اتوار 05 جولائی 2020ء
اتوار 05 جولائی 2020ء

برطانیہ میں آدھے سے زیادہ کیسز پاکستان سے آئے ہیں،آکسفورڈ یونی ورسٹی کی ریسرچ نے برطانوی میڈیا کا بھانڈہ پھوڑ دیا

اسلام آباد(این این آئی)برطانوی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں آدھے سے زیادہ کیسز پاکستان سے آئے ہیں جبکہ معاون خصوصی زلفی بخاری نے اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا کیسز سے متعلق پاکستان سے منسوب شرم ناک اور گھٹیا رپورٹنگ کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق برطانوی اخباروں نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق پاکستان سے خبریں منسوب کرنا شروع کر دیا ہےجس پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔زلفی بخاری نے ٹیلی گراف، ڈیلی میل اور دی سن میں googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); شائع خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیں، انھوں نے کہا کرونا کیسز سے متعلق پاکستان سے منسوب شرم ناک اور گھٹیا رپورٹنگ کی گئی ہے۔برطانوی اخبار نے یہ دعویٰ کیا کہ برطانیہ میں آدھے سے زائد کرونا کیسز پاکستان سے آئے، اخباروں نے لکھا کہ برطانیہ میں مقیم 15 لاکھ برٹش پاکستانیوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔جواب میں زلفی بخاری نے آکسفورڈ یونی ورسٹی کی تازہ تحقیق کے اعداد و شمار ٹویٹ کر دئیے، انھوں نے کہا آکسفورڈ یونی ورسٹی کی ریسرچ نے برطانوی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب کر دیا ہے، برطانیہ میں کرونا کیسز 1300 مختلف مقامات سے پہنچے، زیادہ تر کیسز اسپین، فرانس اور اٹلی سے ایکسپورٹ ہوئے، جس وقت برطانیہ میں کرونا کیسز بڑھے اس وقت پاکستان کی فضائی حدود بند تھیں۔معاون خصوصی نے کہاکہ برطانیہ میں کرونا کیسز فروری کے آغاز اور پاکستان میں فروری کے اختتام پر رپورٹ ہوئے، جب برطانیہ میں کرونا کا آغاز ہوا اس وقت پاکستان میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا، ایک بھی کیس رپورٹ ہونے سے قبل پاکستان کرونا کیسے ایکسپورٹ کر سکتا تھا؟زلفی بخاری نے کہا کہ برطانیہ میں 80 فی صد کیسز 28 فروری سے 29 مارچ کے درمیان رپورٹ ہوئے، مارچ میں پاکستان اپنی فضائی حدود بند کر چکا تھا، ٹریول بین کے دوران کسی کو بیرون ملک آنے جانے کی اجازت ہی نہیں تھی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں