جمعرات 02 اپریل 2020ء
جمعرات 02 اپریل 2020ء

سرکاری مر د و خواتین ملازمین کو دوسرے صوبے میں بھی کام کرنا پڑے گا، وزیراعظم عمران خان نے سول سرونٹس سسٹم میں اہم ترین تبدیلیوں کی منظوری دے د

اسلام آباد(این این آئی) وزیراعظم عمران خان نے سول سرونٹس سسٹم میں اہم ترین تبدیلیوں کی منظوری دے دی۔میرٹ کو مرکزی اہمیت دی گئی ہے۔سول سرونٹس کی ترقی اب بہترین کاکردگی کی بنیاد پر ہو گی۔تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے سول سرونٹس سسٹم میں اہم ترین تبدیلیوں کی منظوری دے دی ہے۔اس کے تحت اب سرکاری ملازم کا 20 سال بعد ریویو لازمی قرار دیا گیا ہے۔20 سال کی ملازمت مکمل کرنے والے سرکاری ملازمین کے لئے کارکردگی کا جائزہ بھی لازمی ہو گا۔سینئر سیکرٹریز اور فیڈرل پبلک سروس کے چیئر مین پر مشتمل پرفارمنس ایویلیویشن googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); بورڈ بنانے کی منظوری بھی دیدی گئی ہے۔سول سرونٹ کی ملازمت برقرار رہ سکے گی یا نہیں یہ فیصلہ اب بورڈ کرے گا۔اگر بورڈ مذکورہ افسر پر عدم اطمینان کا اظہار کردے گا تو اس صورت میں افسر کو ریٹائر بھی کیا جاسکے گا۔سرکاری ملازمین کیلئے اے سی آر میں بہتر رینکنگ بھی کارکردگی سے مشروط کر دی گئی ہے۔20 اور 21 گریڈ میں ترقی کے لئے 20 فیصد افسران اہل ہوں گے۔سول سرونٹس سسٹم کے تحت گریڈ 21 میں ترقی کے لئے صوبے سے باہر سروس کرنا ضروری ہو گا۔جبکہ مردوں کو پہلے 5 سال اور خواتین کو 3 سال دوسرے صوبوں میں سروس کرنا لازمی ہو گی۔جو سول سرونٹ دس سال سے زیادہ ایک صوبے میں قیام کرے گا اسے ترقی نہیں ملے گی۔19 سے 20 گریڈ میں ترقی کے لئے افسران کو ہارڈ ایریاز میں سروس کرنا بھی لازمی ہو گی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں