منگل 23 جولائی 2019ء
منگل 23 جولائی 2019ء

شامی خاتون اول کے ماتحت ادارے امدادی تنظیموں کے منظم استحصال میں ملوث

دمشق(این این آئی)شام میں جنگ زدہ عوام کی بہبود اور بحالی کے لیے عالمی سطح پر کئی ادارے امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مگر امدادی اداروں اور تنظیموں کو اسد رجیم کے قائم کردہ مختلف اداروں اور شخصیات کی طرف سے بلیک میلنگ، استحصال اور منظم لوٹ مار کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ اور دوسرے امدادی ادراروں کی طرف سے فراہم کردہ ریلیف من پسند افراد اور تنظیموں کو دیا جاتا ہے۔جب کہ غیر جانب دار تنظیمیں امداد کے حصول میں ناکام ہیں۔ اگر ایسے کسی ادارے کو امداد فراہم کی بھی جاتی ہے تو اس کی googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); فوج کے ذریعے کڑی نگرانی کی جاتی ہے۔امریکی ٹی وی کو مصدقہ ذرائع سے اطلاع ملی ہے کہ دمشق اور دوسرے علاقوں میں امداد پہنچانے والی تنظیموں کو بلیک میل کرنے والے پانچ شامی اداروں میں ایک براہ راست خاتون اول اسماء الاسد کے ماتحت کام کرتا ہے۔باوثوق ذریعے کے مطابق بشارالاسد کی حکومت میں وزارت سماجی بہبود اقوام متحدہ کی طرف سے دی جانے والی امداد پر اجارہ داری کے لیے اپنی قریبی تنظیموں کو لائسنس دینے کیلیے کوشاں۔ شامی وزارت سماجی بہبود ملک میں شہریوں کی مالی بہبود کے لیے اپنے حامی گروپوں کو نوازتی ہے۔ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ اسد رجیم کے زیرانتظام علاقوں میں سول سوسائٹی کی تنظیمیں دو گروپوں میں منقسم ہیں۔ ایک وہ جنہیں حکومت کی طرف سے اجازت نامہ فراہم نہیںکیا گیا۔ ان کی آمدن اور فنڈز نہ ہونے برابر ہیں جبکہ دوسرا گروپ جنہیں حکومت کی طرف سے باقاعدہ پرمٹ جاری کیے گئے ہیں حکومتی نوازشات سے بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ عالمی اداروں کی طرف سے ملنے والی امداد بھی انہی اسد نوازگروپوں کے ذریعے تقسیم کی جاتی ہے۔ذرائع کا کہنا تھا کہ سول سوسائٹی کی بیشتر تنظیمیں جنہیں حکومت کی طرف سے امداد حاصل کرنے اور ریلیف آپریشن میں حصہ لینے کا مجاز قرار دیا گیا ہے اقوام محدود شرائط پر اقوام متحدہ کے امدادی پروگراموں سے بھاری امداد حاصل کرسکتے ہیں۔ اسی طرح یہ ادارے پانچ مجاز شعبوں میں امداد صرف کرسکتے ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ جس امدادی تنظیم کو بشارالاسد کی حکومت کی طرف سے لائسنس حاصل نہیں وہ اقوام متحدہ کے ریلیف پروگرامات سے فائدہ نہیں اٹھا سکتی۔ شام میں اقوام متحدہ کی امدادی اور ریلیف سرگرمیوںکی براہ راست نگرانی خٰاتون اول اسماء الاسد کرتی ہیں۔ انہوں نے امدادی اداروں کے استحصال کے لیے سیرین ڈویلپمنٹ ٹرسٹ کے نام سے ایک ادارہ قائم کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ شام میں ہلال احمر، ترقی وماحولیات اور کئی مذہبی تنظیمیں بھی اسماء الاسد کے سامنے جواب دہ ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ اگرچہ اقوام متحدہ کی طرف سے حاصل ہونے والی امداد بعض چھوٹے امدادی گروپوں میں تقسیم کی جاتی ہے مگرفوج کے ذریعے اس کی کڑی نگرانی کی جاتی ہے تاکہ اس کا 'غلط' استعمالنہ ہوسکے۔ شامی فوج انسداد دہشت گردی مانیٹرنگ کی آڑ میں امداد فراہم کرنے والے اداروں پر نظٍر رکھتی ہے۔شام میںامدادی آپریشن میں حصہ لینے والی ایک تنظیم کے عہدیدار نے شناخت ظاہر نہ کرنیء کی شرط پرعرب ٹی وی کو بتایاکہ بیرون ملک سے حاصل ہونے والی نقد امداد کا نصف سے زاید حصہ اسد رجیم کے انٹیلی جنس حکام کی تنخواہوں اور ان کے خاندانوں کی بہود پر صرف کیا جاتا ہے حالانکہ وہ کوئی کام نہیں کرتے۔ انہیں صرف اسد رجیم کی وفاداری کا صلہ دیا جاتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں