منگل 29  ستمبر 2020ء
منگل 29  ستمبر 2020ء

جماعت اسلامی کی ریلی میں دھماکہ کیسے ہوا اور کس نے کیا؟ عینی شاہدین کا تہلکہ انگیز انکشاف

کراچی (این این آئی)کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں جماعت اسلامی کے تحت کشمیر یکجہتی ریلی میں دھماکے کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہو گئے۔پولیس کے مطابق دھماکا ریلی کے مخالف سمت کے یونیورسٹی روڈ کے ٹریک پر ایک موٹر سائیکل میں ہوا۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور اور موٹرسائیکل کے قریب موجود پانچ افراد کو منتقل کرتے دیکھا گیا۔بعض عینی شاہدین کے مطابق مبینہ طور پر ایک کار میں سوار افراد نے یوٹرن کرتے ہوئے دھماکہ خیز چیز ریلی پر پھینکی اور نیپا چورنگی کی جانب فرار ہوگئے تاہم سرکاری طور پر googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی کے مطابق تین سے چار افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔دوسری جانب ریسکیو حکام نے کہا کہ کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں بیت المکرم مسجد کے قریب دھماکے میں 10 افراد زخمی ہوئے۔ان کا کہنا تھا کہ موٹر سائیکل سوار ملزمان دستی بم پھینک کر فرار ہوگئے جبکہ دھماکے سے قریبی گاڑیوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔عینی شاہد نے کہا کہ جماعت اسلامی کی یوم استحصال کشمیر ریلی میں دستی بم پھینکا گیا، ریلی بیت المکرم مسجد سے حسن اسکوائر کی جانب جارہی تھی جبکہ دھماکا حافظ نعیم الرحمن کی تقریر کے دوران ہوا۔جماعتِ اسلامی کے ترجمان نے دھماکے میں پانچ افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما معراج الہدی کا کہنا تھا کہ دھماکا کرکے ہمارے حوصلے پست نہیں کیے جاسکتے، ریلی جاری رہے گی۔امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کررہی ہے، را کے ایجنٹوں نے ریلی میں حملہ کرکے بزدلانہ کارروائی کی ہے۔انہوں نے کہا کہ بزدلانہ کارروائیوں سے جذبوں کو ختم نہیں کیا جاسکتا، کارکن پولیس انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کریں۔ادھرایس ایس پی ایسٹ ساجد امیر سدوزئی کے مطابق بم ڈسپوزل اسکواڈ کو فوری طور پر طلب کرلیا گیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں