جمعه 25  ستمبر 2020ء
جمعه 25  ستمبر 2020ء

شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا، لہجہ وزیر خارجہ نہیں گدی نیشن والا تھا ، وزارت چھوڑنے کا کہہ دیا گیا

لاہور (آن لائن) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستا ن کے سربراہ سینیٹر پروفیسر ساجد میر نے کہا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے سعودی عرب کو دھمکی دے کر احسان فراموشی کا مظاہرہ کیا، شاہ محمود قریشی کا لہجہ وزیر خارجہ والا نہیں بلکہ گدی نیشن والا تھا، وہ شاید سمجھتے ہیں کہ سب ممالک ان کے مرید ہیں، سعودی عرب تو ویسے بھی پیری مریدی کے دھندے کو نہیں مانتا، انہیں اگر سفارتی اخلاقیات کا لحاظ نہیں ہےتو وہ وزارت چھوڑیں گدی نشینی کریں جو ان کے خاندان کا کام ہے، انہیں اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہے googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کہ ان کے بیان نے ملک کو کتنا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ مرکز اہل حدیث میں گزشتہ عرصے میں وفات پاجانے والے علما ء کے تعزیتی ریفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ ساجد میر کا کہنا تھا کہ ہم مدد سعودی عرب سے لیتے ہیں اور گیت ان کے دشمنوں کے گاتے ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے احسانات کا بدلہ نہیں چکا سکتا۔سعودی عرب اور پاکستان لازم وملزوم ہیں۔ سعودی عرب سے تعلقات کی خرابی میں ایک مخصوص ٹولا ہے جو وزیر اعظم کے ارد گرد جمع رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ کے بیان پر وزیر اعظم کو اپنی پوزیشن واضح کرنی چاہیے۔ پاکستان کے محسن ملک سعودی عرب کی ناراضگی ہمارے لیے لمحہ فکر یہ ہے۔ اہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ 2018 میں پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا سعودی عرب دنیا کا واحد ملک تھا جس نے اس وقت ہمیں تین ارب ڈالر قرض بھی دیا تھا اورساڑھے نو ارب ڈالر کا ادھار پٹرول دینے کا وعدہ بھی کیا تھا پھر سعودی عرب میں 25لاکھ پاکستانی بھی کام کرتے ہیں اور یہ لوگ ہر ماہ ہمیں سب سے زیادہ فارن ایکس چینج بھجواتے ہیں لہذا سعودی عرب صرف ہمارا دوست نہیں بلکہ یہ ہماری مجبوری بھی ہے۔ دانائی کا تقاضا تھا کہ مخالفت اور عداوت کے ماحول میں اپنا مفاد دیکھا جاتا ہمیں سعودی عرب میں موجود اپنے 25لاکھ ورکرزپر توجہ دینی چاہیے اور سعودی عرب سے ملنے والے ادھار تیل اور تین ارب ڈالرز کو نظر میں رکھنا چاہیے تھا لیکن وزارت خارجہ نے سفارتی حماقت کی انتہا کردی ہے۔ پھر ماضی میں ہر مصیبت کے وقت وہ کام آیا۔ایٹمی دھماکوں کے وقت جب دنیا پاکستان کے اقتصادی بائیکاٹ کی دھمکیاں لگا رہی تھی۔ہمارے ساتھ تنہا سعودی عرب کھڑا تھا جس نے خزانوں اور تیل کے منہ کھول دیے تھے۔زلزلہ ہو یاسیلاب ہو، ہندوستان کے خلاف جنگ ہو۔ہر موقع پر اس نے ہمارا ساتھ دیا۔مگر ہماری وزارت خارجہ نے سعودی عرب کے ان تمام احسانات کو پس پشت ڈال دیا۔پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی او آئی سی کے وزرا خارجہ کا اجلاس نہ بلانے کی بات دراصل ایک بہانہ ہے۔اصل میں ان کے پیش نظر سعودی عرب کو نشانہ بنانا تھا۔ اس معاملے کی تحقیق ہونی چاہیے کہ اس بیان کے پیچھے کون ہے؟ پروفیسر ساجد میر نے کہا کہ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان اپنے دیگر مسلمممالک کو ناراض کرے۔ سفارتی دنیا میں ہر ملک اپنے مفاد کی بنیاد پر تعلقات بناتا ہے۔ ہمیں کیا ضرورت پڑی ہے کہ دیگر اسلامی ممالک کے باہمی تنا میں پاکستان کو نقصان پہنچائیں۔ جہاں تک تعلق ہے مسئلہ کشمیر پر سعودی عرب کی مطلوب حمایت کا ہے تو اس کا بھی ایک سفارتی طریقہ کار ہونا چاہیے ان سے بیٹھ کر بات کی جاسکتی ہے۔ انہیں اپنے موقف کا ہمنوا بنانے کے لیے سفارتی کوششو ں سے آپ کو کس نے روکا ہے؟ وزرات خارجہ کا کامناراض دوستوں کو قریب لانا ہوتا ہے نہ کہ دھمکیاں دے کر انہیں ناراض کرنا۔ علامہ ساجد میر نے کہا کہ علما ہی انبیا کے اصل وارث ہیں اور ہم دین اور دینی اداروں کی حفاظت کا فریضہ انجام دیتے رہیں گے۔سیمینار کی صدارت ڈاکٹر عبدالغفور راشد نے کی جبکہ مقررین میں چیف آرگنائزر حافظ ابتسام الہی ظہیر سینئر نائب امیر مولانا محمد نعیم بٹ علامہ محمد شفیق خاں پسروری مولانا عبدالرشید حجازی حافظ محمد یونس آزاد حاجی عبدالرزاق ڈاکٹرزعیم الدین عابد لکھوی حافظ فیصل افضل شیخ حافظ عمران عریف حافظ عتیق اللہ عمر رانا نصر اللہ خاں کے علاوہ وفات پانے والے بزرگوں مولانا عبدالحمید ہزاروی مولانا عبدالرشید ہزاروی مولانا قاری یحیی رسول نگری مولانا پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی پروفیسر حافظ ثنا اللہ خاں پروفیسر ڈاکٹر عبدالرف ظفر حافظ صلاح الدین یوسف مولانا محمد یونس بٹ کی دینی تبلیغی اور جماعتی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ اس موقع پر مرحوم علما کے لواحقین اور پسماندگان بھی شریک تھے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں