اتوار 09  اگست 2020ء
اتوار 09  اگست 2020ء

اسلام آباد (این این آئی) قومی اسمبلی میں کے الیکٹرک کے معاملے پر شدید ہنگامہ آرائی ہوئی ، وزیر توانائی عمر ایوب پیپلز پارٹی حکومت پر برس پڑے ، وزیر توانائی کے خطاب کے دور ان پیپلز پارٹی کے اراکین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے شیم شیم کے نعرے لگادیئے ،رکن قومی اسمبلی اسلم خان کا خواتین ارکان کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ،اسلم خان نے خواتین کوبے شرم کہہ دیا ،ڈپٹی اسپیکر کے کہنے پر اسلم خان نےالفاظ واپس لے لئے جبکہ وزیر توانائی عمر ایوب نے کراچی میں کرنٹ لگنے سے حادثات کا ذمہ دار سندھ googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ شہر سے پانی نکالنے کے لیے مشینری بجلی سے نہیں ڈیزل سے چلتی ہے،کراچی میں نقاسی آب کا نظام برباد ہو چکا ہے،علی زیدی کہہ کہہ کر تھک سندھ حکومت نے توجہ نہیں دی،سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے،اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کو جرمانہ کرنا اور سزا دینا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ مری نے وزیر توانائی کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ حکومت کا ایک نمائندہ کے الیکٹرک کے بورڈ پر نہیں ،جو تین ممبر ہیں انکا تعلق وفاق سے ہے، کیا وزیر توانائی کے بیانات سے کراچی میں بجلی کا مسئلہ حل ہوجائے گا،اگر آپ کی باتوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا تو قومی اسمبلی میں ہمارے کان نہ پکائیں،وزیر توانائی بتائیں کتنے دنوں میں لوڈ شیڈنگ کا معاملہ حل ہو گا ۔اسد عمر نے کہا کہ ماضی میں بجلی کی پیداوار کیلے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا، سبق حکومتوں نے کراچی میں نہ ہی بجلی پیدا کی اور نہ باہر سے لانے کا انتظام کیا، راجہ پرویز اشرف اور خواجہ آصف بجلی کے وزیر رہے انہوں نے کے الیکٹرک کیخلاف ایکشن کیوں نہیں لیا، تاثر دیا جارہا ہے کہ پی ٹی آئی حکومت نے کے الیکٹرک کی نجکاری کی، گزشتہ ادوار حکومت میں کہا گیا کراچی ہمارا مسئلہ نہیں، تحریک انصاف کی حکومت یہ نہیں کہے گی کراچی ہمارا مسئلہ نہیں،کراچی ہمارا ہے، اس کے مسائل ہم حل کریں گے، کراچی کے بغیر پاکستان نامکمل ہے، کراچی میں لوڈشیدڈنگ کا مسئلہ جلد حل کر لیں گے-شازیہ مری نے اپنے خطاب میں کہا کہ اگر میں جھوٹ بول رہی ہوں تو مجھے جھوٹا ثابت کریں،آپ تو 45 سال سے لوڈشیڈنگ کررہے ہیں پاکستان میں،آپ چپ کرکے بیٹھیں، میں آپکو وارننگ دے رہا ہوں-اسد عمر کی تقریر کے دوران اپوزیشن کا شدید شور شرابہ،اس موقع پر اسد عمر، شازیہ مری، عمرایوب میںنوک جھونک بھی جاری رہی۔ جمعرات کو قومی اسمبلی میں کراچی میں بجلی کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ کے بارے توجہ دلاؤ نوٹس پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ نے پیش کیا۔ وفاقی وزیر عمر ایوب نے کہاکہ نیپرا کابینہ ڈویژن کے زیر نگرانی ہے ،کے الیکٹرک کا معاملہ کئی سالوں سے ہے،چھ سو پچاس میگاواٹ کے علاوہ ہم ان کو او میگاواٹ مزید بجلی گی جا رہی ہے۔ عمر ایوب نے کہاکہ کے الیکٹرک کو نیشنل گریڈ سے مزید بجلی درکار ہے،کے ایس سیکراچی میں مزید دو مزید گریڈ سٹیشن بنائیں گے۔ انہوںنے کہاکہ سندھ سے نیپرا میں موجود ممبر اپنے اختیارات استعمال نہیں کر رہے،حکومت الیکٹرک کے معاملات کو باریک بینی سے مانیٹر کر رہی ہے،کراچی کے عوام کے مسائل کے حل کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ ہم نے کے الیکٹرک کو سو مکعب کیوبک فٹ گیس دی ،کابینہ کمیٹی توانائی نے کراچی میں کے الیکٹرک کو دو گرڈ بنانے کا پابند کیا ہے ،ایک گرڈسے وہ نیشنل گرڈ کی بجلی اٹھائیں گے ،دوسرے گرڈ سے اپنی تیار کردہ بجلی کے الیکٹرک اٹھائیں گا ۔ انہوںنے کہاکہ نیپرا میں چار ممبر ہوتے ہیں سندھ کے ممبر کو تگڑا ہونا پڑے گا تاکہ حادثات کے متاثرین کو معاوضہ دیا جائے ،کراچی کو 180میگاواٹ بجلی کیلئے مزید گیس دیں گے۔انہوںنے کہاکہ معاہدے کے تحت کے الیکٹرک کو 600 میگاواٹ دینے کے پابند ہیں،کے الیکٹرک کو اس وقت ایک سو میگا واٹ اضافی بجلی دے رہے ہیں،بجلی کیپیداوار کے لیے ایک سو ایم ایم سی ایف ڈی گیس بھی اضافی دی جا رہی ہے،کے الیکٹرک کا نظام اضافی بجلی لینے کے قابل نہیں ہے،کے الیکٹرک کراچی میں دو کامن ڈیلیوری پوائنٹس بنائے گا،کراچی میں جو حالیہ دنوں میں اموات ہوئیں ان پر کارروائی سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے،آئندہ کچھ دنوں میں دو سو میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کے لیے 30 ایم ایم سی ایف ڈی گیس مزید کے الیکٹرک کو دی جائے گی، آغا رفیع اللہ نے کہاکہ ہم پارلیمنٹ میںلوگوں کے مسائل کے حل کیلئے پہنچے ہیں، ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم کے الیکٹرک کے مسائل حل کریں۔ عمر ایوب نے کہاکہ 200 میگاواٹ مزید بجلی کے الیکٹر ک کو دیں گے، ہم کراچی کی عوام کو جوابدہ ہیں، کے الیکٹرک کے بارے (آج ) جمہ کو نیپرا میں سماعت ہورہی ہے، پیپلزپارٹی اپنے نمائندے کو ہدایت کرے کہ انہیں بچانے کے چکر میں نہ پڑیں کارروائی کریں۔انہوںنے کہاکہ آج بھی کراچی کے عوام مسائل کا شکار ہیں،کےالیکٹرک معاہدے پر عمل درآمد کیوں نہیں کر رہی ہے۔عمر ایوب خان نے کہاکہ پی ٹی آئی کے ممبرز نے کراچی میں اکثریت حاصل کی،ہمیں عوام کے مسائل کا ادارک ہے،ہم عوام کو مسائل سے نکالنے کیلیے خصوصی اقدامات کر رہے ہیں،ہم کے ای ایس سی کو دو سو میگاواٹ مذید بجلی دیں گے۔ انہوںنے کہاکہ نیپرا میں سندھ کا نمائندہ حکومت سندھ نے نامزد کیا ہے،سندھ حکومت اس کے خلاف ٹھوس کارروائی کرے۔انہوںنے کہاکہ کراچی میں بارشکے بعد اموات پانی کھڑا ہونے سے ہوتی ہیں،بارش کے بعد شہر میں پانی جمع ہونے کا ذمہ دار کون ہے،شہر سے پانی نکالنے کے لیے مشینری بجلی سے نہیں ڈیزل سے چلتی ہے،کراچی میں نقاسی آب کا نظام برباد ہو چکا ہے۔شازیہ مری نے کہاکہ کیا وزیر توانائی کے بیانات سے کراچی میں بجلی کا مسئلہ حل ہوجائے گا،اگر آپ کی باتوں سے یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا تو قومی اسمبلی میں ہمارے کان نہ پکائیں،سندھ کا ایک بھی نمائندہ کے الیکٹرک کےبورڈ میں شامل نہیں ہے۔وزیر توانائی عمر ایوب نے کراچی میں کرنٹ لگنے سے حادثات کا ذمہ دار سندھ حکومت کو قرار دیدیا انہوںنے کہاکہ حکومت سندھ نے بھل صفائی کیوں نے کرائی ،علی زیدی کہہ کہہ کر تھک سندھ حکومت نے توجہ نہیں دی۔ شازیہ مری نے کہاکہ یہاں مسائل کا حل تلاش کرنے آتے ہیں ،شازیہ مری ،نیپرا کے ممبر کی بات کی، منسٹر انرجی سندھ نے نیپرا کو کے الیکٹرک کو جرمانہ کرنے کیلئے خط لکھا، سندھ حکومت کاایک نمائندہ کے الیکٹرک کے بورڈ پر نہیں ،جو تین ممبر ہیں انکا تعلق وفاق سے ہے،۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ آپ سیاسی باتیں کر رہی ہیں سوال کریں، راجہ پرویز اشرف انکو سمجھائیں۔ شازیہ مری نے کہاکہ کیا سمجھائیں کہ میں سیاست چھوڑ دوں؟میرا سوال ہے کہ کتنے دن میں کراچی کو اس اذیت سے نکالا جائیگا۔آغا رفیع اللہ نے کہاکہ آج بھی کراچی کے عوام مسائل کا شکار ہیں،کے الیکٹرک معاہدے پر عمل درآمد کیوں نہیں کر رہی ہے ۔ عمر ایوب نےکہاکہ کے الیکٹرک سندھ کی سرزمین پر ہے،سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت ہے،اگر کوئی غلط کام کرتا ہے تو اس کو جرمانہ کرنا اور سزا دینا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے،وفاقی حکومت معاہدے کے علاوہ اضافی سہولیات دے رہی ہے، اجلاس کے دور ان عمرایوب کے تسلی بخش جواب نہ دینے پر پی ارکان کا ایوان میں شور شرابہ کیا ،شیم شیم اور نو نو کے نعرے ،وزیر توانائی عمر ایوب کی تقریر پر پیپلز پارٹی کے ارکان کے شیم شیمکے نعرے لگائے ،رکن قومی اسمبلی اسلم خان کا خواتین ارکان کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ ڈپٹی اسپیکر نے کہاکہ خواتین ارکان کا احترام کریں ان کے ساتھ ایسی گفتگو نہ کریں ،اجلاس کے دور ان اسلم خان نے پی پی پی خواتین کو بے شرم کہہ دیا ، پیپلز پارٹی کی خواتین ارکان اپنی نشستوں سے اٹھ کر سپیکر ڈائس کے سامنے پہنچ گئیں،قاسم خان سوری نے کہاکہ جو معذرت کرتا ہے وہ بڑا آدمی ہوتا ہے ۔ اسلم خان نے کہاکہ میں نے خواتین بارےکچھ نہیں کہا عمومی بات کی پھر بھی الفاظ واپس لیتا ہوں۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہاکہ ڈپٹی سپیکر صاحب، آپ نے جس طرح اسلم خان سے الفاظ واپس کروائے اسی طرح ان کے گھر پر فائرنگ کا بھی نوٹس لیں۔وفاقی وزیر اسد عمر کی تقریر کے دوران آغا رفیع اللہ نشست پر اٹھ گئے ،ڈپٹی سپیکر نے آغا رفیع اللہ کو جھاڑ پلادی ،آپ ہمیشہ ایوان کا ماحول خراب کرتے ہیں، اس حوالے سے آپ کو تنبیہ کرتا ہوں، اپنی نشست پر بیٹھ جائیں۔ قاسم خان سورینے کہاکہ اس ایوان میں آپ اکیلے نہیں ہیں،آپ نے پورے ایوان کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ اسد عمر نے کہاکہ کیا کراچی میں پہلی بار لوڈشیڈنگ ہورہی ہے ،راجہ پرویزاشرف اور خواجہ آصف دونوں بجلی کے وزیر رہے انہوں نے کے الیکٹرک کے خلاف ایکشن کیوں نہ لیا ،ان دونوں کی حکومتوں نے نہ کراچی میں بجلی پیدا کی نہ باہر سے بجلی لانے کا انتظام کیا ،یہاں ان کی حکومت کے ایک وزیر بجلی نے کہا تھا کراچی میرا مسئلہ نہیں ہے۔ اسد عمرنے کہاکہ ایوان میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے ہم نے کے الیکٹرک کو پرائیویٹ کیا ہے ،کے الیکٹرک کو ق لیگ دور میں پرائیویٹ کیا گیا ،گزشتہ دور حکومت میں کراچی میں کھڑا ہو کر کہا کراچی میرا مسئلہ نہیں ،کراچی میں لوڈ شیڈنگ کا معاملہ جلد حل کر لیں گے ،کراچی ہماراہے ہم اس کا معاملہ حل کریں گے ،ہم نہیں کہیں گے کراچی ہمارا مسئلہ نہیں ،کراچی کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے۔راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ مجھے آج سمجھ آیا کہ سوال گندمجواب چنا کا مفہوم کیا ہے،کراچی میں بجلی کے مسلے پر پیپلز پارٹی نے توجہ دلاؤ نوٹس لایالیکن اس کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے،ہم پوچھ رہے ہیں کے الیکٹرک معاملے کا حل کیا ہے،حکومت دو سال کے بعد بھی ہمیں کہہ رہے ہیں اگلے دوسال بعد بتائیں کہ حل کیا کیا ہے۔انہوںنے کہاکہ اسد عمر اور عمر ایوب کا بڑا احترام ہے مگر سوال کا جواب ٹو دی پوائنٹ ہونا چاہیے ،ایک مخصوص سوال کی بجائے تقاریر کریں اور سب کچھ پچھلیحکومتوں پر ڈال دیں تو یہ کہاں کی منطق ہے ؟یہ فقرے چار چھ مہینے چلتے ہیں مگر آپ کی حکومت کو دو سال ہوچکے ہیں، مسائل کا حل پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں اگلے دو سال میں حل دینگے، کیا یہ جواب ہے ؟۔راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ اپوزیشن کا کام سوال کرنا ہے، حکومت کو جواب دینے کیلئے ہے،اگر سوالوں پر جذباتی اور غصہ ہو کر خواتین کی عزت کا خیال نہ رکھا جائے تو یہ مناسب نہیں،اس غیر ذمہ دارانہ رویے کو ترک کرنا چاہیے ،اسحوالے سے سپیکر کو رولنگ دینی چائیے،اسد عمر نے جو کہا وہ کیا جواب ہے ؟ کے الیکٹرک اور نیپرا وفاقی حکومت کے پاس ہے،اس بارے میں حکومت جواب کیوں نہیں دے رہی۔ وفاقی وزراء کی طرف سے ہمیں یہ بتانا کہ کے الیکٹرک سندھ کی زمین پر ہے،اس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں،یہ ایوان اس لیے نہیں ہے کہ یہاں ہر بات بغیر سوچے سمجھے کہہ دی جائے،یہاں ایک وزیر نے کہا کہ میرے گھر میں کسی نے لفافہ دیا اور وہ لفافہ یہاں لےآئے،کل اگر کوئی ہمیں لفافہ دے اور ہم وہ یہاں لے آئیں تو کیا وہ مناسب ہو گا،خدا کے لیے اس ایوان کو تماشہ نہ بنائیں اور ایک دوسرے کو گالیاں دینے کے لیے نہ بنائیں،مجھے یقین ہوتا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جان بوجھ کر اپنے وزیر اعظم کو بے عزت کروا رہے ہیں۔انہوںنے کہاکہ جے آئی ٹی کے نوٹیفائڈ ممبران ہوتے ہیں، اس پر رینجر، پولیس آئی بی سب کے دستخط ہیں آپ نے کہا اس پردستخط ہی نہیں، خدا کیلئے اس ہاؤس کو تماشا گاہ نہ بنائیں، اگرآپ اپنی اور اپنے وزیر اعظم کی عزت چاہتے ہیں تو دوسروں کے لیڈروں کی عزت کرنا سیکھیں، آپ جان بوجھ پر اپنے وزیر اعظم کی بے عزتی کراتے ہیں، کروڑوں لوگوں کی ہم سے امیدیں ہیں اس ہاؤس کو تو نہ خراب کریں۔وفاقی وزیر علی زیدی کی جانب سے جے آئی ٹی رپورٹس سامنے لائے جانے کا معاملہ راجہ پرویز اشرف نے کہاکہ تحریک انصاف کے وزراء جان بوجھ کر اپنے وزیراعظم کو بد نام کر رہے ہیں،اس ایوان میں ہماری لیڈرشپپر سنگین الزامات لگائے گئے،آپ اپنے مقاصد کے لئے قومی اسمبلی کا استعمال نہ کریں،اس معزز ایوان کو ایک دوسرے کو گالیاں دینے یا تھپڑ مارنے کے لئے استعمال نہ کریں۔ عمر ایوب نے کہاکہ مستقل حل کے لئے ایٹمی بجلی متبادل توانائی انرجی سے کراچی کو بجلی دیں گے ،نیشنل گریڈ سے بھی بجلی دیں گے۔وفاقی وزیر مراد سعیدنے کہاکہ سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف کی بہت باتوں سے اتفاق کرتے ہیں، ہر کسی کا یہاں حق ہے کہوہ یہاں بات کرے لیکن اخلاق سے گری بات کرنیکا کسی کو حق نہیں، سندھ حکومت کی جے آئی ٹی کی بحث اور علی زیدی کی بحث چل رہی ہے، اس رپورٹ میں بھتہ خوری، قتل و غارت کی بات اٹھائی گئی، بھتہ خوری اور قتل کس کے کہنے پر کیا گیا وہ دوسری جے آئی ٹی میں ہے، عزیر بلوچ کے 164 کااعترافی بیان لیکر آیا ہو، صرف پانچ پوائنٹ اٹھاؤ گا اپوزیشن دو گھنٹے بول لے، جے آئی ٹی کے مندرجات پر غور نہیں ہو رہا۔مراد سعید نے کہاکہاعترافی بیان میں عزیر بلوچ نے کہا کہ 2008 سے 13 تک مختلف ذرائع سے اسلحہ خریدا ،عزیر بلوچ نے کہا پولیس مقابلے، اغوا برائے تاوان میں پی پی کے کہنے پر طاقت کا استعمال کیا ،جوئے کے اڈوں کی سرپرستی کی ،بھتہ جارہا ہے زرداری کی بہن کو اور عزیر بلوچ کو،عزیر بلوچ نے کہا کہ میں نے پولیس موبائل استمعال کر کے قتل کیا سرکاٹے اور لاشوں کو آگ لگائی، وفاقی وزیر نے کہاکہ دو جے آئی ٹیز کی بات ہورہی ہے ،دونوں جے آئی ٹیز میں یہ بات سامنے آتی ہے عزیر بلوچ کے سہولت کار اقتدار میں بیٹھے تھے ،عزیر بلوچ کہتا ہے کہ یوسف بلوچ سمیت تھانے کی موبائل لیکر گیا ،ایک بندے کو سرکاری گاڑیوں میں پکڑا اس کا سر اتارا اور فٹ بال کھیلا ،پی پی پی ارکان نے مرادسعید کی تقریر کے دوران شور شرابہ کیا ،مرادسعید کی تقریر کے دوران پی پی پی رکن شاہدہ رحمانی نے کورم کی نشاندہی کردی۔وفاقی وزیر نے کہاکہ 14 شوگرملوں پر آصف زرداری کے کہنے پر قبضے کرنے میں مدد کی ، کورم کی نشاندہی کے بعد پیپلز پارٹی کی شازیہ صوبیہ سومرو نے مراد سعید کو ہیڈ فون دے مارا،ہیڈ فون مراد سعید کو نہیں لگا،اپوزیشن اراکین کی اکثریت ایوان سے چلی گئی۔اپوزیشن کی نشاندھی کے بعد کورم ٹوٹ گیا،قومی اسمبلی اجلاس میں ارکان کی مطلوبہ تعداد ایوان سے غیر حاضر ،قومی اسمبلی کا اجلاس کورم مکمل ہونے تک ایوان کی مزید کارروائی موخر کردی گئی،اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع نہ ہو سکا، بعد ازاں کورم پورا نہ ہونے کے باعث قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی صبح گیارہ بجے تک ملتوی کر دیا گیا ۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں