جمعه 18 اکتوبر 2019ء
جمعه 18 اکتوبر 2019ء

چینی باشندے امریکہ کا ویزہ حاصل نہیں کر سکیں گے، امریکہ نے چینی کمپنیوں پر پابندی کے بعدایک اور اعلان کر دیا

واشنگٹن(آن لائن)چین پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد اب امریکا نے کہا ہے کہ جب تک چین نے ایغور اور دیگر مسلمانوں کے خلاف ’جابرانہ اقدامات‘ ختم نہ کیے اس وقت تک وہ چینی عہدیداروں کو ویزا دینا بند کردے گا۔ امریکی حکومت کی جانب سے حالیہ اقدام کسی بھی غیر ملکی طاقت کی جانب سے سنکیانگ کی صورتحال پر سب سے سخت موقف ہے جو امریکا اور چین کے مابین جاری چپقلش کے دوران سامنے آیا۔امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے سماجی روابط کیویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ’چین نے سنکیانگ سے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مذہب اور ثقافت کو مٹانے کے لیے سفاکانہ اور منظم مہم کے تحت 10 لاکھ سے زائد مسلمانوں کو قید کر رکھا ہے‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ’چین کو اپنی سخت نگرانی اور جبر ختم کرکے زبردستی حراست میں لیے گئے تمام مسلمانوں کو رہا کرنا پڑے گا‘۔اسی طرح کے ایک بیان میں مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ ایغوروں، قازق اور سنکیانگ میں دیگر مسلمان نسلی گروہوں کی ’قید اور استحصال‘ میں ملوث سرکاری اور کمیونسٹ پارٹی کے عہدیداروں پر ویزا پابندیاں عائد کردے گا۔مذکورہ حکم کا اطلاق چینی حکام کے اہلِ خانہ پر بھی ہوگا جس میں وہ بچے بھی شامل ہیں جو امریکا میں تعلیم حاصل کررہے ہیں۔اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کا کہنا تھا کہ وہ ان عہدیداروں کی خصوصی وضاحت نہیں کرسکتے جو امریکی خفیہ قوانین سے متاثر ہوں گے تاہم قانون سازوں نے خصوصی طور پر کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ شین کوانگو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔واضح رہے کہ شین کوانگو اقلیتوں کے ساتھ سلوک پر کمیونسٹ پارٹی میں مشہور ہیں اس سے قبل انہوں نے تبت میں مخالفین کو ختم کرنے کی سخت گیر پالیسیوں کی سربراہی کی تھی۔دوسری جانب چین نے اس اقدام کے خلاف برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سنکیانگ میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تردید کی اور امریکا پر ’مداخلت کرنے کے بہانے بنانے‘ کا الزام عائد کیا۔واشنگٹن میں موجود چینی سفارت خانے کی جانب سے ٹوئٹر پر کہا گیا کہسنکیانگ میں انتہا پسندی کے خاتمے اور انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا مقصد شدت پسندی کو پروان چڑھانے والی جڑ کو ختم کرنا ہے۔ٹوئٹ میں مزید کہا گیا کہ ’یہ اقدامات بین الاقوامی طریقوں سے مطابقت رکھتے ہیں اور انہیں سنکیانگ میں مختلف نسلی گروہوں کے ڈھائی کروڑ افراد کی حمایت حاصل ہے۔دوسری جانب انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا تھا کہ سنکیانگ میں قائم کیمپوں کے وسیع نیٹ ورک میں 10 لاکھ سے زائد ایغور اور دیگر مسلمانوں کو رکھا گیا ہے۔عینی شاہدین کے مطابق چین ایغوروں کو اسلام کی بنیادی تعلیمات مثلاً رمضان میں روزے رکھنے، الکوحل اور سور کے گوشت سے پرہیز کرنے پر عملدرآمد سے روکتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں