اتوار 09  اگست 2020ء
اتوار 09  اگست 2020ء

ن لیگ کا وفد ماضی میں نواز شریف کی اجازت سے عذیر بلوچ سے ملاقاتیں کرتا تھا، اینکر کے انکشاف پر لیگی رہنما مائزہ حمید کا حیرت انگیز جواب

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) تین جے آئی ٹی رپورٹس گزشتہ روز منظر عام پر آئیں، ان میں ایک رپورٹ عذیر بلوچ کے معاملے پر ہے، اس حوالے سے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں اینکر منصور علی خان نے کہا کہ لگتا ایسا ہے کہ اس سارے معاملے سے ن لیگ کا کوئی تعلق نہیں ہے لیکن ہم ریسرچ کرکے کچھ چیزیں آپ کے سامنے رکھ رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بھی عذیر بلوچ سے مل چکی ہے،اینکر نے ایک ویڈیو دکھائی جس میں ن لیگ کا وفد غوث علی بخش کی قیادت میں googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); لیاری کے اندر عذیر بلوچ سے ملنے کے لئے گیا، اس وقت عذیر بلوچ کو منانے کی کوشش کی گئی کہ وہ پاکستان مسلم لیگ (ن) میں آ جائیں، اس وقت عذیر بلوچ کے تعلقات پیپلز پارٹی سے کچھ ٹھیک نہیں چل رہے تھے، اس پر ن لیگ کی رہنما مائزہ حمید نے کہا کہ اگر اس رپورٹ میں پاکستان مسلم لیگ کا نام ہے تو پھر تو یہ متعلقہ ہے اگر نہیں ہے تو یہ غیر متعلقہ ہے، جب جماعتیں اپوزیشن اور حکومت میں ہوتی ہیں تو وہ دیگر پارٹیز سے ملتی ہیں اور ان کے ممبرز سے بھی ملتی ہیں، اس وقت تو یہ رپورٹ نہیں آئی تھی، اینکر منصور علی خان نے کہا کہ جب آپ شوگر رپورٹ کو عمران خان سے جوڑتے ہیں تو یہ کہیں نہیں لکھا کہ عمران خان نے جہانگیر ترین کو سبسڈی دی تھی، آپ کی پوری پارٹی بار بار کہتی ہے کہ اس کا عمران خان ذمہ دار ہے، وزیراعظم کی منظوری کے بغیر یہ نہیں ہو سکتا، ن لیگ کا وفد عذیر بلوچ سے جا کر ملتا ہے میں یہ کیوں نہ کہوں کہ نواز شریف کی اجازت کے بغیر یہ وفد جا کر نہیں مل سکتا تھا عذیر بلوچ سے، ن لیگ کا وفد جا ہی نہیں سکتا تھا، اگر آپ کہتے ہیں کہ عمران خان پیچھے سے سب کچھ کر رہا تھا تو یہاں پر بھی مسلم لیگ (ن) کو جوڑنا پڑے گا اس کے ساتھ، مائزہ حمید نے کہاکہ آپ اس کو اس لئے نہیں جوڑ سکتے کہ بہت بڑا ڈیفرنس آتاہے شوگر سکینڈل کی جو رپورٹ آئی، جو نام تھے ان کے اوپر الزام تو جاتا ہے لیکن سیکنڈری جاتا ہے لیکن دستخط کرنے والی اتھارٹی وزیراعظم تھی، کابینہ فیصلہ لیتی ہے تو وزیراعظم کو پتہ ہوتا ہے، یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ اس رپورٹ سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں