اتوار 15  ستمبر 2019ء
اتوار 15  ستمبر 2019ء

پی ٹی آئی کا حال (ق) لیگ سے بھی برا ہو گا،ترقی کا نسخہ اور ٹیم صرف (ن) لیگ کے پاس ہے،ن لیگ حکومت کے سامنے ڈٹ گئی

لاہور(این این آئی)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے رہنماؤں نے کہا ہے کہ پاکستان کی سالمیت اورعوام کی خوشحالی کو خطرات کی نذر کر دیا گیا ہے،ملکی سالمیت اور عوامی خوشحالی کے تمام راستے کوٹ لکھپت جیل کی طرف جاتے ہیں،نواز شریف کو دوبارہ وہی ذمہ داری سونپی پڑے گی تو ہی ملک کی ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہو گا،عمران خان نے آج تک یونین کونسل نہیں چلائی لیکن سازش کے ذریعے 20کروڑ عوام کا وزیر اعظم بن گیا،ہر بڑے منصوبے پر (ن) لیگ کی مہر لگی ہوئی ہے،ترقی کا نسخہ اور ٹیم صرف (ن) لیگ کے پاس ہے،ملک نے آگے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); بڑھنا اور بہترین معیشت بننے کا قائد کا خواب پورا کرنا ہے تو اس کا راستہ نئے انتخابات ہیں،2020 نئے انتخابات کا سال ہے،پی ٹی آئی کا حال (ق) لیگ سے بھی برا ہو گا،اگر نواز شریف نے ڈیل کرنا ہوتی تو وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ جیل کاٹنے لندن سے واپس پاکستان نہ آتے،بیگم کلثوم نواز کی جمہوریت کیلئے گرا نقدر خدمات ہیں،انہوں نے مشکل وقت میں جمہوریت کا علم اٹھایا۔ان خیالات کا اظہار مقررین نے مسلم لیگ (ن) لاہور کے زیر اہتمام قائد اعظم محمد علی جناح اور بیگم کلثوم نواز کی برسی کی مناسبت سے ”قائد اعظم محمد علی جناح کا جمہوری پاکستان“کے موضوع پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔سیمینار سے سیکرٹر ی جنرل احسن اقبال،مرکزی رہنما پرویز سینیٹر رشید،سینیٹر آصف کرمانی، لاہو رکے صدر پرویز ملک،،شائستہ پرویز ملک،خواجہ عمران نذیر سمیت دیگرنے بھی خطاب کیا۔احسن اقبال نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لئے بہت اہم دن ہے،آج قائد اعظم اور بیگم کلثوم نواز کی برسی کا بھی دن ہے۔بیگم کلثوم نواز جمہوریت کے قافلے کی اہم رہنما اور قائد اعظم کے نظریات کی سچی پیروکار تھیں۔انہوں نے کہاکہ آج ہم اس ملک میں آئین کی بالادستی کی جنگ لڑ رہے ہیں،عوام کی حکمرانی کی بات کرنے والا کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے،قائد اعظم نے عوام کی حکمرانی والا نظام حکومت چلانے کے لئے ملک حاصل کیا تھا،آج پاکستان اقتصادی اور معاشی محاذ پر ہچکولے کھا رہا ہے،ہم نے اس ملک اور اس کی معیشت کو بڑی مشکل سے پیروں پر کھڑا کیا،دنیا بھر کے ادارے ہماری ترقی کی گواہی دے رہے تھے،آج ہماری معاشی ترقی کو ایک سال میں کریش کر کے معاشی تنزلی کا عالمی ریکارڈ بنا دیا گیا،بھارت،بنگلہ دیش اور سری لنکا ہم سے پیچھے تھے لیکن آج وہ ہم سے آگے نکل چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سی پیک کے منصوبوں سے ترقی اورلاکھوں روزگار کے مواقع پیدا ہونے تھے لیکن ایک سال میں 10 لاکھ افراد کو بیروزگار کر دیا گیا ہے،ایک سال میں 4 لاکھ مزید افراد کو خط غربت سے مزید نیچے دھکیل دیا گیا ہے۔اس حکومت نے ملکی تاریخ کا سب سے بڑا خسارہ پیدا کر کے ملکی ترقی اورسالمیت کے لئے خطرات پیدا کر دئیے ہیں،ہمیں کہا جاتا تھا کہ 5 سالوں میں 10 ہزار ارب روپے قرضہ لیا،لیکن ہم نے اس سے موٹر ویز اور بجلی کے منصوبے لگائے۔موجودہ حکومت نیایک سال میں ہم سے زیادہ قرضے لے لئے ہیںلیکن ایک اینٹ بھی نہیں لگائی۔ملک سے سرمایہ اور دماغ بھاگ رہا ہے کیونکہ یہاں لوگوں کو انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا کر تذلیل کی جا رہی ہے،اس تنزلی کو نہ روکا گیا اور یہی معمول جاری رہا تو ہمیں اپنی خود مختاری کا سودا کرنا پڑ جائے گا،اقتصادی دیوالیہ پن سے ملکی سلامتی کو خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کا راستہ روکیں اور نواز شریف کی قیادت میں دوبارہ ترقی کا سفر شروع کریں،تاریخ نواز شریف کی بے گناہی اور سچائی کی گواہی دے گی،نواز شریف کیس کی حقیقت جج ارشد ملک کیس کے ذریعے پوری دنیا کو پتہ لگ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مقبوضہ کشمیر میں مظالم کی بات کیسے کر سکتے ہیں جب ملک میں انصاف کے پیمانے ایسے ہوں،ہمیں کشمیر میں ظلم کی بات تب کرنی چاہیے جب ملک میں بھی مکمل انصاف مل رہا ہو۔مجھے عدلیہ اور نظام عدل پر مکمل یقین ہے کہ نواز شریف سے ہونے والی زیادتی کا ازالہ کیا جائے گا۔نواز شریف کی اہلیہ کینسر کے مرض کے باعث بستر مرگ پر تھیں لیکن انہیں زچ کرنے کے لئےروزانہ عدالت طلب کیا جاتا رہا،وہ قانون کے سامنے سرنگوں کرتے رہے،اپنی ذات اور رشتوں کی قربانی دے کر قانون کے سامنے سرنڈر کرتے رہے۔ووٹ کو عزت دینے کے لئے نواز شریف بیمار بیوی کو چھوڑ کر سزا کاٹنے بیٹی کے ساتھ ملک واپس آ گئے۔ انہوں نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ مصنوعی دور بہت جلد ٹل جائے گا،نااہل اور ناتجربہ کار دل تو بہلا سکتے ہیں لیکن کار یا جہاز کو چلا نہیں سکتے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے آج تک یونین کونسل نہیں چلائی لیکن سازش کےذریعے 20کروڑ عوام کا وزیر اعظم بن گیا،اس حکومت کو اتنی مدد ملی لیکن ایک سال سے اس حکومت سے جہاز نہیں اڑ پا رہا،یہ کسی اور طرح کے جہاز اڑا سکتے ہوں گے، معیشت کے جہاز یہ نہیں اڑا سکتے۔ہم نے 5 سالوں میں بڑی سازشوں کا سامنا کیا لیکن ملک کو آگے لے کر گئے۔ ہم نے آپریشن ضرب عضب کیا، دھرنا 2 دیکھا لیکن ملک کو ترقی کی راہ پر ڈالا اور اندھیرے ختم کئے،جتنی ٹھنڈی ہوائیں اس حکومت کو ملیں، ہمیں ملی ہوتیں تو ہم ترقی کے نئے ریکارڈز بنا دیتے،یہ ایسے بدنصیب ہیں کہ انہوں نے معاشی ترقی کی بجائے تنزلی کی،آئین اور قانون کی بالادستی، نفرت کا خاتمہ اور غربت بیروزگاری اور جہالت کا خاتمہ کر کے ہی قائد کا پاکستان بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم لیگ (ن) ہی اس ملک کو قائد اعظم کے نظریے کے مطابق بنا اور چلا سکتی ہے۔ہم نے مجموعی طور پر اپنے 9 سالہ دور حکومت میں ایٹمی طاقت بنایا، موٹر ویز بنائیں، بجلی کے منصوبے بنائے،ہر بڑے منصوبے پر (ن) لیگ کی مہر لگی ہوئی ہے،ترقی کا نسخہ اور ٹیم صرف (ن) لیگ کے پاس ہے،سازش کے ذریعے آنے والا یہ ٹولہ بے نقاب ہو چکا،اس ملک نے آگے بڑھنا اور بہترین معیشت بننے کا قائد کا خواب پورا کرنا ہے تو اس کا راستہ نئے انتخابات ہیں،2020 نئے انتخابات کا سال ہے،پی ٹی آئی کا حال (ق) لیگ سے بھی برا حال ہو گا، ان کی ٹکٹ لینے والا کوئی نہیں ہو گا،ان کے قائدین آزاد انتخابات لڑنے پر مجبور ہوں گے،بہت جلد ملک پاکستان مسلم لیگ (ن) کا ہو گا۔سینیٹر پرویز رشید نے کہا کہ تمام لیگی کارکنان نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز کی سیاسی جدوجہد سے نہ صرف واقف ہیں بلکہ اس کا طویل عرصے سے حصہ بھی رہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف کی سالگرہ اور قائد اعظم کا یوم پیدائش،قائداعظم اور بیگم کلثوم کا یوم وفات کا دن ایک ہی ہے،یہ اعزاز کسی جماعت کو حاصل نہیں،پاکستان کو بنانے والا اور سنوارنے والا ایک ہی دن پیدا ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر کیخلاف انسانی تاریخ کی سب سے بڑی جدوجہد امام حسین علیہ السلام نے کی،امام حسین اور بیگم کلثوم نواز ایک ہی دن دنیا سے رخصت ہوئیں،ہماری نسبتیں عظیم ہستیوں سے ہے جو قیام پاکستان کا سبب بنتی ہیں اور ظلم و جبر کیخلاف جدوجہد کا بھی سبب بنتی ہیں،قید، زنجیریں اور جھوٹے مقدمات کبھی سچ کا راستہ نہیں روک سکتے،یزیدیت محرم الحرام میں دفن ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ نواز شریف سچائی کا پرچم اٹھائے جلد جیل سے رہا ہوں گے،ہم آج اپنے کسی کارکن کو بھولے نہیں ہیں،ہم نواز شریف کے ساتھ ساتھ مریم نواز، حمزہ شہباز، خواجہ سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی، کامران مائیکل، خواجہ سلمان رفیق، رانا ثنا اللہ سمیت سب کو یاد کرتے ہیں،ہمارا راستہ بیگم کلثوم نواز سمیت ان رہنماؤوں والا راستہ ہے،لیگی کارکنوں نے ملک بھر میں مسلم لیگ (ن) کا علم بلند کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج حکومت میں ہمت نہیں کہ بلدیاتی انتخابات کروا سکے کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ تحریک انصاف کونسلر کا الیکشن بھی نہیں جیت سکتی۔آج پہلی بار ہوا ہے کہ نواز شریف نے جس کو بھی اپنے نشست پر بٹھایا وہ اپنے قائد کی طرح ثابت قدم رہا،نواز لیگ کے کسی رہنما کے قدم کبھی نہیں لڑکھڑائے،کسی نے امین اور صادق رہنما دیکھنے ہوں تو مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کو دیکھ لے،جس جماعت کو لیگی کارکنوں جیسے کارکن میسر ہوں اسے نہ کوئی ہرا سکتا ہے اور نہ مٹا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہم قائد اعظم کے شکرگزار ہیں جنہوں نے ہمیں آزادی کی نعمت سے سرفراز کیا،آج ہم اپنے تمام لیگی رہنماوں کی رہائی کے لئے یکسو ہیں،تمام لیگی رہنما اور کارکن نواز شریف کی توقع پر پورا اترے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ آج پاکستان کی سالمیت اورعوام کی خوشحالی کو خطرات کی نذر کر دیا گیا ہے۔ملکی سالمیت اور عوامی خوشحالی کے تمام راستے کوٹ لکھپت جیل کی طرف جاتے ہیں،نواز شریف کو دوبارہ وہی ذمہ داری سونپی پڑے گی تو ہی ملک کی ترقی کا سفر دوبارہ شروع ہو گا،جس کو حکومت دی گئی اس نے ملک کو نالائقی اور نااہلی کے سوا کچھ نہیں دیا،نواز شریف کو دوبارہ لانا ضروری ہے۔پرویز ملک نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آج کے دن قائداعظم کے وژن کے مطابق پاکستان کو سنوارنے کا عزم ہے،بیگم کلثوم نواز کی جمہوریت کیلئے گرا نقدر خدمات ہیں،بیگم کلثوم نواز نے مشکل وقت میں جمہوریت کا علم اٹھایا،مسلم لیگ (ن) سمیت تمام سیاسی جماعتیں ان کی جمہوری خدمات کو تسلیم کرتی ہیں،قوم قائد اعظم اور کلثوم نواز کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔آصف کرمانی نے کہاکہ قائد اعظم کے بارے میں کچھ کہنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہے۔پاکستان ووٹ کی طاقت اور اس کی عزت کی وجہ سے وجود میں آیا،آج اسی ووٹ کی عزت کی خاطر نواز شریف اور دیگر لیگی رہنما جیلوں میں ہیں۔بیگم کلثوم نواز نیک شہرت، اعلی تعلیم یافتہ اور درد دل رکھنے والی خاتون تھیں،بڑوں سے احترام اور چھوٹوں سے شفقت کے ساتھ ساتھ مشرف آمریت کو للکارنا بیگم کلثوم نواز کا خاص شیوہ تھا،بیگم کلثوم نواز نے مشرف آمریت میں تن تنہا نکل کر اسے جھکنے پر مجبور کر دیا۔نواز شریف اور بیگم کلثوم نواز میں بے پناہ عزت و احترام والا رشتہ تھا، وہ ہمیشہ ذکر خدا میں مصروف رہتی تھیں۔بیگم کلثوم نواز کی بیماری کا بھی کچھ بدبختوں نے تمسخر اڑایا۔ نواز شریف مشاورت پر بے پناہ یقین رکھتے ہیں اور بیگم کلثوم نواز بہترین قیمتی اور نادر مشورے دیتی تھیں۔نواز شریف کو ایسے جرم میں جیل میں پھینک دیا گیا ہے جو انہوں نے کبھی کیا ہی نہیں۔اگر نواز شریف نے ڈیل کرنا ہوتی تو وہ اپنی بیٹی کے ہمراہ جیل کاٹنے لندن سے واپس پاکستان نہ آتے۔آج پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہے۔موجودہ دور مشرف کی آمریت سے بھی بدترین دور ہے۔اس حکومت نے ایک سال میں ملک کا ستیاناس کر دیا ہے۔کچھ لوگوں نے اپنے عہدے بچانے کے لئے نواز شریف کا ساتھ چھوڑا ہے۔ایسے لوگوں کو اپنی صفوں سے نکال کر باہر پھینک دیا جائے۔نواز شریف ایک نظریے کا نام ہے جو ملک بھر میں پھیل چکا ہے۔حکمران اب بھی ہوش کے ناخن لیں شیر نہ صرف چوتھی مرتبہ بلکہ بار بار آئے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں