منگل 18 فروری 2020ء
منگل 18 فروری 2020ء

نیب کرپشن فری پاکستان پر یقین رکھتا ہے، قومی خزانے میں اب تک کتنے پیسے جمع کرائے ہیں؟ چیئرمین نیب کی کھری باتیں

اسلام آباد (این این آئی) چیئرمین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال نے کہا ہے کہ نیب اقوام متحدہ کے انسداد بدعنوانی کنونشن (یو این سی اے سی) کے تحت بدعنوانی کی روک تھام کے لئے فوکل ادارہ ہے، نیب بدعنوانی کی روک تھام کے لئے بدعنوانی کی منفی اثرات سے آگاہی سمیت تمام اقدامات پر 2020ء میں بھی عملدرآمد جاری رکھے گا، نیب کرپشن فری پاکستان پر یقین رکھتا ہے، متاثرین کی رقم کی ان کی دہلیز پر واپسی کیلئے آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی پالیسی جاری رکھا جائیگا۔اتوار کو اپنے بیان میں چیئر مین نیب جسٹس (ر)جاوید اقبال googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); نے کہا کہ نیب کرپشن فری پاکستان پر یقین رکھتا ہے، اسی تناظر میں بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرین کی رقم کی ان کی دہلیز پر واپسی کے لئے آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی پالیسی جاری رکھے گا۔انہوں نے کہا کہ نیب نے 2019 میں بدعنوان عناصر سے بلواسطہ اور بلا واسطہ طو ر پر 150 ارب روپے برآمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں اور بدعنوان عناصر کے بلا امتیاز احتساب کیلئے بھرپور محنت کر رہا ہے۔ نیب کو 2018ء کے مقابلے میں 2019 ء میں مجموعی طور پر463845 شکایات موصول ہوئیں جن میں سے 450546 شکایات کو قانون کے مطابق نمٹا دیا گیاجبکہ اس وقت 13299 شکایات پر کاروائی کی ہے جن پر 2020ء میں قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب نے سال 2019 میں 15056 شکایات پر جانچ پڑتال کی منظوری دی جن میں سے 14286شکایات کی جانچ پڑتال کو قانون کے مطابق مکمل کیا گیا جبکہ اس وقت 770 شکایات کی جانچ پڑتال پر قانون کے مطابق جاری ہیں جن پر 2020ء میں قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ سال 2019ء میں 9352 انکوائریوں کی منظوری دی جبکہ8493 انکوائریوں کومکمل کیا گیا۔ اس وقت 859 انکوائریوں پر قانون کے مطابق تحقیقات جارہی ہیں جن پر 2020ء میں قانون کے مطابق کارروائی کرے گا۔ اسی طرح نیب نے سال 2019 میں 4406 انوسٹی گیشنزکی منظوری دی جن میں سے 4071 انوسٹی گیشنز پرقانون کے مطابق کاروائی مکمل کی گئی۔اس وقت 355 انوسٹی گیشنزپر قانون کے مطابق تحقیقات جاری ہیں جن پر 2020ء میں قانون کے مطابق کارروائی کرے گا ۔ نیب نے سال 2019 میں 3676 ریفرنسز معزز احتساب عدالتوں میں دائر کئے۔جبکہ اس وقت ملک کی 25 احتساب عدالتوں میں 1275بدعنوانی کے ریفرنس دائر ہیں۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ انسداد بدعنوانی کا یہ ادارہ نہ صرف اندرون ملک بلکہ سارک ممالک کے لئے بھی رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے۔ نیب اقوام متحدہ کے بدعنوانی کے خلاف کنونشن (یو این سی اے سی) کے تحت فوکل ڈیپارٹمنٹ ہے،پاکستان نے اپنی شاندار کامیابی کے تحت یو این سی اے سی میں یہ مقام حاصل کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت سارک ممالک میں ان وجوہات کی بناء پر نیب کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ نیب کو سارک اینٹی کرپشن کا متفقہ طور پر چیئرمین منتخب کیا گیا۔ جو کہ نیب کی کوششوں سے پاکستان کی بڑی کامیابی ہے۔ پاکستان اور چین نے بدعنوانی کے خاتمے کے لئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کئے ہیں۔ پاکستان اور چین سی پیک منصوبوں میں شفافیت یقینی بنانے کے لئے مل کرکام کر رہے ہیں۔ پلڈاٹ،مشال پاکستان اور عالمی اقتصادی فورم جیسے معتبر قومی اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹ میں نیب کی شاندار کارکردگی کی تعریف کی گئی ہے، اسی طرح گیلانی اینڈ گیلپ سروے کے مطابق 59فیصد پاکستانی نیب پر اس کی نمایاں کارکردگی پر اعتماد کرتے ہیںکیونکہ نیب شور مچانے کی بجائے کام پر یقین رکھتا ہے۔ چیئرمین نیب نے کہا کہ نیب پاکستان کا انسداد بدعنوانی کا اعلیٰ ادارہ ہے جس کو اصلاحات کے ذریعے فعال اور معتبر بنایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ انتظامیہ کی جانب سے 2019ء میں بدعنوانی کی روک تھام کیلئے کئے گئے اقدامات بالخصوص کالجوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں میں بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہی کی مہم کامیاب رہی ہے جو کہ 2020ء میں بھی قانون کے مطابق جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب کرپشن فری پاکستان پر یقین رکھتا ہے، اسی تناظر میں بدعنوان عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لانے اور متاثرین کی رقم کی ان کی دہلیز پر واپسی کے لئے آگاہی، تدارک اور قانون پر عملدرآمد کی پالیسی جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیب افسران کرپشن فری پاکستان کوعملی جامہ پہنانے کے لئے مکمل عزم اور حوصلے کے ساتھ سخت محنت کر رہے ہیں۔ انہوں نے نیب کے تمام ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایت کی کہ وہ قوانین، میرٹ اور ٹھوس شواہد کی بنیاد پر شکایات کی جانچ پڑتال، انکوائریوں اور انویسٹی گیشن کو منطقی انجام تک پہنچائیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں