منگل 12 نومبر 2019ء
منگل 12 نومبر 2019ء

پاکستان میں ڈینگی کے پھیلاؤ نے نیا ریکارڈ قائم کردیا

اسلام آباد(آن لائنٰ) پاکستان میں ڈینگی کے پھیلاؤ نے نئے ریکارڈ زقائم کردیے ،رواں سال کے دوران اب تک تقریباً 44 ہزار افراد اس سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ 66 افراد مچھروں سے پھیلنے والی اس بیماری کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔قومی ادارہ برائے صحت کے ڈیزیز سرویلنس ڈویڑن کے سربراہ ڈاکٹر رانا صفدر نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ رواں سال کے دوران دنیا بھر میں ڈینگی کے کیسز غیر معمولی تعداد میں رپورٹ ہوئے۔اور دعویٰ کیا کہ پاکستان کی کارکردگی دیگر ممالک کے مقابلے میں بہتر ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا کی ریاست اٹلانٹا میں حال googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ہی میں ہونے والے اجلاس میں ڈینگی کے پھیلاؤ کے بارے میں بات چیت کی گئی جس میں دیگر ممالک کے نمائندوں نے نہ صرف پاکستانی حکومت کی کارکردگی کو سراہا بلکہ ملک میں اس بیماری کی روک تھام کے تجربے کو دستاویزی شکل دینے کی درخواست بھی کی۔ڈاکٹر رانا صفدر کا کہنا تھا کہ کراچی واحد شہر ہے جہاں سندھ کے 94 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے اور ڈینگی کے پھیلاؤ کا موسم تقریباً اپنے اختتام پر ہے لیکن یہ سلسلہ رواں برس کے آواخر تک جاری رہ سکتا ہے۔ان کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ کراچی کا درجہ حرارت ملک کے دیر علاقوں کی نسبت گرم ہے اور کراچی میں نومبر کے مہینے میں اس بیماری کو روکنے کے لیے ہمیں طویل کوششیں کرنی ہوں گی۔دستاویز کے مطابق رواں سال کے دوران ملک بھر میں ڈینگی کے 44 ہزار415 کیسز کی تصدیق ہوئی جس میں سب سے زیادہ 12 ہزار 433 کیسز وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں رپورٹ ہوئے۔سندھ میں ڈینگی کے تصدیق شدہ کیسز کی تعداد 10 ہزار 142، پنجاب میں 9 ہزار 260، خیبرپختونخوا میں 7 ہزار 346، بلوچستان میں 3 ہزار 51 کی تعداد میں ڈینگی کیسز جبکہ آزاد کشمیر میں ڈینگی کے ایک ہزار 672 کیسز سامنے آئے۔اسی طرح ڈینگی سے سب سے زیادہ اموات سندھ میں ہوئیں جن کی تعداد 26 ہے، اسلام آباد میں22، پنجاب میں 14 بلوچستان میں 3 جبکہ آزاد کشمیر میں ڈینگی کے باعث ایک انسان کی وفات ڈینگی کے باعث ہوئی۔خیال رہے کہ ڈینگی مچھر کے کاٹنے سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے جس کے نتیجے میں مریض کے پلیلیٹس میں کمی واقع ہوجاتی ہے اور مریض میں خون جمنے کی صلاحیت کم ہوجاتی ہے جس کے باعث پلیٹلیٹس لگانے پڑتے ہیں۔اگر ڈینگی کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو ڈینگی بخار سےزندگی کو خطرہ بھی لاحق ہوسکتا ہے اور اس کے نیتجے میں خون بہنے، پلیٹلیٹس میں کمی اور خون کے خلیات ضائع ہونے لگتے ہیں یا بلڈ پریشر خطرناک حد تک گر جاتا ہے۔پاکستان میں پہلی مرتبہ ڈینگی 1994 میں پھیلا جس کے بعد سے اب تک متعدد مرتبہ اس وبائی مرض کا پھیلاؤ سامنے آچکا ہے، گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران پاکستان میں 2 مرتبہ ڈینگی کا مرض خطرناک حد پھیل گیا تھا۔جس میں سال 2005 میں کراچی میں ڈینگی کے 6ہزار کیسز سامنے آئےاور 52 اموات ہوئیں جبکہ 2011 میں لاہور میں 21 ہزار افراد ڈینگی سے متاثرہ ہوئے جبکہ 350 افراد اس بیماری کے سبب وفات پاگئے۔علاوہ ازیں سال 2011 سے 2014 کے دوران ملک بھی کی لیبارٹریز میں ڈینگی کے 48 ہزار کیسز کی تصدیق کی گئی۔ایک رپورٹ کے مطابق سال 2011 میں 27 ہزار اس وبا سے متاثر ہوئے تھے لیکن اموات کی تعداد رواں برس کے مقابلے 6 گنا زائد تھی یعنی اس بیماری کے سبب 370 افراد کی وفات ہوئی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں