پیر 13 جولائی 2020ء
پیر 13 جولائی 2020ء

مخصوص شعبوں کے علاہ باقی سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ پیسے والے لوگ ایس او پیز پر عمل کر رہے ہیں جبکہ عام آدمی کا رویہ کیسا ہے ؟ عو

اسلام آباد (این این آئی) وزیر اعظم عمران خان نے خبر دار کیا ہے کہ کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا،جتنی زیادہ لوگ احتیاط کریں گے، ایس او پیز پر عمل کریں گے اتنا بہتر ہم اس بحران سے نمٹ سکیں گے اور اپنے ڈاکٹرز اور صحت کے عملے پر کم سے کم بوجھ ڈالیں گے،پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ کورونا وائرس پھیلے گا، پاکستان میں جس طرح کا لاک ڈائون ہوا اس طرح کالاک ڈائون ہیں چاہتا تھا ،ہماری انتظامیہ اور پولیس پر بہت دباؤ ہے، مخصوص شعبوں کے علاوہ باقی سب googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کچھ ایس او پیز کے تحت کھول دیا جائیگا ،عوام یہ نہ سمجھیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے اور پہلے کی طرح زندگی گزارنا شروع کردیں، ایس او پیز پر عمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا اور پھر ان علاقوں میں کاروبار تباہ ہوجائیں گے،اب بڑی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔ پیر کو کور نا کے باعث موجودہ صورتحال پر غور کیلئے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی) کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوا۔اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور متعلقہ صوبائی حکام ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ اجلاس میں لاک ڈاؤن برقرار رکھنے یا نہ رکھنے سمیت تمام آپشنز کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کورونا کے پھیلاؤ کا علم ہوتے ہی محض 26 کیسز پر ہی ہم نے اجلاس طلب کیے اور لاک ڈاؤن کیا، اس وقت تک کسی کو معلوم نہیں تھا کہ آگے کیا حالات ہوں گے، ہم نے ڈاکٹروں سے رائے لی اور عالمی حالات کا جائزہ لیا۔انہوں نے کہا کہ جب یورپ میں کورونا وائرس پہنچا تو ہم نے دیکھا کہ ہمارت حالات چین اور یورپ کی طرح نہیں، ہمارے ملک میں ان ممالک کے مدمقابل غربت بہت ہے، 5 کروڑ افراد دو وقت کا کھانا نہیں کھاسکتے، ڈھائی کروڑ افراد یومیہ کمانے والے ہیں جو اگر روز نہیں کمائیں گے تو ان کے گھر کا چولہا نہیں جلے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ میرے ذہن میں تھا کہ اگر پاکستان میں یورپ جیسا لاک ڈاؤن کیا گیا تو ان غریبوں کا کیا ہوگا؟ لاک ڈاؤن سے وائرس کے پھیلاؤ کو کم کیا جاسکتا ہے تاہم یہ اس کا علاج نہیں کیوں کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے غریب بہت متاثر ہوا۔عمران خان نے کہا کہلاک ڈاؤن کے امیر افراد پر اثرات الگ اور کچی آبادی پر الگ طرح سے مرتب ہورہے ہیں، ہمیں وائرس کے پھیلاؤ اور بھوک و افلاس دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، صوبوں کے پاس اختیارت ہیں انہیں بھی دیکھنا ہے، پیسے والے کچھ اور کہتے ہیں لیکن غریب طبقہ جو تکلیف میں ہے اس کی آواز سامنے نہیں آرہی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔وزیراعظم نے کہا کہ میں کاروبار کبھی بند نہیں کرتالیکن مجبوری میں ایسا کیا، جب تک ویکسین نہیں ملے گا یہ وائرس ختم نہیں ہوگا امیر ترین ممالک سمیت ساری دنیا اس نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ ہمیں اس وائرس کے ساتھ جینا ہے۔عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے امیر افراد پر اثرات الگ ہیں اور کچی آبادی کے رہائشی پر اس کے اثرات الگ طرح سے مرتب ہورہے ہیں، ہمیں وائرس کے پھیلاؤ اور بھوک و افلاس دونوں کو مدنظر رکھنا ہے، صوبوں کےپاس اختیارت ہیں انہیں بھی دیکھنا ہے، پیسے والے کچھ اور کہتے ہیں لیکن غریب طبقہ جو تکلیف میں ہے اس کی آواز بلند نہیں ہورہی سامنے نہیں آرہی، لاک ڈاؤن کی وجہ سے لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی۔وزیراعظم نے کہا کہ وائرس کے ساتھ کامیاب طریقے سے جینے کی ذمہ داری عوام کی ہے، کورونا کہیں نہیں جارہا، عوام احتیاط کریں ورنہ اپنا ہی نقصان ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جتنی زیادہ لوگ احتیاط کریں گے،ایس او پیز پر عمل کریں گے اتنا بہتر ہم اس بحران سے نمٹ سکیں گے اور اپنے ڈاکٹرز اور صحت کے عملے پر کم سے کم بوجھ ڈالیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کم از کم اس سال تو ہمیں وائرس کے ساتھ گزارا کرنا پڑے گا۔ وزیر اعظم نے کہاکہ میرے ذہن میں پہلے سے تھا کہ جس طرح کا لاک ڈاؤن ووہان میں ہوا، اگر میں اس طرح کا لاک ڈاؤن نافذ کروں گا تو ان لوگوں کا کیا بنے گا؟۔وزیر اعظم نے کہا کہپاکستان میں جس طرح کا لاک ڈاؤن ہوا میں اس طرح کا لاک ڈاؤن نہیں چاہتا تھا، ہم اجتماعات، تقریبات، کھیلوں، اسکولوں،جامعات سمیت ہر چیز پر پابندی لگا دی تھی تاہم میں کاروبار اور تعمیرات کی صنعت کبھی بند نہیں کرتا لیکن 18ویں ترمیم کی وجہ سے صوبوں کے پاس اختیارات تھے، صورتحال کی وجہ سے صوبوں پر دباؤ تھا وزیر اعظم نے کہاکہ امریکا جیسا دنیا کا امیر ترین ملک جہاں ایک لاکھ لوگ مر چکے ہیں،انہوں نے بھی لاک ڈاؤن کھولنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔وزیر اعظم نے کہاکہ ہماری انتظامیہ اور پولیس پر بہت دباؤ ہے، کچھ شعبے بند رہیں گے باقی سب کھول رہے ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہ مخصوص شعبوں کے علاہ باقی سب کچھ ایس او پیز کے تحت کھولنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن عوام سے اپیل ہے کہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ لاک ڈاؤن ختم ہوگیا ہے اور پہلے کی طرح زندگی گزارنا شروع کردیں، ایس او پیز پرعمل کریں ورنہ زیادہ متاثرہ علاقوں میں کرفیو لگانا پڑے گا اور پھر ان علاقوں میں کاروبار تباہ ہوجائیں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ این سی سی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ اب بڑی تعداد میں بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پہلے مسئلہ یہ تھا کہ ہمارے پاس اسکریننگ کی سہولت محدود تھی اور صوبوں کو اعتراض تھا کہ بڑی تعداد میں بیرون ملک سے شہریوں کونہ لایا جائے اس لیے محدود تعداد میں پاکستانیوں کو واپس لایا جارہا تھا۔عمران خان نے کہا کہ اب ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ بیرون ملک پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانے کیلئے پروازوں کی تعداد بڑھائی جارہی ہے، ائیرپورٹس پر ان کا ٹیسٹ ہوگا اور پھر گھروں میں بھیج دیا جائے گا، نتیجہ مثبت آیا تو گھروں میں ہی قرنطینہ کرنا ہوگا۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے مشاہدے میں یہ بات آئی ہے کہ پیسے والے لوگ تو ایس اوپیز پرعمل کررہے ہیں لیکن عام آدمی کا کورونا کے حوالے سے مختلف رویہ ہے، اس حوالے سے ٹائیگرفورس کے رضاکار لوگوں میں شعور دیں گے کہ کس طرح کورونا کیساتھ رہنا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ سیاحت کا شعبہ کھولنا چاہیے، کیوں کہ بعض علاقوں میں گرمیوں کے تین سے چار مہینے ہی سیاحت ہوتی ہے اور کاروبار چلتا ہے، اگر یہ وقت لاک ڈاؤن میں نکل گیا تو ان علاقوں میں غربت مزید بڑھ جائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ اس کے علاوہ این سی ای اجلاس میں جو فیصلے کیے گئے ہیں وہ منگل کووفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر کی سربراہی میں ہونے والے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے اجلاس کے بعد عوام کے سامنے رکھے جائیں گے۔ وزیر اعظم نے کہاہ جن شعبہ جات میں خطرہ زیادہ ہے انہیں تاحال بند رکھا جائے گا تاہم بقیہ تمام شعبہ جات کھلے رہیں گے جن کی فہرست جلد سامنے آجائے گی، عوام سے اپیل ہے کہ ہمیں ایک ذمہ دار قوم بننا پڑے گا۔انہوں نے بھارت کی مثال دی کہ انہوں نے مکمل لاک ڈاؤن کیا تو وہاں عوام کا برا حال ہوا، کافی لوگ مرگئے انہیں میلوں پیدل چلنا پڑا تاہم پھر بھی وہاں کورونا وائرس پھیلا اور ہسپتال بھر گئے لیکن اس کے باوجود انہیں بھی ملک کھولنا پڑے جس کی وجہ غربت ہے، میں افسوس کے ساتھ کہتا ہوں کہ وائرس کے پھیلاؤ اور اموات میں اضافہ ہوگا، عوام جتنا احتیاط کریں گے ان کے لیے بہتر ہے۔ٹائیگر فورس کے متعلق انہوں نے کہا کہ اس فورس کے اب تک دس لاکھ رضا کار سامنے آچکے ہیں،جلد اس فورس کو استعمال کریں گے کم از کم اس سال وائرس کے ساتھ گزرا کرنا ہے اور ایس او پیز پر مکمل طور پر عمل کرنا ہے تاکہ وائرس نہ پھیلے، میری اٹلی کے وزیراعظم سے بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ کورونا وائرس کے مریضوں کی وجہ سے طبی عملے پر کتنا بوجھ ہے، میں اپنے ہیلتھ ورکرز کی خدمات کو سراہتا ہوں۔وزیراعظم عمران خان نے ملک بھر کے ڈاکٹرز اور میڈیکل اسٹاف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہمجھے پہلے دن سے آپ لوگوں کا احساس ہے کہ کیسز بڑھے تو آپ پر بوجھ بڑھ جائے گا لیکن ہمارے 13 سے 15 کروڑ لوگ لاک ڈاؤن سے بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ میڈیل کے شعبے سے وابستہ لوگوں میں خوف پایا جاتا ہے کہ لاک ڈاؤن نرم ہوا تو ان پر اچانک سے بوجھ بڑھ جائے گا لیکن میں یقین دلاتا ہوں کہ آپ سب کا ہمیں احساس ہے اور ہم آپ کی ہر طرح کی مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔وزیراعظم نے کہا کہوہ جلد اس حوالے سے ڈاکٹرز کی ایسوسی ایشنز سے ملاقات بھی کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم سن رہے ہیں کہ ہسپتالوں میں جگہ ختم ہوگئی ہے لہٰذا ہم یہ پروگرام لارہے ہیں جس کے تحت روزانہ یہ بتایا جائے گا کہ کس شہر میں کس اسپتال میں وینٹی لیٹرز دستیاب ہیں اور کہاں نہیں ہیں۔انہوں نے ایک بار پھر قوم سے ذمے داری لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ایک ذمے دار قوم بننا پڑے گا اگر ہمیں لوگوں کو غربت سے بچانا ہے اور ساتھ ساتھ وبا کے پھیلاؤ کو بھی کم کرنا ہے کیونکہ اگر یہ وبا آہستہ آہستہ پھیلے گی تو ہمارے پسپتالوں پر دباؤ نہیں پڑے گا اور اس عروج گزرجائے گا اور ہمارا معاشرہ بھی برے اثرات سے بچ جائے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں