بدھ 24 جولائی 2019ء
بدھ 24 جولائی 2019ء

سرفراز نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کیوں نہیں کی؟:وسیم اکرم نے بڑے سوال اُٹھادیئے،شعیب اختر کی حسن علی پر شدید تنقید

مانچسٹر( آن لائن)سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے کہا ہے کہ وہ ٹیم پر تنقید کرتے کرتے تھک گئے ہیں، سمجھ نہیں آرہی کہ پانچ بالرز کے ساتھ میدا ن میں جاتے وقت ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کیوں نہیں کی؟،جب آپ 5 بالرز کے ساتھ جاتے ہیں تو اس کا مطلب ہے آپ ایک بیٹسمین کم کر رہے ہیں۔وسیم اکرم نے ورلڈ کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی ایک اور شکست پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کیخلاف میچ میں ایورج سکور260تک تھا، وہ لنکاشائر کانٹی کے لیے کھیلے ہوئے ہیں،پاکستانی کھلاڑی نے میچ سے قبل googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مشورہ نہیں لیا، اگر کوئی پوچھتا تو وہ ضرور بتاتے، ورلڈ کپ کے دوران بس ایک بار شاہین شاہ آفریدی ان کے پاس بات کرنے کے لیے آئے تھے۔ٹورنامنٹ میں پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ وہ کسی کو مایوس نہیں کرنا چاہتے لیکن ورلڈ کپ میں پاکستان کا سفر کافی مشکل ہوگیا ہے۔اب 4 میچز جیت کر بھی معاملات اپنے ہاتھ میں نہیں،ایسی صورتحال بہت گمبھیر ہوتی ہے جب آپکو اپنے تمام میچز جیتنے ہوں اور دیگر ٹیموں کے رزلٹ پر بھی انحصار کرنا ہے۔وسیم اکرم نے پاکستانی فیلڈرز پر شدید تنقیدکرتے ہوئے کہا کہ اس کیلئے حاضر دماغی بہت ضروری ہے، فیلڈنگ میں جان لگانا پڑتی ہے، پاکستانی کھلاڑی کبھی دستانے پہن کر اور کبھی انرز پہن کر فیلڈنگ کی پریکٹس کرتے ہیں، ایسا اور کہاں ہوتا ہے؟ جب دستانے پہن کر پریکٹس کریں گے تو کنڈیشن میں ایڈجسٹ کیسے ہوں گے۔راولپنڈی ایکسپریس شعیب اختر نے قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کو ریلو کٹا قرار دے دیا۔آئی سی سی ورلڈ کپ کے سلسلے میں گزشتہ روز ہونیوالے میچ میں بھارتی ٹیم کے ہاتھوں شکست کھانے پر ایک جانب پاکستانی غم و غصے کا شکار ہیں تو وہیں سابق کھلاڑی بھی خراب کاکردگی اور غلط فیصلوں پر سراپائے احتجاج بنے نظر آرہے ہیں۔بھارت سے شرمناک ہار پر شعیب اختر نے تبصرہ کرتے ہوئے سبھی کھلاڑیوں کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے انکی غلطیاں گنوائیں۔شعیب اختر کا کہنا ہے کہ ہم بھارت کے خلاف ٹاس جیت کر آدھا میچ جیت گئے تھےمگر آپ نے کوشش کی کہ ہم یہ میچ نہ جیتیں، بھارت سے بیٹنگ کروا کر ہم نے ویرات کوہلی کی غلطیاں دہرائی جو انہوں نے چیمپئنز ٹرافی کے دوران کی تھیں۔شعیب نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ کوئی اتنا کند ذہن کپتان کیسے ہو سکتا ہے جسے معلوم ہو کہ ہم رن ریٹ حاصل نہیں کر سکتے، سرفراز کوعلم ہونا چاہئے تھا کہ ہماری بیٹنگ لائن اپ ہماری طاقت نہیں بلکہ ہماری بالنگ اس سے بہتر ہے، ہم نے 5 بالرز کھلائے جو کوئی پرفارمنس نہیں دے سکے،پاکستانی ٹیم کے کھیل میںکوئی پلاننگ نظر نہیں آئی، سب کھلاڑی ایک جیسی بلے بازی کر رہے تھے۔شعیب اختر نے حسن علی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آپ واہگہ بارڈر پر چھلانگیں لگاتے ہو، گرانڈ میں زور لگا، آپکی طاقت اور ہمت کی ضرورت گرانڈ میں ہے، یہ حرکتیں اسوقت اچھی لگتی ہیں جب آپ 6، 7 وکٹیں لیں، آپ نے تو 84 رنز دے دیئے۔سپیڈ سٹار نے محمد عامر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے دیر سے وکٹیں لیں، عامر اچھے بالر ہیں لیکن ضرورت کے وقت انہوں نے وکٹ نہیں لی اور بعد میںانکی وکٹوں کا ہمیں کوئی فائدہ نہیں ہوا۔شعیب اختر نے چیف سلیکٹر انضمام الحق کے بھتیجے امام الحق کے بارے میں کہا کہ اس کو بیٹنگ کی تکنیک کی الف ب تک نہیں پتا، وہ سپنر اور پیسر کو ایک انداز میں کھیلتے ہیں،وہ اب تک کوئی خاص رنز نہیں بنا سکے، نہ ہی کوئی ہٹ مار سکے۔43 سالہ شعیب اختر نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان ہم سے جب بھی جیتا ہے اپنی بالنگ کی وجہ سے جیتا ہے، ہماری بیٹنگ لائن ہمیشہ بھارتی بالنگ کے سامنے فیل ہوئی ہے، یہ تاثر غلط ہے کہ آپکی بیٹنگ نہیں آپکی بالنگ آپکو جتاتی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں