جمعرات 06  اگست 2020ء
جمعرات 06  اگست 2020ء

کوئٹہ ( آن لائن )پاکستان نے طورخم کے بعد پاک افغان چمن سرحد پر بھی پیدل آمدورفت اور مقامی سطح کی تجارت کو پہلی بار باضابطہ قانونی شکل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ آمدورفت صرف پاسپورٹ پر ہوگی، تاہم سرحدی علاقوں کے مکینوں کو محدود رعایت دینے پر غور کرنے کے لیے چیف سیکریٹری بلوچستان کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔حکام کے مطابق یہ فیصلہافغانستان سے چمن کے راستے دہشت گردوں اور نا پسندیدہ عناصر کے پاکستان میں داخل ہونے کے خدشات اور بڑے پیمانے پر ہونے والی سمگلنگ کے تدارک کے googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); لیے کیا گیا ہے۔دوسری جانب چمن کے سیاسی، قبائلی اور تاجر رہنمائوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سرحد پر آمدورفت کو قانونی بنانے اور چھوٹے پیمانے پر ہونے والی تجارت پر بھاری ٹیکسز کے نفاذ سے بلوچستان کے سرحدی علاقے کے تقریبا 20 سے 25 ہزار افراد بے روزگار ہو جائیں گے، جبکہ اس کے اثرات کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان کی معیشت پر بھی پڑیں گے چمن، افغانستان کے ساتھ پاکستان کی 26 سو کلومیٹر طویل سرحد پر دو بڑی سرحدی گزر گاہوں میں سے ایک ہے، جو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے تقریبا 120 کلومیٹر دور ضلع قلعہ عبداللہ میں واقع ہے۔ خیبر پختونخوا میں طورخم سرحد پر پاکستان نے تین سال قبل ہی آمدورفت کے لیے پاسپورٹ کی شرط لازمی قرار دے دی تھی تاہم چمن سرحد پر قیام پاکستان سے لے کر اب تک پیدل آمدورفت کا کوئی قانونی طریقہ کار رائج نہیں تھا۔ ایک سرکاری اندازے کے مطابق چمن سرحد سے روزانہ تقریبا 25 سے 30 ہزار پاکستانی اور افغانی باشندے پاسپورٹ اور ویزے کے بغیر سرحد عبور کرتے تھے چمن چیمبر آف کامرس کے صدر حاجی آدم خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی سرحدی علاقوںچمن اور قلعہ عبداللہ کے تقریبا 10 سے 12 ہزار تاجر افغانستان کے سرحدی شہر سپین بولدک میں کاروبار کرتے ہیں جس کے لیے وہ روزانہ صبح سرحد عبور کر کے افغانستان جاتے اور شام کو واپس پاکستان آتے تھے۔ اس کے لیے کسی پاسپورٹ، ویزے یا راہداری کی شرط نہیں تھی، صرف شناختی کارڈ پر چمن یا قلعہ عبداللہ کا پتہ درج ہونا ضروری تھاحاجی آدم خان کے مطابق 12 سے 15 ہزار مزدوروں کا روزگار بھی اسی سرحد سے وابستہ ہے۔ انہیںچھوٹے پیمانے پر تجارتی سامان بغیر کسی ٹیکس کے ہاتھ ریڑھیوں کے ذریعے پاکستان لانے کی اجازت تھی۔ ان مزدوروں کو مقامی اصطلاح میں لغڑی کہتے ہیں اور حکومت نے لغڑی پیکیج کے تحت انہیں خصوصی کارڈز جاری کیے تھے جن کی بنیاد پر وہ سامان کی ترسیل صرف ہاتھ ریڑھیوں کے ذریعے کرسکتے تھے حاجی آدم خان کا کہنا ہے کہ کورونا کی وجہ سے رواں سال دو مارچ کو سرحد بند ہوئی اور اب جب جزوی طور پر سرحد بحالہوئی تو ان 25 ہزار تاجروں اور مزدوروں کو سرحد پار جانے کی اجازت نہیں دی جارہی جس کی وجہ سے وہ سب بے روزگار ہوگئے ہیں سرحد کی دو مارچ سے قبل کی حالت میں بحالی کے لیے چمن میں سرحدی گیٹ کے قریب تاجر اور مزدور گذشتہ 35 دنوں سے احتجاجی دھرنے پر بیٹھے ہیں۔ احتجاج کو علاقے کی تقریبا سبھی سیاسی جماعتوں اور قبائلی عمائدین کی بھی حمایت حاصل ہے۔محکمہ داخلہ بلوچستان کے ایک عہدے دار نے غیرملکیمیڈیاکو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ چمن سرحد پر بھی طورخم طرز پر آمدورفت کو قانونی شکل دینے کا اصولی فیصلہ کیا گیا ہے یعنی پاکستانی اور افغان باشندے اب صرف پاسپورٹ اور ویزے پر ہی سرحد عبور کرسکیں گے۔تاہم دونوں ممالک کے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی آپس میں رشتہ داریاں ہیں اور ان کا روزگار بھی دو سرحدوں میں تقسیم ہے اس لیے سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کو محدود رعایت دینے کے لیےتجاوز پر غور کیا جارہا ہے۔محکمہ داخلہ کے عہدے دار کے مطابق فیصلے کے نفاذ کے لیے سیاسی مشاورت اور تجاویز جمع کرنے کے لیے صوبائی وزیر داخلہ ضیا لانگو کی سربراہی میں چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی سربراہی میں ایک ذیلی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے جس میں ایڈیشنل چیف سیکریٹری داخلہ بلوچستان، صوبائی سیکریٹری لیبر، صوبائی سیکریٹری صنعت، کمشنر کوئٹہ ڈویژن، ڈائریکٹرکسٹمز، ڈپٹی کمشنر قلعہ عبداللہ، وزارت داخلہ اسلام آباد، وزارت تجارت اسلام آباد، پاک فوج، فرنٹیئر کور، آئی ایس آئی، ایم آئی اور پولیس کے نمائندے شامل ہوں گے کمیٹی سرحدی علاقوں کے رہائشیوں کی آمدورفت کے لیے طریقہ کار وضع کرنے، چھوٹے پیمانے پر ہونے والے تجارت پر ٹیکسز میں چھوٹ دینے، سرحد بند ہونے سے متاثر ہونے والوں کا ڈیٹا جمع کرنے کا میکنزم بنانے، متبادل روزگار کی تلاش اوربارڈر مارکیٹوں کے قیام کے لیے10 دنوں کے اندر تجاویز مرتب کرے گی کمیٹی ایران کی سرحد پر رائج راہداری نظا م اور تفتان سرحد پر لوکل بارڈر ٹریڈ کے طریقہ کار کو اپنانے سمیت مختلف آپشنز کا بھی جائزہ لے گی وزیرداخلہ بلوچستان میر ضیا اللہ لانگو نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاک افغان چمن سرحد پر پیدل آمدورفت اب پہلے جیسے یعنی آزادانہ نہیں ہوگی۔سب کچھ اب ضوابط اور طریقہ کار کے مطابق ہی ہوگا۔غیرملکی میڈیا سے بات کرتے ہوئے ضیا لانگوکا کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد بند ہونے کے بعد امن وامان کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا تو پتہ چلا کہ دہشت گردی کے واقعات میں واضح کمی آئی ہے مزید تحقیقات کی گئیں اور پچھلے ریکارڈز کو دیکھا گیا تو پتہ چلا کہ دہشت گردوں کا چمن سرحد کے ذریعے آنا جانا بہت زیادہ تھا۔ ہم نے بہت سے ایسے دہشت گردوں کو پکڑا ہے جو اسی راستے سے پاکستان آئے تھے۔ اس لیے اس سرحد سے ہمارے ملک کی سلامتی کو خطرہ ہے ان کا کہنا تھاکہ پاک افغان چمن سرحد پر اب پہلے جیسی (آزادانہ )آمدورفت ممکن نہیں، اس کے طریقہ کار کو تبدیل کیا جائے گا، آمدروفت کے ضوابط پر عمل کیا جائیگا۔ صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق حکومت نے سیکورٹی اداروں کے خدشات کو بھی دیکھنا ہے اور پیدل آمدورفت کے طریقہ کار تبدیل ہونے کے نتیجے میں متاثر اور بے روزگار ہونے والوں کو بھوک سے مرنے بھی نہیں دینا۔حکومت بلوچستان نے متاثر ہ افراد کو متبادل روزگار کی تلاش تکماہانہ 20 سے 30 ہزار روپے امداد دینے اور ایف سی میں بھرتی کرنے کی پیشکش کی ہے۔ہم نے یہ بھی آفر کی ہے کہ بارڈر پر جو ہم باڑ لگارہے ہیں اس کے کام میں ہم آپ کو مزدوری پر لگائیں گے۔ ہم ان کو متبادل روزگار دے کر ہی کوئی فیصلہ کریں گے۔ تاہم چمن کے سیاسی، تاجر اور مزدور تنظیموں نے حکومت کی امداد ی پیشکش کو مسترد کرتے ہوئے سرحد پر پیدل آمدورفت پرانے طریقہ کار کے مطابق بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔چمنچیمبر آف کامرس کے صدر حاجی آدم خان کا کہنا ہے کہ متبادل روزگار کا بندوبست آئندہ پانچ سے 10 سالوں میں بھی ممکن نہیں۔ ان کے مطابق چمن سرحد پر نیٹو سپلائی، افغان ٹرانزٹ ٹریڈ اور پاکستان اور افغانستان کی باہمی تجارت ہوتی ہے۔ ہر سال حکومت کو ٹیکسز کی مد میں اربوں روپے آمدن ہوتی ہے مگر کئی ہفتوں سے سرحد پر رکاوٹوں اور سختیوں کے باعث تجارت بری طرح متاثر ہے۔انہوں نے بتایا کہ کورونا سے پہلے پاک افغان چمنسرحد پر روزانہ 15 سو گاڑیاں تجارتی سامان لے کر افغانستان اور پاکستانی آتی جاتی تھیں۔ اب بمشکل 200 سے 250 گاڑیوں کی آمدورفت ہوتی ہے۔ چمن اور دوسری طرف افغان حدود میں ایک ہزار خالی کنٹینر جبکہ چمن کی طرف 800 کنٹینر سامان سے لدے کھڑے ہیں۔ کنٹینر چارجز، گاڑیوں کے کرایے اور دیگر اخراجات کی مد میں روزانہ تقریبا 30 ہزار روپے برداشت کرنے پڑرہے ہیں۔ اس کے علاوہ تاجروں کا تجارتی مال پھل وغیرہ بھیخراب ہورہا ہے۔سرحدی مسئلے پر بنائی گئی حکومتی کمیٹی کے رکن اورچمن سے منتخب رکن بلوچستان اسمبلی عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی صدر اصغر خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ پاک افغان چمن سرحد پر آمدورفت کے لیے مکمل طور پر پاسپورٹ کا نظام رائج کرنا ممکن نہیں۔سرحد پر روزانہ 20 سے 25 ہزار افراد کا آنا جانا ہوتا ہے جن میں سے بیشتر وہ پاکستانی باشندے اور تاجر ہیں جو صبح چمن سے جا کر افغان سرحدی شہر ویش اورسپین بولدک میں کاروبار کرتے ہیں اور شام کو واپس آتے ہیں۔ اس سرحدی کاروبار سے قلعہ عبداللہ کے 20 سے 25 ہزار خاندانوں کا براہ راست روزگار وابستہ ہے۔ کوئٹہ سمیت صوبے کی معیشت کا بڑا حصہ بھی اس پر انحصارکرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلعہ عبداللہ کے شہر چمن کی تو تقریبا 98فیصد آبادی کا ذریعہ معاش یہی سرحد ہے کیونکہ چمن میں ایک بھی انڈسٹری یا کارخانہ نہیں۔ باقی علاقوں کی طرح یہاں زراعت بھی بالکل نہیں۔ان کا کہناتھا کہ اسلام آباد یا کوئٹہ میں بیٹھ کر ہزاروں لاکھوں لوگوں کا روزگار چھیننے اورچمن سرحد سے متعلق سخت فیصلے دانشمندانہ ثابت نہیں ہوں گے۔ اس کے نتیجے میں بلوچستان کے پشتون علاقوں میں بھی بلوچ علاقوں جیسے حالات پیدا ہوں گے۔ بے روزگاری بڑھی تودشمن قوتیں بے روزگار نوجوانوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرسکتی ہیں۔ اصغر خان اچکزئی کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں طرف ایک ہی قوم، زبان اور مذہب کے لوگ آبادہیں جن کے سرحد کے دونوں جانب رشتے اور جائیدادیں ہیں۔میری اپنی زمین پاکستانی ریکارڈ میں موجود ہے مگر وہ سرحد کے دوسری جانب واقع ہے۔ تقسیم پاکستان سے قبل اور اس کے بعد بھی سرحدی علاقوں کی آمدورفت پر کوئی قدغن نہیں لگائی گئی۔ اب قدغنیں لگائی گئی تو اس کے انتہائی سنگین نتائج سامنے آئیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاک افغان سرحد چمن کے باب دوستی گیٹ کے ذریعے ہر قسم کی آمدورفت بھی فورسز کی نگرانی میں ہوتی ہے۔دہشت گردی اور تخریب کاری کی سوچ رکھنے والے اس طرح فورسز کی موجودگی میں سرحد عبور نہیں کرتے وہ غیر روایتی راستوں سے جاتے ہیں۔ضلع قلعہ عبداللہ کی تقریبادو سو کلومیٹر سرحد افغانستان سے لگتی ہے جس پر ہر چار سے پانچ کلومیٹر پر فورسز کی چیک پوسٹیں موجود ہیں اور اب تو آہنی باڑ بھی لگائی گئی ہے وہاں سے بھی کسی کا آنا جانا اب آسان نہیں۔خیال رہے کہ افغانستان کے ساتھ پاکستان کی تقریبا 26 سو کلومیٹر طویل سرحدہے۔ 1343 کلومیٹر حصہ خیبر پختونخوا اور باقی1268 کلومیٹر سرحد بلوچستان کے سات اضلاع کوئٹہ، قلعہ عبداللہ، پشین، قلعہ سیف اللہ، ژوب، نوشکی اور چاغی سے لگتی ہے۔دو سال قبل پاکستان نے دہشت گردی کے خدشات کے پیش نظر افغانستان کی سرحد پر آہنی باڑ لگانے کا کام شروع کیا تھا جس کے ایک بڑے حصے پر اب کام مکمل کیا جاچکا ہے۔ اسی طرح بعض حصوں پر غیر قانونی آمدورفت اور سمگلنگ روکنے کے لیے خندقیں بھی کھودی گئی ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں