پیر 10  اگست 2020ء
پیر 10  اگست 2020ء

پٹرولیم مصنوعات بحران، کچھ بڑے شامل ہیں؟ نام بہتر نہ ہوئے تو عدالت نام تجویز کریگی،عدالت نے سرکاری ریکارڈ چھپانے کی کوشش کرنے پر سخت کارروائ

لاہور(این این آئی)لاہور ہائیکورٹ نے پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کی تحقیقات کیلئے اعلی سطح کے کمیشن کی تشکیل کیلئے اٹارنی جنرل پاکستان سے نام طلب کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کی جانب سے کمیشن کے نام بہتر نہ ہوئے تو عدالت نام تجویز کرے گی،اگر کسی نے سرکاری ریکارڈ چھپانے کوشش کی تو سخت کارروائی ہوگی،پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کے معاملے پر ایسا لگتا ہے کچھ بڑے شامل ہیں۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پیٹرولیم مصنوعات کے بحران پر جوڈیشل کمیشن بنانے اور قیمتوں میں اضافے کے خلاف درخواستوں پر سماعت کی۔اس موقع پر سیکرٹری ٹو وزیراعظم، اٹارنی googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); جنرل پاکستان، چیئرپرسن اوگرا سمیت سرکاری اورلاء افسران عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے اٹارنی جنرل پاکستان سے استفسار کیا آپ سے کہا گیا تھا کہ اسپیکر قومی اسمبلی سے پوچھ کے بتائیں کہ وہ کمیٹی بنا رہے ہیں یا نہیں،اس حوالے سے واضح پالیسی لانے کی ہدایت کی گئی تھی، آپ نے یہ بھی نہیں بتایا کہ بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کیا کارروائی کی گئی ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ فاضل عدالت کے حکم کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کر کے انہیں آگاہ کیا۔ اسپیکر قومی اسمبلی نے معاملہ وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔چیف جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کے معاملے میں ایسا لگتا ہے کہ کچھ بڑے شامل ہیں، بظاہر لگتا ہے آئل مافیا نے فائدہ اٹھانے کیلئے پیٹرولیم مصنوعات کی قلت پیدا کی۔یہ پریکٹس رہی ہے کہ حکومت ہر مہینے کی پہلی تاریخ کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاتی تھی تاہم گزشتہ ماہ 26 جون کو ہی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے کا نوٹیفکیشن کر کے مافیا کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔ چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے کہا کہجب تک بحران کے ذمہ دار پکڑے نہیں جائیں گے تب تک بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔ فاضل عدالت نے پرنسپل سیکرٹری ٹو وزیراعظم کے تحریری بیان پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تحریری جواب میں الفاظ کا گورکھ دھندا نظر آتا ہے، بتائیں کہ پیٹرولیم مصنوعات کے بحران پر کب کارروائی شروع ہوئی،یہ معاملہ کب وزیر اعظم کے علم میں لایا گیا؟۔اٹارنی جنرل نے تجاویز پر مبنی رپورٹ فاضل عدالت کے رو برو پیش کرتے ہوئے کہا کہ میری ذاتی تجاویز عدالت کے سامنے ہیںاگر عدالت اس میں ردو بدل کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس محمد قاسم خان نے پیٹرولیم مصنوعات کے بحران کی تحقیقات کے لیے اعلی سطحی کمیشن کے قیام کیلئے اٹارنی جنرل پاکستان سے نام طلب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے کمیشن میں مضبوط لوگ چاہئیں،اگر اٹارنی جنرل کی جانب سے کمیشن کیلئے تجویز کردہ نام بہتر نہ ہوئے تو عدالت نام تجویز کرے گی، اگر کسی سرکاری ریکارڈ کو چھپانے کی کوشش کی تو سخت کارروائی ہوگی۔فاضل عدالت نے کیس کی مزید سماعت 16جولائی تک ملتوی کردی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں