منگل 29  ستمبر 2020ء
منگل 29  ستمبر 2020ء

او آئی سی آنکھ مچولی چھوڑ کر پاکستان کا ساتھ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے، پاکستان نے سعودی عرب سے بھی اہم مطالبہ کر دیا

اسلام آباد(آن لائن) وزیرخارجہ شاہ محمود قریشنی نے کہا ہے کہ او آئی سی آنکھ مچولی چھوڑ کر بانی ملک پاکستان کا ساتھ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرے، سعودی عرب کے مطالبے پر ملائیشیا کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا۔ سعودی عرب مسلم امہ کی توقعات کے مطابق قائدانہ کردار ادا کرے۔ سعودی عرب نے ساتھ نہ دیا تو ہم خیال مسلم ممالک کے ہمراہ آگے بڑھیں گے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم پر مزید خاموش نہیں رہیں گے۔بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ مسئلہ کشمیر حل طلب googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مسئلہ ہے جس پر اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں۔ او آئی سی کے مشکور رہیں جس نے انسانی حقوق کے متعلق بہت عمدہ بیان جاری کیا ہے۔ او آئی سی کے دل کے قریب کشمیر اور فلسطین میں بہت ظلم ہورہا ہے۔ امت مسلمہ دیکھے کہ بابری مسجد کو شہید کر کے رام مندر تعمیر کیا جارہا ہے۔ او آئی سی بابری مسجد کی جگہ پر رام مندر کی تعمیر پر خاموش کیوں رہے گی۔ او آئی سی سے گزارش ہے کہ وزرائے خارجہ اجلاس بلانا پاکستان کی توقع ہے۔ اگر او آئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس نہ بلایا گیا تو وزیراعظم عمران خان سے کہوں گا کہ ہم خیال ممالک کا اجلاس بلائیں۔ وہ ہم خیال مسلم ممالک جو کشمیریوں کا ساتھ دینا چاہتے ہیں ان کا اجلاس بلایا جائے گا۔ چاہے او آئی سی کا فورم استعمال نہ بھی ہو۔ او آئی سی فیصلہ کرے بانی رکن پاکستان کا ساتھ دینا ہے یا نہیں۔ وقت آگیا ہے کہ او آئی سی اب بچ بچاؤ اور آنک مچولی سے باہر نکلے۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر کے متعلق میرا دل جل رہا ہے۔ اس لئے ایسی باتیں کر رہا ہوں۔ جو باتیں میں کر رہا ہوں ان سے دفتر خارجہ میں پریشانی پھیل جائیگی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم کشمیریوں کے خون بہنے اور عصمتیں لٹنے پر کب تک خاموش رہیں گے۔ مظالم پر بطور پاکستانی اور وزیرخارجہ خاموش نہیں رہوں گا۔ مقبوضہ کمشیر میں بھارتی مظالم پر اب خاموش نہیں رہا جا سکتا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ سعودی عرب اور پاکستان کے بہت عمدہ تعلقات ہیں۔ تمام پاکستانی مکہ اورمدینہ کی سالمیت پر جان دینے کے لئے تیار ہیں۔ سعودی عرب نے ملائیشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا مطالبی کیا تھا۔ ہم نے بڑے بوجھل دل کے ساتھ سعودی عرب کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مہاتیر محمد کو خراج تحسین پیش کرتاہوں کہ ہماری عدم شرکت پر شکوہ تک نہ کیا۔ مہاتیر محمد نے اُف تک نہ کیااور ہماری مجبوریوں کو سمجھا۔ ہم نے دوست ملک کے تقضے پر بڑا قدم اٹھایا اور ملائیشیا کانفرنس میں شرکت نہ کی۔ اب ہم اسی دوست ملک سے مطالبہ کرتے ہیں کہ امت مسلمہ کیلئے قائدانہ کردار ادا کرے۔ سعودی عرب کی سالمیت کیلئے لڑنے مرنے کے لئے ہر پاکستانی کا یہی تقاضا ہے۔ سعودی عرب وہ قائدانہ کردار ادا کرے جو مسلم امہ توقع کر رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان سے گزارش ہے کہسعودی عرب ساتھ دے یا نہ دے ہمیں آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ کیا انسانی حقوق کے علمبرداروں کو کشمیر میں بھارتی مظالم نظر نہیں آ رہے۔ کشمیری بھارت کے خلاف جنگ میں تنہا نہیں ہیں۔ کشمیری حق اورسچ پر ہیں انہیں ضرورکامیابی حاصل ہوگی۔ تھرپارکر سے لے کر اسلام آباد تک کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا۔ ہم نے پاکستانی اور کشمیری عوام کے جذبات کو نئے نقشے میں پرو دیا ہے۔ سیاچن ہمارا ہے اور اسے لے کر رہیں گے۔ پاکستان نے کشمیریوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہم ہر لمحہ ان کے ساتھ ہیں۔ نئے نقشے پر چین کو بھی اعتماد لے لیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں