بدھ 13 نومبر 2019ء
بدھ 13 نومبر 2019ء

سپین کے سابق ڈکٹیٹر کو موت کے 44 سال بعد انوکھی سزا

میڈرڈ (این این آئی) سپین کے سابق ڈکٹیٹر کی وفات کے چالیس برس سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد ان کی باقیات کو سرکاری مقبرے سے نکال کر عام قبرستان میں منتقل کر دیا گیا۔ نعش کی منتقلی پر ستر ہزار ڈالر کا خرچہ ہوا۔سپریم کورٹ کے حکم کے بعد فرانسسکو فرینکو کی باقیات کو سرکاری مقبرے سے نکال کر عام قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ اڈولف ہٹلر اور مسولینی کے ساتھی سمجھے جانے والے سابق آمر کی نعش کی دوبارہ تدفین کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیےگئے تھے۔حکومتی اعدادوشمارکے مطابق انہیں عام قبرستان میں دفنانے پر 70 googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ہزار ڈالر خرچہ آیا۔ فرانسسکو فرینکو 1939ء میں ہسپانوی خانہ جنگی کے بعد اقتدار پر قابض ہو گئے تھے اور 1975ء میں اپنی موت تک حکمران رہے۔36 برس تک سپین کے مطلق العنان حکمران رہنے والے فرانسسکو فرینکو 1975ء میں انتقال کر گئے تھے۔ اس سے قبل برطانیہ کے متنازع ہیڈ آف سٹیٹ اور جنرل اولیور کرامویل کو مرنے کے تین سال بعد ان کی باقیات کو پھانسی دی گئی تھی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں