جمعرات 14 نومبر 2019ء
جمعرات 14 نومبر 2019ء

پاکستان کب تک ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہی رہے گا؟مزید کون سے اقدامات کرنے ہونگے؟ ایف اے ٹی ایف کا اعلامیہ جاری،کڑی شرائط عائد

پیرس/اسلام آباد (این این آئی)فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کی جانب سے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کو تسلیم کرتے ہوئے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ 4 ماہ (فروری 2020) تک پاکستان گرے لسٹ میں ہی رہے گا۔پیرس میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس کے اختتام پر ٹاسک فورس کے صدر شیانگ من لو نے پریس کانفرنس کی اور اس بات کے بارے میں بتایا کہپاکستان کو مزید 4 ماہ کے لیے اسی فہرست میں رکھا جائے گا۔ایف اے ٹی ایف کے بیان کے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مطابق 'اسلام آباد کو ہدایت کی گئی وہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے مکمل خاتمے کے لیے مزید اقدامات کرے۔پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پاکستان کے اقدامات پر فروری 2020 میں دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ٹاسک فورس کی جانب سے بیان میں کہا گیا کہ ایف اے ٹی ایف پاکستان پر زور دیتا ہے کہ وہ فروری 2020 تک اپنے مکمل ایکشن پلان کو تیزی سے پورا کرے۔کہا گیا کہ اگر اس نے آئندہ اجلاس تک اپنے ایکشن پر مکمل طریقے سے موثر اور نمایاں پیش رفت نہ کی تو ایف اے ٹی ایف کارروائی کریگا۔بیان میں کہا گیا کہ جون 2018 سے جب پاکستان نے انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خاتمے (سی ٹی ایف) کو مضبوط بنانے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے متعلق خامیوں کو دور کرنے کے لیے ایف اے ٹی ایف اور ایشیا پیسیفک گروپ (اے پی جی) کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا تھا، جس کے بعد سے پاکستان نے اے ایم ایل/ سی ایف ٹی سے متعلق کافی پیش رفت کی۔اعلامیے کے مطابق پاکستان نے اپنے ایکشن پلان اور اے ایم ایل/ سی ایف ٹی اصلاحات پر عملدرآمد کرنے کے لیے اپنے سیاسی عزم کا اعادہ کیا۔ایف اے ٹی ایف کے مطابق پاکستان کو اسٹیریٹجک خامیوں کو دور کرنے کے لیے اس کے ایکشن پلان پر عملدرآمد جاری رکھنا چاہیےتاہم حالیہ بہتریوں کو تسلیم کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف نے ایک مرتبہ پھر پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کے لیے مالی معاونت کے خطرات کو دور کرنے سے متعلق پیش رفت میں مجموعی کمی پر تشویش کا اظہار کیا جس میں پاکستان کے بین الاقوامی ٹیرر فنانسنگ خطرات کو سمجھنے میں کافی حد تک فہم کا مظاہرہ کرنے میں باقی رہنے والی خامیاں بھی شامل ہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان نے اب تک 27 ایکشن نکات میں سے بڑے پیمانے پر صرف 5 پر عمل کیا جبکہ باقی ایکشن پلان پر کی گئی پیش رفت کی سطح مختلف ہیں۔دوسری جانب پاکستان کی وزارت خزانہ کی جانب سے اس اعلان کے بعد بیان جاری کیا گیا۔بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان پر عمل درآمد کے عزم کا دوبارہ اظہار کرتا ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 13 سے 18 اکتوبر 2019 تک پیرس میں ہوا، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر برائے اقتصادی امور ڈویژن محمد حماد اظہر نے کی۔مذکورہ بیان میں بتایا گیا کہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان اور پاکستان کی اے پی جی میوچل ایوالوشن رپورٹ (ایم ای آر) پر پاکستان کی کارکردگی کا جائزہ لیا۔اجلاس میں پاکستانی وفد نے ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کے لیے سیاسی عزم کا اظہار کیا، جس کے بعد اجلاس میں ایف اے ٹی ایف ایکشن پلان پر جمود برقرار رکھنے اور اے پی جی ایم ای آر کے لیے 12 ماہ کے مشاہدے کی مدت کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔وزارت خزانہ کے مطابق وفد نے اجلاس کی سائڈ لائن پر مختلف ملاقاتیں کیں اور پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان اور اے ایم ایل/سی ایف ٹی فریم ورک کو مضبوط کرنے سے متعلق اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں بتایا۔بیان کے مطابق یو این او ڈی سی اور اے پی جی سیکریٹریٹ کے اشتراک سے پاکستان کی تکنیکی مددد اور تربیت کی ضروریات سے متعلق ایک اجلاس بھی منعقد کیا گیا، جس میں چین، امریکا، برطانیہ، کینیڈا، جاپان، یورپین یونین، عالمی بینک، آئی ایم ایف، اے ڈی پی اور یو این او ڈی سی سمیت مختلف ممالک اور کثیرالجہتی ایجنسیوں نے شرکت کی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں