جمعرات 14 نومبر 2019ء
جمعرات 14 نومبر 2019ء

اسلام آباد(آن لائن) پاکستانیوں میں بڑھتے ہوئے امراض کی وجہ برائیلر مرغیوں میں سالمونیلااور مائیکو پلازمہ بیماریوں کی موجودگی ہے اور ان کی وجہ مرغی مافیاکی طرف سے گرینڈ پیرنٹس  اور پیرنٹ فلا کس  کی زائد پیداوار ہے۔ لالچ کے باعث مرغی مافیا نے انسانی جانوں شے کھیلنا شروع کررکھا ہے جس کو حکومت روکنے میں مکمل ناکام ہوگئی ہے۔ بلکہ حکومت کے اعلیٰ بااختیار لوگ بھی اس مافیا کا حصہ بن چکے ہیں۔تفصیلات کے مطابق مرغیوں کی زائد پیدوار کی سائنسی تکنیک کے تحت گرینڈ پیرنٹس اور پیرنٹ فلا کس اہم کردار ادا کرتے ہیں جبکہ ان کی زائد googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); پیدوار سے مختلف موضی امراض انسانوں میں جنم لے رہی ہیں۔ مرغیوں سے سالمو نیلا اور مائیکو پلازمہ بیماریاں انسانوں میں منتقل ہورہی ہیں جو لاعلاج ہیں۔ غلط تکنیک کے استعمال سے پاکستان کے وسائل  وافر مقدار میں استعمال ہوکر ضائع ہورہے ہیں۔ جن کی روک تھام کے لئے مرغی مافیا کو لگام دینے والا کوئی نہیں ہے۔ مرغیوں میں موجود بیماریوں کے اثرات انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں اور مختلف موذی امراض اب انسانوں میں بھی ظاہر ہوئے ہیں اور پھر عام انسان موذی امراض میں مبتلا ہوکرموت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ان اہم معلومات کا انکشاف ایک دستاویز میں ظاہر ہوا ہے جو وزیر اعظم کو ارسال کی گئی ہے سائنسدانوں کے ایک گروپ نے ایک  تحقیق میں موجودہ حکومت کو وارننگ دی ہے کہ مرغی مافیا پر سخت ہاتھ ڈالا جائے اور ملک میں بیماریوں کے سیلاب کو روکنے کیلئے مرغی سیکٹر پر کڑی اصلاحات لائی جائیں ورنہ پاکستان میں انسانی تباہی کا ایک نیا بحران جنم لے گا۔ جس کی روک تھام مشکل ہو جائے گی۔ڈاکٹروں کے اس گروہ نے اپنی ریسرچ رپورٹ میں حکومت کو سفارش کی ہے کہ مرغیوں کی خوراک میں (گروتھ پروموٹر)اپنی بائیو ٹک پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ پاکستانیوں کی قیمتی زندگیوں کا تحفظ کیا جاسکے۔ وزریر اعظم کو ارسال کی گی رپورٹ میںان کمپنیوں کی مکمل تفصیلات بھی شامل ہیں جو جی پی درآمد کرتے ہیں۔ ان کمپنیوں میں بگ برڈ  جدید چکس (آر بریکر) ڈاکٹر امجد، (Cobb)کے این این یہ کمپنیان انسانی زندگیوں سے کھیل کر اربوں روپے کما چکی ہیں اور ان کو روکنے ولاابھی تک کوئی سامنے نہیں آیا۔ کیونکہ ان کمپنیوں نے ناجائز کمائی سے متعلقہ حکومتی اداروں کو بھی خرید رکھا ہے جو اس سیکٹر کو ریگولیٹ کرتے تھے وہ ان کمپنیوں کے مشیر بن چکے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں