جمعرات 16 جولائی 2020ء
جمعرات 16 جولائی 2020ء

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) کرونا وائرس نے جہاں ایک جانب دنیا کو پریشان کر رکھا ہے تو وہیں یہ وائرس لوگوں کو ملانے کا سبب بھی بن رہا ہے، کرونا سے متاثرہ مریض ہسپتالوں میں داخل ہیں۔ ایسا ہی ایک واقعہ بریڈ فور سے تعلق رکھنے والی نرس صوفی کیساتھ پیش آیا جو ہسپتال میں کام کرتی تھی ، گزشتہ ماہ وہ نائٹ شفٹ کی ڈیوٹی کیلئے ہسپتال پہنچی تو اسے ایک نوجوان جو کرونا وائرس سمیت کئیبیماریوں میں مبتلا تھا جس کی ایک رات زندہ رہنے کی امید باقی نہیں تھی ۔ کرونا وائرس سے متاثرہ نوجوان نے نرس googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); صوفی کو بتایا کہ اس منگنی 15سال قبل ہوئی تھی لیکن وقت اور پیسے کی کمی کی وجہ سے شادی ابھی تک نہیں ہو سکی ، مریض کی داستان سننے کے بعد نرس صوفی نے دونوں کی شادی کا اسپتال میں انتظام کیا ، تمام حفاظتی تدابیر کے تحت انتظامات مکمل کیے گئے ، جبکہ فوٹو شوٹ بھی ہوا۔ دلہا دلہن نے کیک کاٹا ، تقریب کی ادائیگی کے وقت نوجوان کی سانسیں اکھڑ رہی تھیں دونوں کو قبول ہے کہنے میں مشکل درپیش تھی کہ کیونکہ لڑکی کی رونے کی وجہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی جبکہ لڑکے کی طبیعت سخت خراب ہونے کی وجہ سے قبول ہے کہ آواز نہیں نکل رہی تھی ۔ شادی کی تقریب میں شریک لوگوں کو جذباتی کر دیا ۔ دوسر جانب ایسے ہی مصر کے ہسپتال میں داخل ایک مریض کو علاج کرنے والی ڈاکٹر سے محبت ہو گئی، مریض دو ماہ تک زیر علاج رہا اور ان دو ماہ میں خاتون ڈاکٹر اس کا علاج کرتی رہی، اس دوران ان دونوں کو ایک دوسرے محبت ہو گئی، جیسے ہی مریض صحت یاب ہوا، ڈاکٹر اور مریض نے ہسپتال میں ہی منگنی کر لی، اسی طرح لندن میں رواں سال اگست میں طے پائی جانے والی شادی وبائی بیماری کورونا وائرس کے سبب منسوخ کر کے ڈاکٹر اور نرس نے اسپتال ہی میں شادی کر لی۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق لندن میں 34 سالہ نرس جین ٹپنگ اور 30 ڈاکٹر انالان نواراتنم کی شادی ہوئی، جہاں اْن کے مہمانوں اور گواہان نے لائیو اسٹریم کے ذریعےآن لائن شادی میں شرکت کی۔شادی شدہ جوڑے کے مطابق انہوں نے اپنی شادی کی منصوبہ بندی اس وقت کی تھی جب سب صحت مند اور حالات بہتر تھے، ٹپنگ اور انالان نے اپنی شادی اگست میں کرنے کا سوچا تھا، مگراْنہیں شادی کی منصوبہ بندی منسوخ کرنی پڑی کیوں کہ دونوں کے خاندان کے لیے اس وبا کی صورتحال میں بحافاظت شمالی ائر لینڈ اور سری لنکا سے آنا ممکن نہیں تھا۔لندن کے اسپتال میں بطور نرسخدمات انجام دینے والی ٹپنگ کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے تھے کہ سب ہماری شادی پر خوشیاں منائیں چاہے ہمارے پیاروں کو ہمیں اسکرین پر دیکھنا پڑے۔‘30 سالہ ڈاکٹر انالان نواراتنم کا کہنا تھا کہ ’مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ ہم دونوں اس رشتے میں بندھ گئے ہیں۔‘نئے شادی شدہ جوڑے کی جانب سے رشتے داروں کے لیے باقاعدہان لائن تقریب منعقد کی گئی جس میں انہوں نے ڈانس بھی کیا۔اسپتال میں اس تقریب کے انتظامات کرنے والی خاتون ملا ہلبرن کا کہنا تھا کہ ’اس شادی کی تقریب کا حصہ بن کر اچھا لگا۔‘اس شادی کی خبر سن کا لندن کے ہیلتھ منسٹر میٹ انوک کی جانب سے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ ’یہ ایک شاندار خبر ہے۔‘

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں