اتوار 09  اگست 2020ء
اتوار 09  اگست 2020ء

اسلام آباد (این این آئی)اسسٹنٹ ڈاریکٹر پمز ڈاکٹر مطاہر شاہ اور پمز انتظامیہ کے درمیان ڈیڈ لاک برقرار ،نرسز کے احتجاج کے بعد قائم فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی کے سامنے ڈاکٹر مطاہر شاہ اور پمز انتظامیہ کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ۔ جمعہ کو پمز انتظامیہ کی جانب سے واقعہ سے متعلق رپورٹ جاری کر دی گئی،ڈاکٹر مطاہر شاہ کی جانب سے پمز انتظامیہ کے عائد کردہ الزامات مسترد کر دئیے گئے۔رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مطاہر شاہ نے گزشتہ روز کمیٹی اراکین کے ساتھ ہتک آمیز رویہ روا رکھا،ڈاکٹر مطاہر شاہ نے ای ڈی پمز سے پوچھا کہ وزارت صحت کے googletag.cmd.push(function() { googletag.display('div-gpt-ad-1557484938290-0'); }); googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); سیکشن آفیسرز پمز میں کیوں موجود ہیں، رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مطاہر شاہ نے ای ڈی پمز اور وزارت صحت پر ان کے خلاف سازش کرنے کا الزام لگایا،ڈاکٹر مطاہر شاہ نے کہا کہ میری پرسنل فائل فوٹو کاپی شاپ پر کیوں رکھ دی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مطاہر شاہ کمیٹی اراکین کے پر سازشی ہونے کا الزام لگاتے ہوئے چلاتے رہے۔ رپورٹ کے مطابق مجھ پر میری ماں کا دودھ حرام ہو اگر میں نے تجھے زندہ چھوڑا تو‘ذ ڈاکٹر مطاہر شاہ کی کمیٹی کو دھمکی۔ رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مظاہر شاہ نے کہاکہ ڈپٹی ای ڈی پمز اقبال خان دورانی نے مجھ پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی،میرے ذاتی ڈاکومنٹس کو فوٹو کاپی شاپ پر رکھوایا گیا، شکایت کرنے پر انتظامیہ نے جھوٹا الزام عائد کر دیا۔ انہوںنے کہاکہ میں نے معاملے کے فوری بعد ای ڈی پمز کو انکوائری کے لیے درخواست دی۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں