جمعرات 06  اگست 2020ء
جمعرات 06  اگست 2020ء

طیب اردوان حج پر مسلمانوں کی کم تعداد پر افسردہ، مسلمانوں کے نام اہم پیغام جاری کر دیا

استنبول (آن لائن) ترک صدر طیب اردوان نے تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد اور نیک تمنا وں کا اظہار کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب اور خلیجی ریاستوں میں جمعہ کو عیدالاضحیٰ منائی جا رہی ہے۔گئی، مسجد الحرام اور مسجد نبوی میں عید کے روح پرور اجتماعات ہوئے۔ حاجیوں سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے نماز عید ادا کی۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سمیت سعودی عرب میں نماز عید کےاجتماعات کے موقع پر سماجی فاصلے کا خیال رکھا گیا اور احتیاطی تدابیر پر مکمل عملدرآمد کیا گیا۔ نماز عید کے بعد اسلام کی سربلندی، امت مسلمہ کی سلامتی googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); اور ترقی کیلئے خصوصی دعائیں کی گئیں۔متحدہ عرب امارات، مصر، کویت، اردن، بحرین، قطر، انڈونیشیا، ایران، مصر اور ملائیشیا میں عیدالاضحیٰ مذہبی جوش و جذبے اور کورونا وائرس کی وبا کے باعث انتہائی سادگی سے منائی گئی اور مسلمانوں نے سنت ابراہمی پر عمل کرتے ہوئے قربانیکی۔یورپ بھر اور امریکا میں بھی جمعہ کو عید منائی گئی۔اس موقع پر ترک صدر طیب اردگان نے تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد دی ہے۔ترک صدر نے تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد پیش کرتے ہوئے نیک تمناؤں کا اظہار کیا ہے۔اور کہا ہے کہ میں تمام مسلمانوں کو عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں امید ہے دنیا میں امن قائم ہو گا۔ترک صدر نے کہا کہ میں دعا کرتا ہوں کہ یہ مقدس ایام ہماری قوم،عالم اسلام اور پوری انسانیت کے لیے اچھے نیتجے کا باعث ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے اس سال ہم عید الا ضحیٰ پر افسردہ ہیں۔ اس سال کورونا کے باعث مسلمانوں کی کم تعداد نے حج ادا کیا۔آئندہ سال انشاء اللہ لاکھوں مسلمان خانہ کعبہ میں جائیں گے۔ترکی کی تاریخی مسجد ا?یا صوفیہ میں بھی نماز عید کا اجتماع ہوا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ترکی کے مسلمانوں نے آج آیا صوفیہ میں عیدالاضحی کی نماز پڑھی۔آیا صوفیہ کو دوبارہ مسجد میں تبدیل کرنے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب یہاں عید کی نماز ادا کی گئی ہے۔اس موقع پر ترکی کے مسلمانوں کی جانب بہت خوشی کا اظہار کیا گیا۔آیا صوفیہ میں نماز ادا کرنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں