جمعرات 02 اپریل 2020ء
جمعرات 02 اپریل 2020ء

ہزاروں کینال بے نامی زمین اور اثاثے ،ایف بی آر نے 25 سیاستدانوں کیخلاف تحقیقات تیز کردیں

اسلام آباد(آن لائن)وفاقی بورڈ آف ریونیو کے بے نامی زونز نے 25 سیاستدانوں میں بنے ہائی پروفائل کیسز میں تحقیقات کو مزید تیز کردیا۔ رپورٹ کے مطابق ذرائع کا کہنا تھا کہ دو صوبوں میں ان سیاستدانوں نے ہزاروں کینال بے نامی زمین اور اثاثے 71 بے نامی داروں کے نام رجسٹرڈ کر رکھی ہے۔25 میں سے 15 ہائی پروفائل کیسز صرف لاہور زون میں ہی رجسٹرڈ ہیں جبکہ کراچی اور اسلام آباد زونز میں 5، 5 کیسز کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔ساڑھے 7 ہزار کینال بینامی زمین پر بنے ایک کیس میں اسلام آباد زون نے اب تک پاکستان googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر چوہدری تنویر خان کے خلاف بے نامی ایکٹ میں کے تحت 6 ریفرنسز دائر کیے ہیں۔ایک اور کیس میں 1 لاکھ 25 ہزار کینال سے زائد بے نامی زمین شامل ہے جس کا تعلق شریف خاندان سے بتایا جارہا ہے۔جہاں اسلام آباد زونز میں دیگر 3 کیسز میں حکام تفصیلات کو سامنے نہیں لارہے ذرائع نے تصدیق کی  دیگر 3 کیسز میں بھی سیاست دان ہی شامل ہیں اور 5 کیسز میں کل 10 بے نامی دار ہیں۔سرکاری دستاویزات میں بتایا گیا کہ کراچی زون میں زیر تفتیش 5 کیسز میں سے اب تک کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ لاہور زون راولپنڈی کے علاوہ پورے پنجاب کا معاملہ دیکھتا ہے جبکہ سندھ زون پورے سندھ اور بلوچستان کے معاملات دیکھتا ہے۔اسلام آباد زون پر اسلام آباد، خیبر پختونخوا اور سول ڈویژن راولپنڈی کی ذمہ داری عائد ہے۔ان تمام میں سے، لاہور میں 39 اور کراچی میں 24 بے نامی داروں کو 90 شو کاز نوٹسز جاری کیے جاچکے ہیں۔15 ارب روپے پر مشتمل اومنی گروپ کے اثاثوں، جس کے 45 مالکان کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے، سے یہ کیسز الگ ہے۔اب تک بے نامی ایکٹ کے تحت 10 ریفرنسز دائر کیے جاچکے ہیں۔زیادہ تر ہائی پروفائل کیسز، جن میں 25 سیاست دان ملوث ہیں، وزیر اعظم عمران خان کے ملک بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز کو اپنے علاقوں میں بے نامی اثاثوں کو رپورٹ کرنے کے احکامات کے بعد ضلعی لینڈ ریونیو اتھارٹیز کی جانب سے پیش کیے گئے ڈیٹا سے سامنے آئے۔28 اگست 2019 کو صوبائی حکومتوں کو بھیجے گئے ایک خط میں وزیر اعظم عمران خان نے بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کی تھیں۔رد عمل میں خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور اور ضلع ٹانک میں تھوڑی بہت بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔پنجاب میں صوبے بھر میں 71 ارب 79 کروڑ روپے کے 28 ہزار 607 کینال پر 228 بے نامی جائیدادوں کی 13 اضلاع، بہاولنگر، بہاولپور، چنیوٹ، خشاب، ملتان، ننکانہ صاحب، ساہیوال، ٹوبہ ٹیک سنگھ، پاک پتن، گجرات، حافظ آباد، فیصل آباد اور لاہور میں نشاندہی کی گئی۔سندھ میں بھی ضلعی حکام نے زیادہ جائیدادوں کی نشاندہی نہیں کی۔واضح رہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں 3 بے نامی زونز، لاہور، اسلام آباد، کراچی، قائم کیے ہیں جو کیسز کی تحقیقات کرتے ہیں اور اسلام آباد اور ریفرنسز فائل کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں