منگل 29  ستمبر 2020ء
منگل 29  ستمبر 2020ء

میں رہو ںیانہ رہوںآر پار کشمیریوں کومتحد ہوناہوگا اگر 1964میں لال بہادر شاشتری کاانتقا ل نہ ہوا ہوتا  تو جموںو کشمیر کے حوالے سے بہت کچھ ہوا ہ

سرینگر(سائوتھ ایشین وائر )پانچ اگست 2019کو جموں وکشمیرکے حوالے سے لئے گئے فیصلے کو غیرجمہوری غیرآئینی قرار دیتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر اور موجودہ ممبر پارلیمنٹ فاروق عبداللہ نے کہاکہ میں رہو ںیانہ رہوںآر پار کشمیریوں کومتحد ہوناہوگا کشمیری پنڈتوں کو وادی کاگلدستہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ 1990کشمیری پنڈتوں کوگھروںسے نکالنے کے لئے سابق ریاست کےسابق گورنر نے اپنی خدمات انجام دی کشمیر پنڈتوں کے بغیروادی ادھہوری ہے وہ جب چائیں ا پنے گھروں کولوٹ سکتے ہیں ۔ ایک انٹر ویو میں نیشنل کانفرنس کے صدر اور سرینگر بڈگام کے ممبر پارلیمنٹ ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے کہاکہ اگر 1964میں بھارت googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کے وزیراعظم لال بہادر شاشتری کاانتقا ل نہ ہوا ہوتا اس وقت شیخ محمدعبداللہ پاکستان کے دورے پرتھے اور انہوں نے اپنادورہ مختصر کرکے نئی دہلی لوٹناپڑا اگرایسا نہ ہوا ہوتا تو جموںو کشمیرکے حوالے سے بہت کچھ ہوا ہوتا ۔انٹر ویو کے دوران نیشنل کانفرنس کے صدرنے پانچ اگست 2019کو مرکزی حکومت کی جا نب سے لئے گئے فیصلے پرناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ خصوصی درجہ واپس دلانے کی خاطرجموں وکشمیرکے عوام پرامن طریقے سے اپنی جدو جہد جاری رکھیں گی اور نیشنل کانفرنس پہلے ہی اپنایہ عہددہرا چکی ہے کہ خصوصی درجہ واپس لانے تک ہماری جدو جہدجاری رہے گی ۔ساوتھ ایشین وائرکے مطابق ڈاکٹرفاروق عبداللہ نے کہا کہ جموں وکشمیرکا مسئلہ تلخ حقیقت ہے اور حقیقت سے آ نکھیں چرانا کوئی سمجھداری نہیں ہے اور دنیا یہ بات تسلیم کر چکی ہے کہ جموں وکشمیرکے لوگوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے اور اس ناانصافی کوختم کرنے کے لئے موثراقدامات اٹھانے کی اشدضرورت ہے ۔انہوں نے کہا کہ میں رہوں یانہ رہوں آرپارکشمیریوں کومتحد رہناہوگا تب جاکروہ اپنی حیثیت کومنوا پائے گے ۔کشمیری پنڈتوں کے بارے میں پوچھے گے سوال کے جواب میں سابق وزیراعلی نے کہاکہ کشمیری پنڈت وادی کشمیرکاگلدستہ ہے ان کے بغیرکشمیرادھہوری ہے ہم ان کی واپسی چاہتے ہیں اور کشمیر ی پندڈتوں کوپھر سے بسانے کے لئے بیانو ں کے بجائے عملی اقدامات اٹھانے کی ضرور ت ہے ۔1990میں کشمیری پنڈتوں کے واد ی چھوڑ جانے کے پیچھے عسکریت پسندوں کے ہاتھ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں سوال کاجواب دیتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ سابق ریاست کے سابق گورنر جگموہن کا اس میں اہم ہاتھ ہے ۔اور اس معاملے کی سپریم کورٹ آ ف انڈیا کے ذریعے تحقیقات کی جانی چاہئے ۔سابق وزیراعلی نے کہا کہ وادی کشمیرکے لوگوں نے کب کشمیری پنڈتوں کی واپسی کامطالبہ نہیں کیامرکزی حکومت کی جا نب سے 5اگست کو لئے گے فیصلے پراپنی ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کہا ں ہےتعمیرترقی کیا ملی ٹینسی کم ہوئی کیاجموں وکشمیرکے لوگ پچھلے ایک سال سے دردر کی ٹھوکرے نہیں کھارہے ہیں۔ انہوں نے آر پار کشمیریوں سے تلقین کی کی وہ دنیاکے مہذب قوموں میں سے ایک ہے انہیں متحد ہوناہوگا تاکہ انہیں عذاب سے نجات مل سکے۔ گپکار اعلانیہ پر قائم دائم رہنے کا عندیہ دیتے ہوئے سابق وزیراعلی نے کہا کہ نیشنل کانفرنس خصوصی درجہ واپس لینے کی خاطردوسری تمام ہم خیال پارٹیوں کاتعاون حاصل کرے اپنی جدو جہد کوآخری وقت تک جاری رہے گی

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں