هفته 15  اگست 2020ء
هفته 15  اگست 2020ء

پی سی بی کا دانش کنیریا اورسلیم ملک کو کلین چٹ دینے سے انکار

لاہور ( آن لائن ) پی سی بی نے پابندی کے خاتمے کیلئے دانش کنیریا اور سلیم ملک کی درخواستوں کا بغور مطالعہ کرنے اور جائزہ لینے کے بعد دونوں کھلاڑیوں کو انفرادی طور پر جواب دے دیا ہے۔ پی سی بی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ دانش کنیریا کو بتایا گیا کہ ان پر ای سی بی کے ڈسپلن کمیشن نے تاحیات پابندی عائد کی ۔جس کی وجہ ساتھی پلیئر میرون ویسٹ فیلڈ کو جان بوجھ کر درہم کیخلاف میچ میں اہلیت سے کمتر کارکردگی کی ترغیب دینا تھی۔دانش کنیریا کو آگاہ کیا گیا کہ ڈسپلن کمیشن googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کے اپیل پینل نے ان کی درخواست کے جواب میں اپنا فیصلہ برقرار رکھا جبکہ لندن ہائی کورٹ کی کمرشل بنچ نے اپیل خارج کردی اور پھر سول ڈویڑن عدالت میں بھی ان کی اپیل مسترد کردی گئی لہٰذا وہ آئی سی سی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق نمبر 6.8 کے تحت ای سی بی سے رجوع کریں کیونکہ کھلاڑی کو کھیل میں واپسی کی اجازت دینے کا اختیار اینٹی کرپشن پینل کے سربراہ کو حاصل ہے جنہوں نے فیصلہ سنایا تھا جبکہ پی سی بی اینٹی کرپشن کوڈ کی شق نمبر 9 کے تحت دیگر رکن ممالک کی طرح سزا کو برقرار رکھنے کا پابند ہے۔پی سی بی کی جانب سے مزید وضاحت کی گئی کہ بحالی پروگرام تاحیات پابندی کے شکار پلیئرز کیلئے نہیں بلکہ ان کھلاڑیوں کیلئے ہے جو پابندی کا عرصہ مکمل کرنے پر انہیں پیش کیا جاتا ہے۔سابق قومی کپتان سلیم ملک کو جواب دیا گیا ہے کہ وہ اپریل دو ہزار میں ہونے والی ایک گفتگو کے مندرجات کا جواب دینے میں ناکام رہے اور ایسی صورت میں پی سی بی مزید کارروائی نہیں کر سکتا جب تک اس معاملے پر موثر جواب نہ دیا جائے کیونکہ ان کی جانب سے ماضی میں دیا گیا جواب غیرمتعلقہ اور غیراطمینان بخش ہے۔پی سی بی کی جانب سے مزید وضاحت کی گئی کہ ٹرانسکرپٹ کے جواب سے اجتناب پانچ مئی دو ہزار چودہ کے اس اعتراف کو بھی تندیل نہیں کرسکتا جس میں سلیم ملک نے پی سی بی کو ارسال کردہ خط میں لکھا تھا کہ ’’مشاورت اور آزادانہ مرضی کے ساتھ میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اپنی غلطی تسلیم کرلی جائے لہٰذا شائقین سے معافی مانگتے ہوئے بحالی پروگرام شروع کرنا چاہتا ہوں۔میں فیصلے کے انجام سے واقف اور پی سی بی کے علاوہ آئی سی سی سے مکمل تعاون کیلئے تیار ہوں اور درخواست ہے کہ آئی سی سی سے بات چیت کر کے بحالی پروگرام جلد شروع کرایا جائے۔‘‘

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں