پیر 25 مئی 2020ء
پیر 25 مئی 2020ء

راجستھان کے قرنطینہ میں موجود مقبوضہ کشمیر کی میڈیکل طالبات سخت ذہنی تنائوکا شکار، مودی سرکار کیا افسوسناک کام کر رہی ہے؟

سرینگر (نیوز ڈیسک) بھارتی حکومت ایران کی شیراز میڈیکل یونیورسٹی سے مہلک کورونا وائرس کے باعث واپس لوٹنے والی مقبوضہ کشمیر کی 53 ایم بی بی ایس طالبات کو ریاست راجستھان میں قائم ایک قرنطینہ میں مقررہ مدت پوری کرنے کے باوجود اپنے گھروں کو واپس نہیں بھیج رہی جس کی وجہ سے وہ سخت ذہنی تنائو میں مبتلا ہیں۔ یونیورسٹی سے واپس آنے والی طالبات میں سے ایک انساب نبی نے بتایا کہ انہوں نے راجستھان کے ایک بارڈر علاقے میں قائم کیے گئے قرنطینہ میں چودہ روز سے زائد کی مدت پوری کر لی ہے جبکہتمام طالبات کے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ٹیسٹ دو مرتبہ منفی آئے ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں گھروں کو نہیں پہنچایا جا رہا۔ طالبات نے کہا کہ انہیں جہاں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے یہ ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں صرف فوجی ہی رہ سکتے ہیں۔ طالبات نے بھارتی حکومت اور مقبوضہ علاقے کی قابض انتظامیہ سے اپیل کی انہیں اپنے گھروں تک پہنچانے کے انتظامات کیے جائیں۔ انساب کے علاوہ تقریباً 250 کشمیری طلبا اس وقت راجستھان میں قرنطینہ میں ہیں۔ جن میں سے 170 جیسلمیر میںہیں۔ جس میں 100 سے زائد ایران سے آئے ہوئے طلبہ ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں