منگل 18 جون 2019ء
منگل 18 جون 2019ء

میرے فالورز کم ہو گئے ہیں : ٹرمپ کا ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو سے شکوہ

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹیو سے ہونے والی ملاقات میں ٹوئٹر پر اپنے فالورز کی تعداد میں کمی کا شکوہ کیا ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ڈانلڈ ٹرمپ نے ملاقات کا زیادہ حصہ ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو سے اپنے فالورز میں کمی کے حوالے سے سوالات کرنے میں گزار دیا تھا۔ رائٹرز نے اپنی رپورٹ میں ذرائع کا حوالہدیتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کی تشویش کے جواب میں ٹوئٹر کے چیف ایگزیکٹو نے صدر کو واضح کیا کہ کمپنی جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جس وجہ سے بہت سی نامور شخصیات کے فالورز کی تعداد میں کمی آئی ہے۔چیف ایگزیکٹو جیک ڈارسی کا کہنا تھاکہ کمپنی کے اس اقدام سے ان کے فالورز بھی پہلے کی نسبت کم ہوئے ہیں۔ جیک ڈارسی کی وضاحت کے باوجود صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ رپبلکن پارٹی کے رکن ہونے کی وجہ سے ٹوئٹر کمپنی ان سے تعصب رکھتی ہے ۔’بطور رپبلکن (ٹوئٹر کمپنی ) میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتی اور یہ بہت امتیازی رویہ ہے۔سوشل میڈیا کے حوالے سے اعدادو شمار دینے والے ادارے ’کی حول‘ کے مطابق جولائی کے مہینے سے اب تک صدر ٹرمپ نے اپنے پانچ کروڑ تیس لاکھ ٹوئٹر فالورز میں سے 2 لاکھ 4 ہزار فالورز کھوئے ہیں ۔ اکتوبر میں بھی صدر ٹرمپ نے اس حوالے سے ٹویٹ کیا تھاکہ ٹوئٹر نے ان کے اکاؤنٹس سے بہت سے لوگوں کو ہٹایا ہے اور کمپنی نے ایسے اقدامات کیے ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کو اکاؤنٹ بنانے میں مشکل آرہی ہے۔ امریکہ میں 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر غلط خبروں کی تشہیر کر کے مبینہ طور پر ووٹرز پر اثر انداز ہونے کے لیے استعمال کیا گیا تھا جس کے بعد سے ٹویٹر نے مشتبہ اکاؤنٹس کو بند کرنے کا سلسہ شروع کر دیا تھا۔صدر ٹرمپ سمیت دیگر رپبلکن پارٹی کے ممبران بھی ٹوئٹر پر ان کی جماعت کی طرف تعصب رکھنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔ ٹویٹر کمپنی کے عہدیداروں نے ان الزامات کو ہمیشہ رد کیا ہے۔ صدر ٹرمپ کا شمار ٹویٹر پر سب سے زیادہ فالو کی جانے والی نامور شخصیات میں ہوتا ہے۔ ان کے ٹویٹر پر پانچ کروڑ نوے لاکھ سے زیادہ فالورز ہیں۔ ٹوئٹر کے پبلک پالیسی ڈائریکٹر کارلوس مونشے نے گزشتہ مہینے امریکی سینیٹ میں سماعت کے دوران واضح کیا تھا کہ ان کی کپمنی سے متعلق فیصلے اور ٹویٹر پرشائع کیے جانے والے موادکا تعین سیاسی نظریات اورپارٹی وابستگیوں کی بنیاد پرنہیں کیا جاتا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں