منگل 20  اگست 2019ء
منگل 20  اگست 2019ء

ڈپریشن اور شکٹزوفرینیا میں مبتلا روسی ماوئوں کا اپنے ہی بچوں کیساتھ کیا کرتیں ہیں ؟ ماہرین کا حیران کن انکشاف

واشنگٹن(این این آئی) امریکہ اورروسی ماہرین ِ نفسیات نے اندازہ لگایا ہے کہ ڈپریشن اور شکٹزوفرینیا میں مبتلا روسی ماوئیں اپنے ہی بچوں کو قتل کر ر ہی ہیںاورہر چار میں سے ایک ماں کے ذہن میں اپنے بچے کو مارنے کے بارے میں خیالات آتے ہیں،روس میں ہر سال درجنوں خواتین کو اپنے ہی بچوں کے قتل کے جرم میں سزائیں دی جاتی ہیں۔ ان ملزمان میں متعدد بچوں والی، گھر پر رہنے والیاور کامیاب کاروباری خواتین بھی شامل ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق برطانوی صحافی اولیسیا گراسیمینکو اور سویتلانا ریٹر نے روس میں ایسی خواتین سے بات کی googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); تاکہ اندازہ لگا سکیں کہ مائیں اپنے ہی بچوں کو کیوں قتل کرتی ہیں۔ان کی تحقیقات سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہم مامتا سے متعلق افسانوں اور متنازع موضوعات سے متعلق خاموشی کو کیسے ختم کر سکتے ہیں اور ماؤں پر موجود نفسیاتی دباؤ کی حقیقت بیان کر سکیں تاکہ بچوں کے قتل جیسے سانحوں سے بچا جا سکے۔انھوں نے چھوٹے بچے کے کپڑے اور بچہ گاڑی خریدی اور الیونا نے بچے کی پیدائش سے قبل معلوماتی کلاسز بھی لیں۔ لیکن کسی نے انھیں بچے کی پیدائش کے بعد ماں کو پیش آنے والے نفسیاتی مسائل کے بارے میں نہیں بتایا۔بچے کی پیدائش کے بعد الیونا کو کم خوابی کا عارضہ لاحق ہو گیا اور ان کا کہنا تھا کہ وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکیں۔بعد میں پتا چلا کہ ان کے ساتھ ماضی میں ایک نفسیاتی مسئلہ ہوا تھا اور اب ایک ماہرِ نفسیات نے انھیں کچھ ادویات دیں ہیں جن سے انھیں کچھ افاقہ ہوا۔ایک دن پیوٹر گھر پہنچے تو انھوں نے اپنے سات ماہ کے بچے کو باتھ روم میں مردہ حالت میں پایا اور الیونا بعد میں انھیں ماسکو کے مضافات میں ایک جھیل کے کنارے بیٹھی ملیں۔اپنے بچے کو ڈبونے کے بعد الیونا نے ایک واڈکا کی بوتل پی لی تھی تاکہ وہ خود بھی ڈوب جائیں لیکن وہ بے ہوش ہو گئیں۔انھیں یقین ہے کہ اگر کوئی الیونا کے سامنے بچہ پیدا ہونے کے بعد ہونے والے ڈپریشن کا ذکر بھی کر لیتا تو اس سانحے سے بچا جا سکتا تھا۔روس کے ماہرِین جرائم کہتے ہیں کہ 80 فیصد خواتین اپنے بچے کو مارنے سے پہلے ڈاکٹر کے پاس جاتی ہیں اور کم خوابی، سر درد اور حیض کی بیقاعدگی کے بارے میں شکایت کرتی ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں