جمعرات 27 جون 2019ء
جمعرات 27 جون 2019ء

روس جولائی میں میزائل دفاعی نظام ترکی کے حوالے کردیگا : کریملن

ماسکو(این این آئی)روس جولائی میں اپنا ساختہ میزائل دفاعی نظام ایس -400 ترکی کے حوالے کردے گا۔اس بات کا اعلان کریملن کے مشیر یوری اْشاکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ہے۔معاہدہ شمالی اوقیانوس کی تنظیم نیٹو کے رکن ملک ترکی کے روس سے اس میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے پر امریکا سخت نالاں ہے اور اس نے ترکی کو یہ دھمکی دے رکھی ہے کہ اگر وہ روس کے ساتھمیزائل نظام ایس -400 کی خریداری کے سودے سے دستبردار نہیں ہوتا تو وہ اس کے ساتھ ایف 35 لڑاکا جیٹ طیاروں کی خریداری اور اس کے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); فاضل پرزوں کی تیاری کے پروگرام سے بھی دستبردار ہوجائے گا۔ نیز اس پر سخت پابندیاں عاید کردے گا۔لیکن ترکی امریکا کی ان دھمکیوں کے باوجود روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرنے پر مْصر رہا ہے۔اس صورت میں اس کو امریکا کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گی اور یہ اس کی معیشت اور کرنسی پر منفی اثرات مرتب کریں گی جبکہ نیٹو میں اس کی پوزیشن بھی متاثر ہو سکتی ہے۔اگر ترکی اور امریکا کے درمیان اس معاملے پر کوئی مفاہمت نہیں ہوتی ہے اور اس کا امکان بھی کم ہی نظر آرہا ہے تو پھر امریکا کے پابندیوں کے اقدام کے ردعمل میں ترکی بھی جوابی پابندیاں عائد کرسکتا ہے لیکن ان سے خود ا س کی اپنی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔گذشتہ سال امریکا کی پابندیوں سے ترکی کی کرنسی لیرا پر منفی اثرات مرتب ہوئے تھے اور ڈالر کے مقابلے میں اس کی قدر میں 30 فی صد تک کمی واقع ہوگئی تھی۔امریکا نے اس سال کے اوائل میں روس سے میزائل دفاعی نظام ایس -400 کی خریداری پر اصرار کے ردعمل میں ترکی کو لاک ہیڈ مارٹن کارپوریشن کے ساختہ ایف 35 لڑاکا جیٹ کے آلات مہیا کرنے کا عمل روک دیا تھا ۔امریکا کا اپنے نیٹو اتحادی ملک کے خلاف یہ پہلا ٹھوس اقدام تھا ۔ترک صدر رجب طیب اردگان اس بات پر مْصر ہیں کہ امریکا جو کچھ بھی کہتا رہے، ترکی روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اس کے ردعمل میں امریکا نے ترکی کو ایف 35 لڑاکا جیٹ مہیا کرنے کا عمل بھی منجمد کرنے کا اعلان کر دیا تھا ۔ترکی کا موقف ہے کہ وہ اپنی علاقائی خودمختاری کے دفاع کے لیے یہ میزائل نظام خرید کررہا ہے اور اس کے اقدامات سے اسکے اتحادیوں کو کوئی خطرات لاحق نہیں ہوسکتے۔ اس نے نیٹو کے تمام تقاضوں کو بھی پورا کیا ہے۔ دونو فریق امریکا کی نام نہاد کاٹسا پابندیوں سے بچنے کی خواہش کا بھی اظہار کرچکے ہیں۔اس امریکی قانون کے تحت روسی ساختہ طیارہ شکن ہتھیار جو نہی ترکی کی سرزمین پر پہنچیں گے تو اس پر ازخود ہی پابندیاں عاید ہوجائیں گے۔امریکا کا کہنا ہے کہ ترکی بیک وقت یہ جدید لڑاکا طیارے اور روس سے میزائل دفاعی نظام خرید نہیں کرسکتا۔ امریکا نے روس سے میزائل دفاعی نظام کی خریداری کے سودے سے دستبرداری کی صورت میں ترکی کو اس کے ہم پلّہ ’رے تھیون کو پیٹریاٹ دفاعی نظام ‘فروخت کرنے کی بھی پیش کش کی تھی۔ترکی کے روس سے میزائل دفاعی نظام خرید کرنے کے فیصلے سے اس کے نیٹو اتحادی بھی تشویش میں مبتلا ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ میزائل نظام نیٹو تنظیم کے فوجی آلات سے مطابقت نہیں رکھتا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں