کی متنازع انداز میں باؤنڈری کے قانون کے فتح کے بعد انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) نے اس قانون کو ختم کردیا ہے اور اب مقابلہ برابر ہونے کی صورت میں سپر اوور پر میچ ٹائی ہو گا۔تفصیلات کے مطابق رواں سال انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلا گیا ورلڈ کپ فائنل کا میچ ٹائی ہو گیا تھا جس کے بعد میچ کا فیصلہ سپر اوور میں کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ سپر اوور میں بھی ٹائی ہو گیا تھا جس کے بعد googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); میچ میں زیادہ باؤنڈریز کی بنیاد پر انگلینڈ کو فاتح قرار دیا گیا تھا۔یہ ون ڈے کرکٹ کی تاریخ میں پہلا موقع تھا کہ کسی میچ کا فیصلہ کرنے کے لیے سپر اوور کا انتخاب کیا گیا اور سپر اوور میں بھی مقابلہ ٹائی ہونے پر انگلینڈ زیادہ باؤنڈریز کی بنیاد پر چمپئن بن گیا۔ورلڈکپ فائنل کا فیصلہ اس متنازع قانون کے ذریعے ہونے پر کرکٹرز اور ماہرین نے اس قانون کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے آئی سی سی سے اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔دبئی میں ہونے والے آئی سی سی کے اجلاس میں ورلڈ کپ کے سیمی فائنل اور فائنل کے لیے باؤنڈری کاؤنٹ کا قانون ختم کردیا گیا ہے اور اب میچ برابر ہونے کی صورت میں ہر حال ہی میں سپر اوورز کے ذریعے ہی میچ کا فیصلہ کیا جائے گا۔آئی سی سی کے مطابق سپر اوور برابر ہونے کی صورت میں اب پھر سے سپر اوور کرایا جائے گا اور جب تک میچ کا فیصلہ نہ ہو سپر اوور ہوتے رہیں گے تاکہ مقابلے کی فضا برقرار رہے اور زیادہ رنز بنانے والی ٹیم ہی اصولی بنیادوں پر فاتح ہو۔ادھر آئی سی سی نے اپنے اجلاس کے دوران زمبابوے اور نیپال کی رکنیت بھی بحال کرنے کا اعلان کیا۔انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے زمبابوے کرکٹ کے معاملات میں حکومتی مداخلت کے سبب زمبابوے کی رکنیت کو فوری طور پر معطل کردیا تھا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں