جمعرات 06  اگست 2020ء
جمعرات 06  اگست 2020ء

اسٹیٹ بینک، ایف بی آر ہر جگہ آئی ایم ایف ہے تو قوم کو انتظار ہے وزیر اعظم خودکشی کب کریں گے،سینٹ میں اپوزیشن کے چبھتے ہوئے سوالات

اسلام آباد (این این آئی) سینٹ میں اپوزیشن نے کہا ہے کہ صدر مملکت لکھی تقریر پڑھ کر چلے جاتے ہیں ، کیا صدر کے خطاب کیلئے مشترکہ اجلاس بلاکر اتنا خرچ ہوناچاہیے ، ایوان میں بحث کی جائے ،صدر پاکستان نے ٹرمپ کی ثالثی کا ذکر کیا اس ثالثی کا کیا بنا ہے،کشمیر کے معاملہ پر کونسی تاریخی فتح حاصل کی گئی ہمیں بتایا جائے،کشمیر کی آزادی کیلئے قومی ایکشن پلان بنانے کی ضرورت ہے،پاکستان کے اندرونی حالاتدیکھ کر بتائیں مدینہ کی ریاست کہاں ہے،ہر سال دو ڈیم بنائے جائیں تو قحط سالی سے متاثرہ علاقوں میں ہریالی آئیگی،اسٹیٹ googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); بینک، ایف بی آر ہر جگہ آئی ایم ایف ہے تو قوم کو انتظار ہے وزیر اعظم خودکشی کب کریں گے،میڈیا پر ایسی قدغن ہے جو مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں تھے جبکہ قائد ایوان سینٹ ڈاکٹر شہزاد وسیم کا صدارتی خطاب پر بحث سمیٹتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم نے وزیراعظم ہائوس کے خرچے کم کیے اور کوئی کیمپ آفس نہیں بنائے ،ملنگ آدمی شلوار قمیض میں عام آدمی کی طرح رہ رہا ہے ،ساٹھ سال کے بعد دیامر بھاشا ڈیم ، مہمند ڈیم پرعملی کام شروع ہونے جارہا ہے،مودی نے پاکستانی حکمرانوں سے ذاتی دوستی کی پینگیں بڑھائی تھی ،ساڑھیوں اور آموں کے تحفے بھجواتے جاتے تھے ، آج پاکستان نہیں مودی تنہا ہو چکا ہے ۔ بدھ کو سینیٹ میں پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر کے خطاب پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے سینیٹر جاوید عباسی نے کہاکہ صدرمملکت آئین کے مطابق پارلیمنٹ کا حصہ ہیں ،صدر کے خطاب کی اہمیت یہ ہے کہ حکومت ایک سال بعد ان کے خطاب پر بحث کرارہی ہے ،کیا واقعی صدر کو ان ایوانوں میں خطاب کرنا چاہیے ،اب صدر کو ایک لکھی تقریر پکڑا دی جاتی ہے اور وہ پڑھ کر چلے جاتے ہیں ،بحث ہونی چاہئے کہ کیا صدر کے خطاب کے لیے مشترکہ اجلاس بلا کر اتنا خرچ ہونا چاہیے،انہوںنے کہاکہ کشمیر کے معاملہ پر کونسی تاریخی فتح حاصل کی گئی ہمیں بتایاجائے،صدر پاکستان نے ٹرمپ کی ثالثی کا ذکر کیا اس ثالثی کا کیا بنا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مسلم ممالک جو ہمارے ساتھ تھے کمشیر کے معاملہ پر ہمارا ساتھ نہیں دیا،ہم او آئی سی کا ایک اجلاس بلانے میں ناکام رہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کے اندرونی حالات دیکھ کر بتائیں مدینہ کی ریاست کہاں ہے۔ انہوںنے کہاکہ یہاں اپنے لیے ایک نظام اور دوسروں کے لیے ایک نظام چل رہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ وفاقی اور صوبوں کے مابین تعاون کے مثالی تعلق کاتاریخی جھوٹ بولتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ملک کا کوئی طبقہ اس حکومت سے محفوظ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ کاروباری افراد نے آرمی چیف سے مل کر کہا کہ اس حکومت سے جان چھڑوائیں،سی پیک ن لیگ حکومت کا کارنامہ ہے۔جہانزیب جمالدینی نے کہاکہ پانی قلت پر ہم ابھی تک قابو نہیں پا سکے،ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ حکومت بہترین انداز میں کام کر رہے ہیں ،بلوچستان میں معدنیات وافر مقدار میں دستیاب ہیں ،بلوچستان میں اہمدریافتیں ہوئی ہیں جو ہمارے لیے باعث اطمینان ہیں،اگر بلوچستان میں دریافتیں ہوں گی تو پوری قوم کو فائدہ ہو گا،جہاں ترقیاتی کاموں کی ضرورت ہے وہاں ہونے چاہئیں ،ان ترقیاتی کاموں کی نشاندہی وزیراعظم کو کرنی چاہیے،ہر سال دو ڈیم بنائے جائیں تو قحط سالی سے متاثرہ علاقوں میں ہریالی آئیگی۔ انہوں نے کہاکہ سمندر کا پانی محفوظ بنا کر بھی فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے،ہمارے ہاں معدنیات اور کپوس کی صنعتیں نہیں ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ 780کلومیٹر سمندر پاکستان کے پاس ہے جس پر ہمیں فخر ہونا چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ پورے ملکی میں وائلڈ لائف نیشنل پارک ایک ہی ہے، 90 ہزار ایکڑ کا کارگو کو دیدیا گیا، ژوب سے لیکر تفتان تک ہمارے لوگ بھوکے پیاسے ہیں، کسی نے آکر نہیں دیکھا کتنی تکلیف دہ زندگی بسر کر رہے ہیں ،میں خوش ہوں کہ موجودہ حکومت نے شجر کاری کاآغاز کیامگر جہاں زرعی زمین ہے وہاں درخت نہیں ہیں،صنوبر اور پستے کے درخت کاٹتے جا رہے ہیں ،موجودحکومت نے جو اعلان کیا کاش اس پرعمل درآمد بھی ہوتا۔ انہوںنے کہاکہ جس ملک میں جب آپ پانی دینے سے قاصر ہوں تو وہ ڈوب مرنے کا مقام ہے،پھر بھی میرا، صدر کہے کہ سب کچھ ٹھیک ہے، میں اس ملک کو گیس، سونا، چاندی جیسی دولت دے رہا ہوں،آجکل اہل بلوچستان تک دو فیصد بھی نہیں پہنچا،جس علاقے سے معدنیات نکلتے ہیں اس پر ایک مخصوص شرح لگائی جانی چاہیے، کاش ریاست مدینہ پر عملی طور پر نظر آتی،سوشل پرمیڈیا پر میں لکھتا ہوں کہ میرے بچے آج بھی درختوں کی چھائوں میں پڑھتے ہیں، ،بلوچستان کو کینسر ہسپتال اور لیبارٹریز کی ضرورت ہے تا کہ وہاں بھی کورونا کے ٹیسٹ کیے جا سکیں۔ انہوںنے کہاکہ صدر صاحب میرے ذاتی دوست ہیں مگر بدقسمتی سے انکو تقریر پکڑا دی جاتی ہے۔امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے کہاکہ پاکستان کیلئے زندگی اور موت کا جو مسئلہ ہے وہ مسئلہ کشمیر ہے، اس حکومت کے ہوتے ہوئے کشمیر ہمارےہاتھ سے چلا گیا ،کشمیریوں کی پوری قیادت اور 18 ہزار نوجوان جیلوں میں ہے ،کشمیر میں سرمایہ کاری کے نام پر بین الاقوایم ایجنسیوں کو زمین دی جارہی ہے ،کشمیر میں انڈین آبادی میں اضافہ ہورہا ہے ،اشرف سہرائی کو چند روز قبل گرفتار کیا اس سے قبل اس کے جوان بیٹے کو شہید کیا گیا ،ہم صدر پاکستان سمیت پوری قیادت سے مطالبہ کرتے ہے کہ کشمیر کے مسئلہ پر اپوزیشن کے ساتھ بیٹھے ،کشمیر کی آزادی کیلئے قومی ایکشن پلان بنانے کیضرورت ہے۔ انہوںنے کہاکہ ہماری حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کرکے عوام کو مزید مشکل میں ڈال دیا ہے ،ہمارے لوگ کورونا وائرس سے مشکلات سے دوچار ہے ،کراچی میں ہزاروں لوگوں کو میں نے فٹ پاتھوں پر سوتے دیکھا جن کے پاس چادر نہیں تھی ،میرے ملک میں غربت ہے، ہمارے وفاقی وزیر نے کود کہا کہ ایک کڑوڑ ستر لاکھ افراد بے روزگار ہوئے ،ایک ایک ادارہ تباہ ہورہا ہے، پی آئی اے کو تباہ کردیا گیا،عام آدمیکو سکون نہیں ہے،،ہمارے قبائلی ملاقات جات خیبرپختونخوہ میں ضم ہوگئے ،قبائلی علاقہ جات کے مسائل مزید بڑھ گئے ہیں ،جنوبی پنجاب کے مسائل سندھ اور بلوچستان کے مسائل مزید بڑھ رہے ۔ انہوںنے کہاکہ گزشتہ چار ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہے ،اساتذہ اپنی تنخواہوں سے محروم ہے،15 لاکھ اساتذہ اور ان میں سے دو لاکھ ہماری بہنیں ہے جو مشکلات سے دوچار ہے ،سکولوں کی عمارتیں کرایہ پر ہیں ،پرائیوٹ سکولوں اور مدارس کء اساتذہمشکلات سے دوچار ہے ،اوورسیز پاکستانی مشکلات سے دوچار ہے ،پاکستان کیلئے سب سے ذیادہ چندہ اوورسیز پاکستانیوں نے دیا ہے ،آج اوورسیز پاکستانی مشکلات سے دوچار ہے ،ہماری حکومت کو اوورسیز پاکستانیوں کا خیال رکھنا چاہئے۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے کہاکہ صدر صاحب کی تقریر میں ملک میں مسائل کو حل کرنے کی تجاویز ہونی چاہیے تھی،تجاویز کے بعد حکومت سے بھی پوچھا جاتا کہ میری گراں قدر تجاویز کا کیا بنا،بدقسمتیسے جب ہم صدر صاحب کی تقریر کو دیکھتے ہیں ایسا کچھ نہیں ملتا،ظاہر ہے حکومتی بینچوں پر بیٹھنے والے اسے مثالی تقریر کریں گے،صدر کی تقریر سال بھی کی پالیسیوں کا آئینہ دار ہوتا ہے اس میں نہ آئینہ ہے نہ دار بس تختہ دارہے،بلاول ہاؤس نے پہلے دن کہا تھا کہ یہ سلیکٹڈ ہے ان میں کوئی ویژن نہیں،دو سال بعد ایک ایک کرکے سب کی باتیں سچ ثابت ہورہی ہیں،انہوں نے ایک کروڑ نوکریوں، 50 لاکھ گھروں اور اقتصادیات کے حوالے سےبہت دعوے کئے،انہوں نے یہ بھی فرمایا تھا کہ آئی ایم ایف جانا پڑا تو خودکشی کر لوں گا،اب اسٹیٹ بینک، ایف بی آر ہر جگہ آئی ایم ایف ہے تو قوم کو انتظار ہے وزیر اعظم خودکشی کب کریں گے،ریاست مدینہ کو گرانے اور متنازعہ بنانے کے لیے تو کام ہورہا ہے،کہیں سرکاری فنڈز سے گوردوارے تو کہیں مندر بن رہے ہیں،ریاست مدینہ کی تقدیس کو پامال کرنے کے لیے ایسے اقدامات کیے جارہے ہیں،ریاست مدینہ کو چلانے والے سیدنا عمر نےاعلان کیا تھا کہ کتے کی بھوک کا سوال بھی مجھ سے ہوگا،35 سے 40 فیصد لوگ ابھی بھی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں،آپ نے بھوک،غربت ختم کرنی تھی لیکن آپ کے اقدامات سے مْلک دیوالیہ کی طرف جارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ مودی جب سے آیا اْس نے اپنی پالیسی بڑی واضح کی،صدر صاحب کی تقریر میں یہ سب کچھ بھی توہونا چاہیے تھا،5 اگست کو جو ظلم کیا گیا اس کا کیا ردِ عمل آیا؟،صرف دعوئوں سے بات نہیں بنتیعملی اقدامات کی ضرورت ہے،کشمیری پاکستان کے نام پر ماریں کھا رہے ہیں ،ہم بس قراردادیں پاس کر رہے ہیں،اپوزیشن کا مقصد حکومت کی اصلاح اور حکومت کا مقصد اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنا ہوتا ہے ،آج ٹیچرز، کسان،مزدور سب ہڑتال پر ہیں،ساڑھے 9 ہزار کے قریب افراد کو بے روزگار کیا گیا ہے میڈیا ہاؤسز پر بھی قدغنیں ہیں،ملازمین کے لیے ہر سال بجٹ میں اضافہ کیا جاتا ہے یہ 10 فیصد بھی نہیں کر سکے،رفاعے عوامالناس کے مسائل کے لیے ہم بیٹھے ہیں تاہم ہم اپنی تنخواہ تک نہیں بڑھا سکے۔سینیٹر ولید اقبال نے کہاکہ ہمارے جوان اپنی جان ہتھیلی پر لیکر نکلے ہوئے ہیں،انہی شہداء اور جوانوں کی وجہ سے ہم چین کی نیند سوتے ہیں،فروری 2020 میں آپریشن رداالفساد کے تین سال مکمل ہوئے،اس کے بعد زندگی معمول پر آگئی تھی حالات معمول پر آگئے۔ انہوںنے کہاکہ کورونا کی نظر حالات ہوئے تو سرگرمیاں ختم ہو گئیں،پاکستان کو دنیا میں دوستانہاور خوبصورت کے طور پر سامنے لایا گیا،کشمیریوں کے خون سے ہمارے ملک میں سحر ہوئی،مودی سرکار نے شہریت کے قانون کو نافذ کی اس پر خود بھارتی احتجاج کر رہے ہیں۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہاکہ میڈیا پر ایسی قدغن ہے جو مارشل لاء کے دور میں بھی نہیں تھے،میڈیا ورکرز کو دھمکیوں مل رہی ہیں، اْن کو نکالا جارہا ہے ،صدر صاحب نے میڈیا کے بارے میں آج تک ایک لفظ تک نہیں کہا،صدر صاحب کے دفتر کی ہماری فیڈریشن میںایک خاص اہمیت ہے،صدر صاحب کے دفتر سے عدلیہ پر حملہ ہوا،صدر صاحب آپ خاص لوگوں کے لیے عدلیہ کو یرغمال بنارہے ہیں،اس سے زیادہ ملک اس ظلم میں کیا ہوسکتاہے،قاضی صاحب نے صدیقی صاحب نے کیا گناہ کیا تھا بس آئین کو فالو کیا تھا،صدر صاحب آپ جْرم کے مرتکب ہوئے ہیں ،22 کروڑ عوام کیا کرے گی چینی 50 سے 70 روپے پر چلی گئی لیکن صدر صاحب خاموش ہیں،بجلی کی ایسی لوڈشیڈنگ ہیں فاٹا, کراچی, پنجاب والوںسے پوچھیں کیا حالت ہے۔ سینیٹر میا ں عتیق نے کہاکہ صدر صاحب کے خطاب میں شروع میں ہی خارجہ پالیسی کی بات کی گئی،ہمیں نہیں بھولنا چاہیے کہ کئی سال تک ہمارے پاس وزیر خارجہ تھے ہی نہیں،صدر صاحب نے کہا کہ نو لاکھ بھارتی فوج جو جموں کشمیر میں موجود ہے وہ دنیا کا سب سے بڑا ملٹری زون ہے ،ایف بی آر کے بارے میں بھی صدر صاحب نے کہا کہ سمگلنگ کو روکا کیا جائے اور کاروباروں کی ڈاکیومنٹیشن کیجائے،پاکستان میں سرمایہ کاری کے بارے میں صدر صاحب نے کہا کہ کاروباری انڈیکس میں اضافہ ہورہا ہے،صدر صاحب چونکہ خود ڈیجیٹل ورلڈ کو سمجھتے ہیں انہوں نے کہا کہ فوربز کے مطابق دنیا کی دس تیز ترین بڑھتی مارکیٹ میں پاکستان شامل ہورہا ہے،ہماری دیرینہ خواہش اور ضرورت ہے کہ ڈیجیٹل پیمنٹ کو فروغ دیا جائے ،سْن کے اچھا لگا کہ صدر صاحب نے ڈیجیٹل ورلڈ اور ویلٹ کو بھی ترجیح دی۔ انہوںنے کہاکہ اس حکومتکا یہ بہت بڑا اقدام تھا کہ اوورسیز پاکستانی اور دیگر افراد آن لائن ویزا آسانی سے اپلائی کرسکتے ہیں،اگر ہم اپنے ارد گرد اچھے کاموں کو دیکھیں تو صدر صاحب کے ویژن کے مطابق بہت کچھ دیکھا جاسکتا ہے،کسی بھی دور میں آج تک اپوزیشن کی تسلی کے مطابق کوئی دور بھی نہیں گزرا۔ سینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے قائد ایوان شہزاد وسیم نے کہاکہ اپوزیشن نے بہت تنقید کی جن کا جواب دینا میرا حق ہے ،میں عزیز بلوچ ، بھتہ خوری اورجے آئی ٹی پر بات نہیں کررہا ،ٹیکس ریونیو میں 17 فیصد اضافہ ہوا ہے ،پاکستان کی معیشت کو سمیت دی ہے ،درآمدات اور ٹیکسوں میں کمی کی گئی ہے ،آپ جب حکومتوں میں تھے تو آپ کا شاہانہ طرزعمل تھا ،کیا آپ عوام کے طور طریقے سے رہ رہے تھے،آپ نے عوام کو ووٹ کی مشین کی طور پر رکھا ہوا ہے،اقتدار سے باہر ہونے پر عوام یاد آتے ہیں ،وزیراعظم نے وزیراعظم ہائوس کے خرچے کم کیے اور کوئی کیمپ آفس نہیں بنائے ،ملنگآدمی شلوار قمیض میں عام آدمی کی طرح رہ رہا ہے ،ریاست مدینہ کا نام لینے پر انہیں آگ لگ جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے بائیس سال سیاسی جدوجہد کی ،گزشتہ چالیس سال سے دو خاندانوں کے پاس سیاسی اجارہ داری تھی ،انکا اقتدار آمر کی مرہون منت رہا ،دو پارٹی سسٹم کو توڑا تحریک انصاف کی سب سے پہلی کامیابی ہے ،جب اقتدار ملا بڑے چیلنجز تھے ہم نے مقابلہ کیا ،پاکستان دنیا میں تنہائی کا شکار ہو چکا تھا ۔ انہوں نے کہاکہ معیشت کے لیے حکومت نے جو اقدامات اٹھائے دنیا نے اس کی پذیرائی کی ،بیرون ملک پاکستانیوں نے ریکارڈ ترسیلات زر بھجوائی ہیں ،گرین پاسپورٹ کی رینکنگ 6 درجے بہتر ہوئی ہے،نیا پاکستان ہائوسنگ سکیم عام آدمی کے لیے ہے ،ساٹھ سال کے بعد دیامر بھاشا ڈیم ، مہمند ڈیم پرعملی کام شروع ہونے جارہا ہے۔ انہوںنے کہاکہ مودی نے اس وقت پاکستانی حکمرانوں سے ذاتی دوستی کی پینگیں بڑھائی تھی ،ساڑھیوں اور آموں کے تحفے بھجواتے جاتے تھے ،پاکستانی قیادت کشمیر پر بات کرنے کی بجھانے پرچی جیب میں لے کر گھومتی رہتی تھی،آج پاکستان نہیں مودی دنیا میں تنہا ہوچکا ہے ،مودی کو چاہ بہار ریلوے منصوبہ سے بھی ہٹا دیا گیا ہے ،اس وقت بھارت شکست و ریخت کا شکار ہے ،کون ہے تنہا ، پاکستان یا مودی ؟۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس جمعہ کی صبح ساڑے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں