پیر 25 مئی 2020ء
پیر 25 مئی 2020ء

اپنوں نے ہی بے گھر کر دیا، شارجہ میں لاک ڈاؤن کے دوران بھی پاکستانی ماں بیٹیوں کو چھت نصیب نہ ہوا، نوجوان لڑکی اپنی بوڑھی والدہ اور بہن بھائیو

شارجہ(مانیٹرنگ ڈیسک) کرونا وائرس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے اور اس مہلک وائرس کی وجہ سے دنیا کے تمام لوگ پریشان ہیں، ایسے میں شارجہ میں بھی اس مہلک وائرس کے حملے جاری ہیں، اس وائرس کی وجہ سے تارکین وطن اور مقامی افراد اپنے اپنے گھروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں۔ خلیج ٹائمز نے ایک پاکستانی خاندان کی دکھ بھری داستان شائع کی ہے، یہ خاندان کرونا سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کے لئے بالکل بے بس ہے،رپورٹ کے مطابق یہ چار افراد ہیں، جن میں 28 سالہ عظمی فاروق، اس googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کی ضعیف والدہ خالدہ فاروق اور دو چھوٹے بہن بھائی رابعہ اور بلال فاروق شامل ہیں۔ یہ خاندان گزشتہ ایک ماہ سے پارک کے بنچوں، مساجد حتیٰ کہ ہسپتالوں کے کوریڈورز میں وقت گزارنے پر مجبور ہے۔ رات کے وقت شارجہ میں جزوی کرفیو کی وجہ سے ان کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیاہے، انہیں سر چھپانے کے لئے کوئی جگہ میسر نہیں آ رہی ہے۔ عظمی نے خلیج ٹائمز کو بتایا ہمیں کپڑے بدلے ہوئے بھی کئی روز ہو چکے ہیں، کیونکہ ہمارے پاس نہانے کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے۔ عظمیٰ نے بتایا کہ ہم نے کئی روز سے پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں کھایا مگر ہماری سب سے بڑی تکلیف بزرگ والدہ سے متعلق ہے جو اپنی کمزوری کی وجہ سے زیادہ دیر تک کھڑی نہیں رہ سکتی ہیں، وہ دل کی مریضہ ہیں اور اوپر سے ان حالات کی وجہ سے ان کی صحت مزید خراب ہو رہی ہے۔کرونا کے خدشے نے انہیں مزید فکر مند کر دیا ہے ان کی قوت مدافعت بھی بہت کمزور ہے۔ اس خاندان کا تعلق ضلع سیالکوٹ سے ہے۔ یہ خاندان شارجہ کے علاقے رولا میں ایک اپارٹمنٹ میں مقیم تھا لیکن معاشی حالات خراب ہونے پر انہیں وہاں سے نکال دیا گیا، جس کے بعد عظمیٰ کی ایک سہیلی نے اس خاندان کو دو ہفتے کے لئے پناہ دی۔ لیکن جب کرونا کے مریضوں میں اضافہ ہونے لگا تو سہیلی نے بھی انہیں جواب دے دیا کیونکہ اس کا اپارٹمنٹ بہت چھوٹا تھا۔ عظمیٰ نے بتایا کہ ہمارا خاندان سیالکوٹ میں اچھی زندگی گزار رہا تھا لیکن بدقسمتی سے ہمارے والد کا ایکسڈنٹ ہوا اور وہ اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے،ہمارے والد کی موت کے بعد ان کے بھائیوں نے ہماری جائیداد پر قبضہ کر لیا اور ہمیں زبردستی نکال باہر کیا۔ ا ن برے حالات کی وجہ سے تین سال قبل متحدہ عرب امارات آ گئی، شارجہ میں مجھے ایک پرفیوم کمپنی میں سیلز پروموشن کی نوکری مل گئی۔ جس کے ہمارے حالات بہتر ہونے لگے۔ کچھ عرصہ بعد میری چھوٹی بہن رابعہ بھی میرے پاس آ گئی۔ وہ یہاں ایک ڈے کیئر میں آیا کی نوکری کررہی تھی۔کچھ ماہ پہلے میں نے اپنے چھوٹے بھائی بلال کو بھی یہیں بُلالیا۔ جس نے ایک موبائل ریپرنگ کی دُکان میں نوکری کرنے کے لیے ایجنٹ کو ورک ویزہ کے لیے رقم دی۔اس ایجنٹ نے دھوکہ دیا اور ساری رقم لے کر غائب ہو گیا جس کے بعد بھائی کو تو نوکری نہ مل سکی لیکن ہماری نوکریاں بھی چلی گئیں۔ غرض یہ خاندان اس وقت شارجہ میں انتہائی مشکلات کا شکار ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں