پیر 10  اگست 2020ء
پیر 10  اگست 2020ء

یہ بات کیوں کی؟ سابق صدر بارے بات کرنے پر شازیہ سومرو نے مراد سعید کو ہیڈ فون دے مارا

اسلام آباد (این این آئی)قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پیپل پارٹی کی رکن اسمبلی شازیہ سومرو نے تحریک انصاف کے مراد سعید کو ہیڈ فون پھینک کر مارا تاہم خوشی قسمتی سے وہ محفوظ رہے۔جمعرات کو اجلاس کے دوران مراد سعید نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کئی دنوں سے یہ بحث چل رہی ہے کہ سندھ حکومت کی جے آئی ٹی درست ہے یا علی زیدی کی لیکن اس کے مواد پر غور نہیں ہو رہا جہاں اس میں بھتہ، ڈاکےسمیت دیگر باتیں اٹھائی گئیں۔انہوں نے ایوان میں عذیر بلوچ کے 164 کے بیان حلفی کو پڑھتے ہوئے googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کہا کہ عذیر بلوچ نے کہا کہ 2008 میں جب میں جیل میں تھا تو پیپلز پارٹی نے قیدی کارکنوں کا انچارج بنایا، 2008 میں رحمٰن ڈکیٹ کی پولیس مقابلے ہلاک ہونے کے بعد لیاری گینگ وار کی مکمل کمان سنبھالی اور پیپلز امن کمیٹی کے نام سے مسلح دہشت گرد گروپ بنایا۔انہوں نے بیان حلفی پڑھنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے کہا کہ 2008 سے 2013 تک مختلف ذرائع سے اسلحہ خریدا، پولیس مقابلے، اغوا برائے تاوان، قتل غارت گری، تھانوں پر حملے اور ہڑتالوں کو کامیاب بنانے کے لیے میں نے طاقت کا مظاہرہ کیا۔ان کا کہنا تھا کہ عذیر نے کہا کہ لیاری کے علاقے میں اپنی مرضی کے پولیس افسران لگائے، جوئے کے اڈوں کی سرپرستی کی، بھتہ وصولی کے لیے مسلح گروپ بنائے اور بھتہ آصف زرداری کی بہن اور عذیر بلوچ کو جا رہا ہے۔مراد سعید نے کہا کہ عذیر بلوچ کہتا ہے کہ مجھے قتل کرنا تھا، قتل کے لیے تین پولیس موبائلیں میں نے جمع کیں، انسپکٹر یوسف بلوچ، ایس ایچ او جاوید بلوچ اور انسپکٹر چاند خان کو استعمال کیا، بندے اغوا کیے، سر تن سے جدا کیا، اس سے فٹبال کھیلی، اس کی ویڈیو بنائی، لاشوں کو آگ لگائی اور سرپرستی آپ کی تھی۔رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ عذیر نے بتایا کہ میں نے سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر 500 سے زائد نوکریاں جرائم پیشہ افراد میں تقسیم کیں، میں نے اویس مظفر ٹپی کوآصف زرداری کے لیے 14شوگر پر قبضے میں مدد کے لیے استعمال کیا، میں نے اپنے گروپ کے 15-20 لڑکے آصف زرداری کے کہنے پر بلاول ہاؤس میں بھیجے جنہوں نے بلاول ہاؤس کے گردونواح میں لوگوں کو ہراساں کیا اور 30-40 گھر خالی کرائے۔اس دوران پیپلز پارٹی کے اراکین ایوان سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے اور پیپلز پارٹی کی رکن اسمبلی شاہد رحمانی نے ایوان میں کورم نامکمل ہونے کی نشاندہی کرائی۔پیپلز پارٹی کے اکثر اراکینکے واک آؤٹ کے بعد پیپلز پارٹی کی شازیہ سومرو نے مراد سعید کو ہیڈ فون اٹھا کر مار دیا۔پیپلز پارٹی اراکین کے واک آؤٹ کے بعد کورم کی گنتی کا عمل جاری تھا کہ شازیہ سومرو اپنی بینچز سے اٹھ کر ن لیگ کی بینچز پر آئیں اور انہوں نے ہیڈ فون اٹھا کر مراد سعید کو پھینک کر مارا البتہ خوش قسمتی سے انہیں ہیڈ فون نہیں لگا۔اس کے بعد کورم مکمل ہونے تک اجلاس کو ملتوی کردیا گیا۔ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ مطابق شازیہ سومرو نے مائیک اور اس کی تاریں اکٹھی کرکے مراد سعید کو دے ماریں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں