منگل 29  ستمبر 2020ء
منگل 29  ستمبر 2020ء

اگر کشمیر کی حفاظت کا کوئی موقع آیا تو ن لیگ پی ٹی آئی سے آگے ہو گی،احسن اقبال نے حکومت کو بھی کھری کھری سنا دیں

اسلام آباد (این این آئی)سابق وفاقی وزیر داخلہ،سیکرٹری جنرل پی ایم ایل این احسن اقبال نے کہاہے کہ نقشہ بدلنے کی ضرورت نہیں تھی،بچپن سے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں دیکھا ہے ،ہمارے اوپر ایک نقلی،سلیکٹڈ حکومت مسلط تھی،اسکی پست پر عوام کی طاقت نہیں تھی،اناڑی حکومت کو خارجہ پالیسی،معیشت چلانے کا پتہ نہیں تھا ،بھارت سن لے پاکستان عوام کشمیری عوام اور کشمیر کیحفاظت کے لئے چٹان کی طرح متحد ہیں ،اگر کشمیر کی حفاظت کا کوئی موقع آیا تو ن لیگ پی ٹی آئی سے آگے ہو گی۔ بدھ کو یوم استحصال کشمیر کے حوالے سے googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); منعقدہ (ن )لیگ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہاکہ آج غم کا دن ہے ایک سال قبل بھارت نے وہ حرکت کی جس کی وہ 72 سالہ تاریخ میں جرات نہیں کر سکا ،بھارت نے ہمیشہ کشمیر کو مقبوضہ علاقہ تسلیم کیا،پاکستان نے ہمیشہ بھارت کو بتایا تھا کہ اگر تم نے سرخ لکیر کو عبور کیا تو کشمیر ہماری شہ رگ ہے جسکے لیئے ہم تن من دھن کی بازی لگانے کو تیار ہیں ،ن لیگ کی حکومت تک مودی اور بے جے پی کو جرات نہیں کر سکے کہ وہ کشمیر کے اوپر اپنے ناپاک عزائم کو پورا کر سکیں ،2018 کے دھاندلی شدہ انتخابات کے بعد بھارت نے پاکستان کو اتنا کمزور کیوں سمجھ لیا،اور اتنی بڑی جرات کرتے ہوئے سرخ لکیر کو عبور کیا ،یہ لمحہ فکریہ ہے،پاکستانی عوام کے لئے سوچنے کا مقام ہے،گزشتہ دال بھارت نے اقوام متحدہ کی قرارداد کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیاقومیں مضوبط تب ہوتی ہیں جب حکمران اصلی تے ہیں ،ہمارے اوپر ایک نقلی،سلیکٹڈ حکومت مسلط تھی،اسکی پست پر عوام کی طاقت نہیں تھی،اناڑی حکومت کو خارجہ پالیسی،معیشت چلانے کا پتہ نہیں تھا ،حکومت نے ملک کو اتنا کمزور کر دیا کہ بھارت نے کسمیر پر قبضہ کرکے خصوصی حیثیت ختم کر دی،اگر ن لیگ کی حکومت ہوتی تو بھارت بھیایسی جرات نہ کرتا،وہ 1999 میں ہمارے عزم کو آزما چکا تھا ،امن قوموں کو تبھی ملتا ہے جب اسکے پیچھے مضبوط معیشت،سیاست،خارجہ پالیسی ہوتی ہے،تب دشمن بھی ملک کی طرف میلی نگاہ سے دیکھتے ہوئے سوچتا ہے ،آج ملک کو داخلی طور پر انتشار میں دھکیل دیا گیا،،وزیر اعظم میں اتنی جرات نہیں کہ وہ کشمیر پر ملکی قیادت کے ساتھ بیٹھ سے،کبھی بھارت نہیں پاکستان کی جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی نہیں کیلیکن عمران خان کی نالائق قیادت کی وجہ سے حضرت جہازوں نے جغرافیائی حدود کی خلاف ورزی بھی کی لیکن پاک فضائی نے بھرپور جواب دیا ،بھارت سے ساتھ کشیدہ حالات میں کمانڈر انچیف نے بریفنگ دی تب اس وزہر اعظم نے اپوزہشن اور قومی قیادت کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا،نقشہ بدلنے کی ضرورت نہیں تھی،بچپن سے مقبوضہ کشمیر کو پاکستان کے نقشے میں دیکھا ہے ،وزیر اعظم بتائے یہ مقبوضہ کشمیر پاکستان کےنقشے سے کب نکالا گیا تھا کس نے نکالا تھا،بھارت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ پاکستان عوام کشمیری عوام اور کشمیر کی حفاظت کے لئے چٹان کی طرح متحد ہیں ،اگر کشمیر کی حفاظت کا کوئی موقع آیا تو ن لیگ پی ٹی آئی سے آگے ہو گی،گزشتہ سال وزارت خارجہ میں ایک ایکشن پلان بنایا گیا تھا بتایا جائے اس پر کتنا عمل کیا گیا ،قومیں اپنا موقف جنرل اسمبلی کی تقریروں سے نہیں کامیاب خارجہ پالیسی سے جیتتی ہیں،آج ہماری پکار پر اسلامی سربراہی کونسل کا اجلاس بھی نہیں ہو سکتا ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں