بدھ 27 مئی 2020ء
بدھ 27 مئی 2020ء

پاکستان کیخلاف نعرہ بازی کر کے جہادی ترانوں سے لوگوں  کے جذبات بھڑکانے اور اجتماع کرنے کا الزام، سابق خطیب لال مسجد مولانا عبد العزیز سمیت 7ا

اسلام آباد( آن لائن ) ریاست پاکستان کیخلاف نعرہ بازی کر کے جہادی ترانوں سے لوگوں کے جذبات بھڑکانے اور اجتماع کرنے کے الزام میں سابق خطیب لال مسجد مولانا عبد العزیز سمیت 7افراد کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیاہے، تھانہ آبپارہ میں درج کئے گئے مقدمہ نمبر 138میں الزام عائدکیا گیا ہے کہ پولیس ٹیم لال مسجد کے قریب ڈیوٹی پر موجود تھی کہ مولانا عبد العزیز نے لال مسجد میں نماز جمعہ باجماعت پڑھانے کا اعلان کر دیا اور لائوڈ سپیکر پر ترانے جہادی نعرے بازی شروع کر دی۔مولانا عبد العزیز کو دفعہ 144کے حوالے سے ڈپٹی کمشنر اسلام googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); آباد کے احکامات سے آگاہ کیا گیا کہ موجودہ ملکی حالات میں کرونا وائرس کی وجہ سے نماز جمعہ کا اجتماع نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، مگر مولانا عبد العزیز، ام حسان، ہارون الرشید، مولانا یعقوب اور عبد الستار و دیگر نے جہادی ترانوں اور نعرہ بازی سے لوگوں کے جذبات کو بھڑکانا شروع کر دیا، مولانا عبد العزیز نے تقریر شروع کر دی اور کہا کہ وہ کسی غیر ملکی ایجنڈے پر چلنے والی ریاست کا حکم نہ مانتے ہیں اور صرف اپنے ہی قوانین پر عمل کریں گے، ایف آئی آر میں مزید تحریر کیاگیا ہے کہ نمازیوں کو فساد برپا کرنے اور عافیت عامہ میں خلل ڈالنے پر اکساتے رہے، مولانا عبد العزیز اور اس کے دیگر ساتھیوں نے ریاست کے خلاف تقریر کی اور اشتعال انگیز نعرے بازی کی ، ڈپٹی کمشنر کے احکامات کو پس پشت ڈالا جس پر پولیس کی مدعیت میں دفعہ 505-1(B), 188 کے تحت مقدمہ درج کرلیاگیا۔ ایف آئی آر کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مولانا عبدالعزیز نے اپنے 6ساتھیوں کے ساتھ مل کر ریاست پاکستان کے خلاف نعرے بازی کرکے جہادی ترانوں سے جذبات بھڑکا کر اور لوگوں کا اجتماع کرکے دفعہ 144ض ف کی خلاف ورزی کی ہے۔ پولیس کے مطابق مولانا عبدالعزیز نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر لال مسجد کے اندر قانون کی خلاف ورزی کی جبکہ مولانا عبدالعزیز اپنے ساتھیوں سمیت تاحال گرفتار نہیں ہو سکے۔ جبکہ تفتیشی افسر تراب الحسن کا کہنا تھا کہ ملزمان کر گرفتاری کے لئے جگہ جگہ چھاپے مارے جارہے ہیں ۔ جلد مولانا عبدالعزیز اپنے ساتھیوں سمیت قانون کے شکنجے میں ہونگے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں