بدھ 05  اگست 2020ء
بدھ 05  اگست 2020ء

نیب کی کارکردگی بارے لوگ کیا کہتے ہیں؟ گیلانی اینڈ گیلپ پاکستان کی سروے رپورٹ میں انکشاف

اسلام آباد(آن لائن )نیب چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں 100فیصد کرپشن فری پاکستان کیلئے میگاکرپشن، وائٹ کالر کرائمز کے مقدمات کو محنت، شفافیت اور میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے، نیب کے مقدمات میں سزا کی شرح 68.8فیصد ہے، معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں نے چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی کارکردگی کو سراہا ہے۔ جسٹس جاوید اقبال نےچیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالنے کے بعد ناصرف بدعنوانی کی روک تھام کے لئے انسداد بدعنوانی کی موثر حکمت عملی وضع کی بلکہ بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); لانے کے لئے ضروری اقدامات بھی کیے۔ معتبر بین الاقوامی اور قومی اداروں جیسے ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل پاکستان عالمی اقتصادی فورم پلڈاٹ اور مشال پاکستان نے نیب کی کارکردگی کی تعریف کی ہے، 2019ء￿ میں نیب کے مقدمات میں سزا کی مجموعی شرح 68.8فیصد رہی۔ گیلانی اینڈ گیلپ پاکستان کے سروے کے مطابق 59فیصد لوگ نیب کی کارکردگی پر اعتماد کرتے ہیں، یہ پاکستان کے لئے فخر کی بات ہے کہ نیب ناصرف ملک کے انسداد بدعنوانی کے اداروں کیلئے بلکہ سارک ممالک کیلئے بھی رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیب سارک اینٹی کرپشن فورم کا چیئرمین ہے جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان واحد ملک ہے جس نے بدعنوانی کی روک تھام کے لئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے ہیں۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبوں میں چین پاکستان معاشی تعاون میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے مل کر کام کر رہے ہیں۔ نیب ملک کا انسداد بدعنوانی کا واحد ادارہ ہے جو بدعنوان عناصر سے لوٹی گئی رقم وصول کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کررہا ہے۔ نیب نے اپنے قیام سے اب تک 466.069ارب روپے بدعنوان عناصر سے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں یہ وصول کی گئیرقم بعض سرکاری و نجی اداروں اور سینکڑوں متاثرہ افراد میں تقسیم کی گئی ہے جبکہ تمام رقم قومی خزانے میں جمع کرائی گئی جو کہ نیب کی شاندار کارکردگی ہے۔ نیب اپنے انویسٹی گیشن افسران کو جدید خطوط پر تربیت دینے کے لئے پرعزم ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کے وڑن کے تناظر میں نیب نے مشترکہ تفتیشی ٹیم کا نیا نظام وضع کیا ہے جس سے انکوائری اور انویسٹی گیشن کے معیار میں بہتری آئی ہے، مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سینئرانویسٹی گیشن افسر، جونیئر انویسٹی گیشن افسر، ایڈیشنل ڈائریکٹر (بطور کیس افسر) لیگل کونسل، مالیاتی ماہر اور فرانزک ماہر پرمشتمل ہے جو کہ اجتماعی دانش سے مستفید ہونے کے لئے متعلقہ ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر کی زیرنگرانی کام کرتی ہے۔ نیب نے اپنی پاکستان ٹریننگ اینڈ ریسرچ اکیڈمی قائم کی ہے جس میں انویسٹی گیشن افسران کی جدید بنیادوں پرخصوصی تربیت شروع کی گئی ہے تاکہ منی لانڈرنگ کے کیسز اور وائٹ کالر کرائم کیانویسٹی گیشن کو بہتربنایا جا سکے۔ دستاویزات، فنگرپرنٹ کی جانچ پڑتال اور ڈیجیٹیل ڈیٹا کے تجزیے کے لئے نیب راولپنڈی میں فرانزک سائنس لیبارٹری قائم کی گئی ہے اس لیبارٹری سے ناصرف سیکرسی یقینی بنانے میں مدد ملے ہے بلکہ انویسٹی گیشن کی تحقیقات کے معیار میں بھی بہتری آئی ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال ہفتہ وار پندرہ دنوں ، ماہانہ، سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ بنیادوں پر نیب ہیڈکوارٹرز اور تمام علاقائی بیوروز کی کارکردگیکا ناصرف خصوصی طور پر تیارشدہ جدید کمپیوٹر پر مبنی مانیٹرنگ اینڈ ایولیشن نظام کے ذریعے جائزہ لیتے ہیں بلکہ چیئرمین نیب انسپکشن اینڈ مانیٹرنگ ٹیم تمام متعلقہ شعبوں کی کارکردگی کا فزیکلی بھی جائزہ لیتی ہے جس سے نیب کی کارکردگی کا فیصلہ کرنے میں مدد ملتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ قانون کے مطابق درست اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ نیب چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں 100فیصد کرپشن فری پاکستان کیلئے میگاکرپشن، وائٹ کالر کرائمز کے مقدمات کو محنت، شفافیت اور میرٹ پر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے پرعزم ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں