اتوار 05 اپریل 2020ء
اتوار 05 اپریل 2020ء

افغان صوبہ ننگرہار میں فضائی حملہ، ایک ہی خاندان کے 8 افراد ہلاک، میرے گھر میں اب روٹی،روزی کمانے والا کوئی نہیں بچا ،تینوں بیٹے مارے گئے ‘70س

جلال آباد (این این آئی)افغانستان کے مشرقی صوبہ ننگرہار میں ایک فضائی حملے میں ایک ہی خاندان کے آٹھ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔صوبائی گورنر کے ترجمان عطاء اللہ خوجیانی نے بتایا ہے کہ فضائی حملے کا ہدف طالبان جنگجو تھے لیکن بدقسمتی سے اس کا نشانہ ایک اور گاڑی بن گئی ہے اور اس میں سوار آٹھ شہری مارے گئے ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ طالبان جنگجو ایک شاہراہ پر چیک پوائنٹ بنانے کیکوشش کررہے تھے۔مہلوکین کے ایک رشتہ دار طالب خان نے بتایا ہے کہ وہ ایک پکنک منانے کے بھی گھر کو واپس آرہے تھے لیکن ان کا googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ٹرک فضائی بمباری کا نشانہ بن گیا اور اس میں سوار تمام افراد مارے گئے ہیں۔اسی خاندان کے 70 سالہ بزرگ شاہ میرنے اس فضائی حملے کے نتیجے میں اپنے خاندان پر برپا ہونے والی قیامت کا غمناک انداز میں تذکرہ کیا ہے۔‎ انھوں نے کہا کہ میرے گھر میں اب روٹی،روزی کمانے والا کوئی اور فرد نہیں بچا ، فضائی بمباری میں میرے تینوں بیٹے مارے گئے ہیں۔میرے درجن بھر پوتے پوتیاں ہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اب میں ان کی کیسے پرورش کرسکوں گا۔فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ فضائی بمباری کس کے لڑاکا جیٹ نے کی ہے لیکن افغانستان میں صرف امریکی اور افغان افواج ہی فضائی حملے کرتی ہیں۔امریکی فوج کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ وہ اس واقعہ کا جائزہ لے رہے ہیں۔افغان وزارت دفاع کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے واقعہ کی تحقیقات شروع کردی ہے۔اس فضائی حملے سے دو روز قبل ہی گذشتہ جمعرات کو امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے کہا تھا کہ طالبان کے ساتھ تشدد میں سات روزہ کمی کی بنیاد پر ایک سمجھوتا طے پا گیا ہے۔اسی کی بنیاد پر بعد میں افغانستان میں جنگ بندی کا ایک جامع معاہدہ طے پائے گا۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہوا کہ تشدد میں کمی کے اس سمجھوتے پر عمل درآمد کا آغاز کب سے ہوگا۔طالبان کے ایک عہدہ دار کا کہنا تھا کہاس پر عمل درآمد ناگزیر ہے جبکہ امریکا کے ایک عہدہ دار نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس کا بہت جلد آغاز ہوگا۔‎امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات گذشتہ سال کے اوائل میں شروع ہوئے تھے لیکن طالبان کے ستمبر2019ء اور پھر دسمبر میں امریکی فوجیوں پر حملوں کے بعد یہ مذاکرات عارضی طور پر منقطع ہوگئے تھے۔گذشتہ ماہ امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستانزلمے خلیل زاد اور طالبان کے اعلیٰ مذاکرات کار ملّا عبدالغنی برادر کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا تھا اور اس دوران میں انھوں نے متعدد مرتبہ بالمشافہ ملاقاتیں کی ہیں۔مختلف ذرائع کے مطابق طالبان نے امریکی فورسز پر حملے روکنے اور افغان حکومت کے مفادات پر حملوں میں کمی لانے سے اتفاق کیا ہے۔واضح رہے کہ اقوام متحدہ کی ایک ایجنسی نے گذشتہ سال دسمبر میں ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہجنگ زدہ ملک میں گذشتہ ایک عشرے کے دوران میں تشدد کے واقعات میں ایک لاکھ سے زیادہ شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔افغانستان میں گذشتہ 18 سال سے زیادہ عرصے سے جنگ جاری ہے۔ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے 11 ستمبر 2001ء کے حملوں کے ایک ماہ بعد افغانستان میں اپنی جنگ کا آغاز تھا اور چند ایک ماہ ہی میں تباہ کن فضائی بمباری سے اس کی اینٹ سے اینٹ بجا دی تھی۔‎

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں