بدھ 30  ستمبر 2020ء
بدھ 30  ستمبر 2020ء

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) مسجد میں ویڈیو ریکارڈنگ کی اجازت حکومت نے دی، 30 ہزار روپے فیس لی اور شرط یہ رکھی کہ ریکارڈنگ میں حرکات و سکنات دینی اور شرعی ہوں گی۔ محکمہ اوقاف و مذہبی امور لاہور کی جانب سے 27 جولائی کو اجازت نامہ جاری کیا گیا، اس اجازت نامے میں کہا گیا ہے کہ مجاز اتھارٹی نے حسب استدعا جامع مسجد وزیر خان لاہور میں بعد از ادائیگی محکمانہ فیس مبلغ 30 ہزار،احمد وقاص، لائن پروڈیوسر آفس نمبر14، تھرڈ فلور شبیر ٹاؤن عبدالستار ایدھی روڈ لاہور کو مورخہ اٹھائیس جولائی 2020ء کو ریکارڈنگ کی اجازت ان شرائط googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); پر دی گئی، ریکارڈنگ سے قبل قومی شناختی کارڈ، متعلقہ ادارہ جات میں ملازمت کے کارڈ کی عکسی نقل مہیا کرنا ہو گی، ریکارڈنگ کے دوران مسجد کے تقدس کو پیش نظر رکھا جائے گا اور ہر اس عمل سے اجتناب کیا جائے گا جس سے ان کی حرمت پر حرف آتا ہو اور مذہبی معاملات میں بھی خلاف شریعت یا کوئی ایسا عمل نہیں کریں گے جس سے کسی بھی پاکستانی کی دل آزاری ہو، ریکارڈنگ کے دوران لباس اور حرکات و سکنات میں دینی اور شرعی تشخص کو ہمہ وقت پیش نظر رکھا جائے گا، متعلقہ ادارہ دوران ریکارڈنگ جملہ انتظامات کا خود بندوبست کرے گا، ریکارڈنگ کے دوران کسی قسم کا بھی میوزک نہیں بجایا جائے گا، ریکارڈنگ محکمانہ امور کی انجام دہی میں خلل کا باعث نہ ہو، آخر میں نوٹ درج کیا گیا کہ درج بالا شرائط کی خلاف ورزی کی گئی تو انتظامیہ کو اختیار ہو گا کہ وہ ریکارڈنگ بند کرا دے۔ واضح رہے کہ صوبائی وزیر اوقاف ومذہبی امور سید سعیدالحسن شاہ نے مسجد وزیر خان میں فلم کی شوٹنگ کے واقعہ کے حوالے سے سخت ایکشن لیتے ہوئے تین روز میں انکوائری رپورٹ طلب کر لی جبکہ واقعہ کے خلاف پنجاب اسمبلی میں مذمتی قرارداد اور تحریک التوائے کار بھی جمع کرا دی گئی۔ صوبائی وزیر مذہبی امورسید سعید الحسن شاہ نے کہا ہے کہ ایسے غیر ذمہ درانہ واقعات کو ہر گزبرداشت نہیں کیا جائے گا،مساجد اور مقدس مذہبی مقامات کا تقدس ہر قیمت برقرار رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں مسلم لیگ (ن) نے مسجد وزیر خان میں ”انار کلی“فلم کی شوٹنگ کے دوران مبینہ طور پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کرنے کے خلاف تحریک التوا کار جمع کرا دی۔ رکن اسمبلی سنبل مالک حسین کی جانب سے جمع کرائی گئیتحریک کے متن میں کہا گیا ہے کہ اندرون شہر کی تاریخی مسجد وزیر خان میں 28جولائی کو ”انارکلی فلم“کی شوٹنگ کی گئی۔مبینہ طور پر ساؤنڈ سسٹم لگا کر مسجد میں سرعام رقص و سرور کی محفل منعقد کی گئی۔ویڈیو میں واضح طور پر مذکورہ واقعہ دیکھا جا سکتا ہے جس میں مسجد کے تقدس کی دھجیاں بکھیری گئیں ہیں۔جس جگہ امام مسجد امامت کرواتا ہے اور موزن اذان دیتا ہے وہاں پر میوزک اور ڈانس کی محفلیں کرانے سےنہ صرف مسجد کا تقدس پامال ہوا بلکہ دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کی دل آزاری کی گئی۔مطالبہ ہے کہ اس گھناؤنے اور شیطانی عمل میں شامل لوگوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ مسلم لیگ(ن) کی رکن سمیر املک کی جانب سے اس مناسبت سے قرارداد بھی پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرائی گئی ہے۔ جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ مسجد وزیر خان میں فلم کی شوٹنگ کی اجازت دینے والے افراد کیخلاف کاروائی کی جائے اورفلم کے ڈائریکٹر اور مسجد کا تقدس پامال کرنے والے فلم کے دیگر اداکاروں کیخلاف بھی کاروائی عمل میں لائی جائے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں