پیر 26  اگست 2019ء
پیر 26  اگست 2019ء

گنگا رام ہسپتال میں لاکھوں مریضوں کو علاج معالجہ کی مفت سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں، ایم ایس گنگا رام

خالق نگر(این این آئی ) ایم ایس گنگا رام ہسپتال ڈاکٹرفیاض بٹ کا کہنا ہے کہ گنگا رام ہسپتال میں لاکھوں مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولتوں کی فراہمی کے علاوہ اعلیٰ معیار ی ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیںجبکہ ہسپتال میں بچوں کی نارمل پیدائش کے سب سے زیادہ کیسزآتے ہیں جو کہ ایک ریکارڈ ہے۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں مریضوں کے چھوٹے بڑے آپریشن کئے جارہے ہیں،ہسپتال میں مستحقمریضوں کو لیبارٹری ٹیسٹ،الٹرا سائونڈ،ایکسرے،ای سی جی کی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں جبکہ یہی سہولتیں پرائیویٹ طور پر حاصل کی جاتیں تو عوام کو کروڑوں روپے ادا کرنے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); پڑتے۔ایم ایس گنگا رام ہسپتال ڈاکٹرفیاض بٹ نے مزید بتایا کہ ہسپتال میں مختلف امراض کے سپیشلسٹ ڈاکٹرز،سینئر و جونیئرمیڈیکل آفیسرز،لیڈی ڈاکٹرز24 گھنٹے علاج معالجہ کی خدمات انجام دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہسپتال میں چھوٹے بچوںکے امراض،سرجری سے متعلقہ مریض، میڈیکل کیس،آنکھوں کے مریض، کان ناک گلہ کے مریض،ہڈیوں سے متعلقہ مریض، دانتوں کے مریض،زنانہ مریض، ہارٹ سے متعلقہ مریض،آئوٹ ڈور مریض،ایمرجینسی مریضوں کا علاج معالجہ کیا جارہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہسپتال میں سالانہ لاکھوں روپے کی ادویات مفت فراہم کی جارہی ہیں ۔ گنگا رام ہسپتال کی ایمرجنسی اور ان ڈور میں ادویات و ٹیسٹ مفت کئے جارہے ہیں،اوپی ڈی میں 80فیصدادویات مریضوں کو مفت مہیا کی جارہی ہیں،ان خیالات کا اظہار ایم ایس گنگا رام ہسپتال لاہور ڈاکٹرفیاض بٹ نے گزشتہ روز ایک ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کیا،اس موقع پر ڈاکٹرمحمدعدنان ،سیدصدا حسین کاظمی بھی موجودتھے،ڈاکٹرفیاض بٹ نے مزیدکہا کہ ہسپتال میں ایم آرآئی مشین فعال ہے،ہسپتال سے ٹائوٹ مافیا کا خاتمہ کردیا ہے،انہوں نے کہا کہ اپنی ڈیوٹی نیک نیتی سے نہ کرنے والا عملہ کسی بھی رعائت کا مستحق نہیں،عملے کو مریضوں اور ان کے لواحقین کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے کی ہدائیت کی ہے،ہر پانچ سیکنڈبعد تقریبا ایک مریض آرہا ہے،ایم ایس ڈاکٹرفیاض بٹ کا مزیدکہنا تھا کہ مریضوں کی خدمت کرکے دلی سکون ملتا ہے،میرے دروازے عوام کے لئے کھلے ہیں،انہوں نے کہا کہ گنگا رام ہسپتاک کو ایشیاء کا بہترین ہسپتال بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں