هفته 11 جولائی 2020ء
هفته 11 جولائی 2020ء

قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کا بلاول بھٹو پر طنز، سارا ہال زوردار قہقہوں اور تالیوں سے گونج اٹھا

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کبھی نہیں کہا میری کرسی بڑی مضبوط ہے اور کبھی بھی کرسی چھوڑنے سے گھبرانا نہیں چاہیے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ میں نے نہیں کہا کہ میری حکومت نہیں جانے والی، میں نے کبھی نہیں کہا کہ میری کرسی بڑی مضبوط ہے، کرسی صرف اللہ دیتا ہے، کبھی آپ کو کرسی چھوڑتے ہوئے گھبرانا نہیں چاہیے،اپنے پارلیمنٹرینز سے کہتا ہوں کرسی آنی جانی چیز ہے، کبھی بھی کرسی چھوڑنے سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ اپنے نظریہ پر قائم googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); رہنا چاہیے، نظریے پر قائم رہے تو کوئی نہیں گراسکتا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ سارَے خرچے خود برداشت کرتا ہوں، سوائے سیکیورٹی اور ٹریولنگ کے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ سوائے سکیورٹی اور ٹریولنگ کے،اپنے سارے خرچے خود برداشت کرتا ہوں۔ وزیر اعظم نے کہاکہ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ جو قوم مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر چلے گی وہ اٹھ جائے گی۔ وزیر اعظم عمرا ن خان نے کہا ہے کہ اداروں میں مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں،یہ لوگ چاہے احتجاج کریں چاہے دھرنے دیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ منگل کو یہاں اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاور سیکٹر ہمارے ملک کیلئے عذاب بنا ہوا ہے، پاور سیکٹر کے کرائسز 10 سال کے ہیں، پاور سیکٹر میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کی جائیں گے، ان اداروں کے اندر مافیاز بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی آئی اے کے 11 سال میں 10 چیفز کو تبدیل کیا گیا، اسٹیل ملز پی آئی اے ریلوے پاور سیکٹر نقصان میں جارہا ہے، جب سے حکومت میں آئے ہیں بند اسٹیل ملز کو 34 ارب روپے تنخواہوں کی مد میں دے چکے ہیں، ان اداروں میں مافیاز ہیں تاہم ہمیں ریفارمز کرنا ہوں گے، یہ لوگ چاہے احتجاج کریں چاہے دھرنے دیں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ینگ پارلیمنٹرین کوپیغام دیتے ہوئے کہا کہ انہیں کرسی چھوڑتے ہوئے ہچکچانا نہیں چاہیے، نہیں چھوڑنا چاہیے تو انہیں اپنا نظریہ۔ اپنی پارٹی والوں کو پیغام دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب بندہ جدوجہد کرتا ہے تو اونچ نیچ آتی رہتی ہے۔ بندہ اوپر جاتا ہے تو نیچے بھی آتا ہے۔ جب بغیر کسی کوشش کے کسی کو پارٹی کا چیئرمین بنا دیا جاتا ہے تو وہ یہ ہی کہتے ہیں کہ جب بارش آتا ہے تو پانی آتا ہے، یعنی آپ نے کبھی جدوجہد ہی نہیں کی، آپ لاک ڈاؤن، لاک ڈاؤن کہہ رہے ہیں ان کو یہ ہی نہیں پتہ کہ بے چارے لوگ غریب بستیوں میں رہتے کیسے ہیں۔ لیڈر شپ ایک جدوجہد کا نام ہے،ایک جدوجہد ہی لیڈر بناتی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہاہے کہ اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کبھی سخت لاک ڈاؤن نہیں کرنے دیتا۔ منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معاشی ٹیم نے مشکل حالات میں بہترین بجٹ پیش کیا، حکومت 5000 ارب روپے جمع کرنا تھا، معاشی ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں اور خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلی دفعہ ہوا کہ پورا ملک لاک ڈاؤن کرنا پڑا، ہمیں بھی مکمل لاک ڈاؤن کا کہا گیا تھا تاہم ہم نے زیادہ سخت لاک ڈاؤن نہیں کیا، اگر مجھ سے پوچھا جاتا تو میں کبھی سخت لاک ڈاؤن نہیں کرنے دیتا، لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگ اتنے بھوکے تھے کہ وہ گاڑی پر حملہ کردیتے تھے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں