پیر 10  اگست 2020ء
پیر 10  اگست 2020ء

ق لیگ کی ناراضگی علیحدگی میں بدل جائے گی،شاہد خاقان عباسی نے اندر کی بات بتا دی

اسلام آباد(آن لائن) سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ حکومت کے خلاف کسی غیرجمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے عوام کے سڑکوں پر آنے سے انتشار کا خطرہ ہے۔ پنجاب میں حکومت اکثریت کھو سکتی ہے مسلم لیگ ق کی ناراضگی علیحدگی میں بدل جائیگی۔ مسلم لیگ ن میں کوئی گروپ بندی نہیں ہے۔ بدھ کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ پہلی حکومت ہےجس میں وزیراپناکام کرنا نہیں جانتے بلکہ دوسروں پر تنقید کرتے ہیں۔ حکومت ہمیں دھمکیاں نہ دے کارکردگی بتائے۔ پانی کا وزیر معیشت googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); پر مناظرے کرنے کو کہتا ہے۔ جبکہ وزیراعظم عمران خان دھمکیاں دے رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہمیں نہیں چھوڑیں گے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ہر حکومت قرضے لے کر ہی گزارہ کرتی ہے۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن بھی این ایف سی ایوارڈ کے ساتھ ہی چل رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سرتاج عزیز کے خلاف نیب انکوائری کی تیاری افسوسناک ہے۔ ہم حکومت کے خلاف کسی غیر جمہوری عمل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ اس وقت آل پارٹیز کانفرنس کا انعقاد بہت ضروری ہے۔ ہر شخص اپوزیشن کی طرف دیکھ رہا ہے کہ ان کیا پالیسی ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مسلم لیگ ن میں کو ئی گروپنگ نہیں ہے۔ پارٹی میں اختلاف رائے ہوتا ہے لیکن اختلافات نہیں ہوتے۔ کبھی کوئی حکومت اپوزیشن کے شور سے نہیں جاتی۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف مسلم لیگ ن کے صدر ہیں سب لوگ انہیں تسلیم کرتے ہیں۔ ان کے فیصلوں کو من و عن تسلیم کیا جاتاہے جبکہ ہر بڑے فیصلے میں نواز شریف سے رجوع کرتے ہیں۔ آج الیکشن کروا لئے جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائیگا۔ اس حکومت سے کوئی امید نہیں ہے لیکن عوام کے سڑکوں پر آنے سے انتشار پیدا ہوتاہے۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ لوگوں کو جمع کرنے کا بھی وقت ہوتا ہے نہ دیر کرنی ہے نہ ہی جلدی کرنا ہوتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان نے لوگوں کو جمع کرکے طاقت کا بھرپور مظاہرہ کیا۔ ہماری جماعت کے رہنماؤں نے ان کے دھرنے مٰیں شرکت کی لیکن ہم باقاعدہ طورپر ان کے ساتھ شامل نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں حکومت آسانی سے اکثریت کھو سکتی ہے۔ صرف دو اتحادیوں کے ساتھ چھوڑ جانے سے بات ختم ہو جائے گی۔ مسلم لیگ ق کی ناراضی علیحدگی میں بھی بدل سکتی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں