منگل 18 جون 2019ء
منگل 18 جون 2019ء

ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اخراج کیلئے پاکستان کوکس کی حمایت درکار ہے؟فیصلے کی گھڑی آن پہنچی

اسلام آباد(آن لائن)تکنیکی امور پر کام کرنے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو آئندہ 4 ہفتوں کے دوران بھرپور سفارتی کوششیں کرنی ہوں گی تاکہ فنانشل ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے حمایت اور مطلوبہ تعداد میں ووٹس حاصل کیے جاسکیں۔ رپورٹ کے مطابق ایک سینئر حکومتی عہدیدار نے بتایا کہ 16 سے 21 جونتک امریکی ریاست اورلینڈو کے شہر فلوریڈا میں ہونے والا ایف اے ٹی ایف کا پلانری اینڈ ورکنگ گروپ اجلاس پاکستان کے گرے لسٹ سے چھٹکارے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے بصورت دیگر اسے بلیک لسٹ میں شامل کردیا جائے گا جس کے سنگین اقتصادی نتائج ہوں گے۔فلوریڈا میں ہونے والا اجلاس دراصل پاکستان کے مستقبل کی راہ متعین کرے گا جبکہ باضابطہ اعلان 28 سے 23 اکتوبر کو پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں کیا جائے گا۔ایف اے ٹی ایف کی ذیلی تنظیم ایشیا پیسفک گروپ (اے پی جی) کے اجلاس میں شرکت کرنے والے عہدیدار کا کہنا تھا کہ پاکستان اب اقوام متحدہ کی قراردادوں پر مکمل طور پر عمل پیرا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان نے گزشتہ 2 ماہ میں ایف اے ٹی ایف کی شرائط پر پورا اترنے کی غرض سے ریگولیٹری اور مانیٹرینگ کے حوالے سے بھرپور اقدامات کیے ہیں اور اب اس کا قانونی نظام بھی بہترین ہے، سوائے انسدادِ منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 میں کچھ ترامیم کے، جو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے فنانس اینڈ ریونیو کے پاس زیر التوا ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے 15 سے 16 ووٹ درکار ہیں جبکہ بلیک لسٹ میں اندراج سے بچنے کے لیے کم از کم 3 ووٹ لازمی ہیں۔ایف اے ٹی ایف میں اس وقت 36 اراکین ممالک کے پاس ووٹ کا اختیار ہے اور 2 علاقائی تنظیمیں ہیں، جو دنیا بھر کے بڑے مالیاتی اداروں کی نمائندگی کرتی ہیں۔خیال رہے کہ ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ برس جون میں انسدادِ منی لانڈرنگ میں ’اسٹریٹجک خامیوں‘ کی بنا پر اس وقت پاکستان کو گرے لسٹ میں شامل کردیا تھا جب وہ دوست ممالک کے ذاتی سیاسی اہداف کے باعث 3 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوگیا تھا۔اس وقت صرف ترکی تھا، جو امریکا، برطانیہ، بھارت اور یورپ کی بھرپور مہم کے باوجود پاکستان کی حمایت پر ڈٹا رہا، دوسری جانب آئندہ برس چین ایف اے ٹی ایف کی صدارت کا منصب سنبھال لے گا جبکہ سعودی عرب خلیج تعاون کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے ایف اے ٹی ایف کا مستقل رکن بنے گا۔عہدیدار کا مزید کہنا تھا کہ اے پی جی اجلاس میں پاکستانی وفد نے اراکین کے سخت سوالات کے باوجود 10 نکاتی ایکشن پلان کے تحت اٹھائے گئے اقدامات پر بھرپور کیس پیش کیا، جس پر اے پی جی عمومی طور پر اسلام آباد کی کارکردگی پر مطمئن نظر آئے لیکن یہ اجلاس ایسا نہیں تھا کہ جس سے کوئی توقع یا نتیجہ اخذ کیا جاسکے۔عہدیدار کے مطابق چین میں ہونے والے اجلاس میں پاکستان نے اپنی کارکردگی رپورٹ جمع کروادی ہے اور کچھ معاملات کی وضاحت کے لیے اے پی جی اراکین کے سوالات کے جوابات بھی دیے۔اب اے پی جی پاکستانی رپورٹ اور سوالات و جوابات کی روشنی میں امریکا میں 16 سے 21 جون کے درمیان ہونے والے ایف اے ٹی ایف اجلاس میں اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں