هفته 15  اگست 2020ء
هفته 15  اگست 2020ء

نسلی تعصب ویسٹ انڈین معروف کرکٹر اپنے والدین کے ساتھ ہونے والے واقعہ پر آبدیدہ ہوگئے

جمیکا( آن لائن )ویسٹ انڈیز کے معروف کرکٹر مائیکل ہولڈنگ نسلی تعصب پر بات کرتے ہوئے اپنے والدین کے ساتھ ہونے والے واقعے پر آبدیدہ ہوگئے۔ویسٹ انڈیز کے 66 سالہ لیجنڈ کھلاڑی ساؤتھمپٹن میں ہونے والے ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے درمیان میچ سے قبل عالمی سطح پر نسلی تعصب کے خلاف جدو جہد 'بلیک لائیوز میٹر' (سیاہ فام افراد کی زندگی کی اہمیت) پر بات کرتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ ایک انٹرویو کے دوران جبان سے سوال کیا گیا کہ اس لمحے انہیں کیسا لگا تھا تو ان کی آواز ٹوٹنے لگی۔ان کا کہنا تھا کہ 'سچ کہوں تو یہ googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); جذباتی لمحہ اس لیے پیش آیا کیونکہ میں اپنے والدین کے بارے میں سوچنے لگا تھا اور یہ خیال مجھے پھر سے آرہا ہے'۔وہ اپنی بات جاری رکھنے سے قبل ٹھہرے اور دم بھرا پھر کہا کہ 'مجھے معلوم ہے کہ میرے والدین پر کیا گزری ہے'۔ان کا کہنا تھا کہ 'میری والدہ کے گھر والوں نے ان سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دی تھی کہ ان کا شوہر بہت سیاہ تھا'۔انہوں نے اپنے آنکھوں سے آنسو پوچھتے ہوئے کہا کہ 'میں جانتا ہوں کہ ان پر کیا گزری ہے اور پھر اس کا سامنا مجھے بھی کرنا پڑا تھا'۔انہوں نے سالوں نسلی تعصب کا سامنا کرنے کے بارے میں بتایا کہ جس میں وہ اور ان کے سفید فام دوست کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ جنوبی افریقہ میں ایک ساتھ ہوٹل میں بکنگ نہیں کریں گے'۔انہوں نے کہا کہ 'جب ہم اس طرح کے معاشرے میں نہیں رہتے ہیں تو ہم اس پر ہنستے ہیں اور کبھی کبھی میں اپنے دماغ میں خود کو برا تصور کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتا ہوں لیکن میں ہمیشہ ہنستا، خود کو برا تصور کرتا اور آگے بڑھتا نہیں رہ سکتا'۔انہوں امید ظاہر کی کہ ادارہ جاتی نسلی تعصب کو 'پردے کے پیچھے چھپایا نہیں جائے گا' اور ایک بار پھر انہوں نے سیاہ تاریخ کے بارے میں بہتر تعلیم کے لیے زور دیا۔انہوں نے کہا کہ 'مجھے امید ہے کہ لوگ ٹھیک سے سمجھیں گے کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور میں کہاں سے آرہا ہوں، میں 66 سال کا ہوں، میں نے یہ دیکھا ہے، میں اس سے گزر رہا ہوں اور میں نے دوسرے لوگوں کو بھی اس کا سامنا کرتے دیکھا ہے'۔مائیکل ہولڈنگ کا کہنا تھا کہ 'یہ اس طرح جاری نہیں رہ سکتا، ہمیں سمجھنا ہوگا کہ دوسرے بھی انسان ہی ہیں'۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں