پیر 06 جولائی 2020ء
پیر 06 جولائی 2020ء

کرونا وباء کو 26ہزار پاکستانی شکست دے کر صحتیاب ہو گئے 

اسلام آباد (این این آئی)ملک میں کورونا سے مزید 23 افراد انتقال کرگئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 1552 ہوگئی جبکہ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد مریضوں کی تعداد 72945 تک پہنچ گئی ہے،26083 مریض صحتیاب ہوگئے ۔کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر کے مطابق پیر کو ملک بھر سے کورونا کے مزید 1844 کیسز اور 32 ہلاکتیں سامنے آچکی ہیں جن میں پنجاب سے 1184 کیسز 22 ہلاکتیں،خیبر پختونخوا سے 458 کیسز اور 9 ہلاکتیں، اسلام آباد 171 کیسز ایک ہلاکت، گلگت بلتستان سے 27 کیسز  اور آزاد کشمیر سے مزید 4 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔پنجاب سے کورونا googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کے مزید 1184 کیسز اور 22 ہلاکتیں سامنے آئی ہیں جس کی تصدیق پی ڈی ایم اے نے کی۔صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے مطابق صوبے میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 26240 اور ہلاکتیں 497 ہوگئی ہیں۔صوبے میں اب تک کورونا سے صحتیاب ہونے والوں کی تعداد 7021 ہے۔وفاقی دارالحکومت سے کورونا وائرس کے مزید 171 کیسز اور ایک ہلاکت سامنے آئی ہے جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔پورٹل کے مطابق اسلام آباد میں کیسز کی مجموعی تعداد 2589ہوگئی ہے ،اموات 28ہو چکی ہیں،اسلام آباد میں اب تک کورونا وائرس سے 169افراد صحتیاب ہوچکے ہیں،آزاد کشمیر میں بھی کورونا کے مزید 4کیسز سامنے آئے ہیں جس کی تصدیق سرکاری پورٹل پر کی گئی ہے۔حکومتی اعدادو شمار کے مطابق علاقے میں کورونا کے مریضوں کی تعداد 255 ہوگئی ہے جب کہ علاقے میں اب تک وائرس سے 6 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔سرکاری پورٹل کے مطابق آزاد کشمیر میں کورونا سے اب تک 168 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں۔خیبر پختونخوا میں پیر کو مزید 9 افراد کورونا وائرس سے جاں بحق ہوگئے جس کے بعد صوبے میں ہلاکتوں کی تعداد 482 تک جا پہنچی ہے۔صوبائی محکمہ صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 458 افراد میں مہلک وائرس کی تصدیق ہوئی ہے جس کے بعد صوبے میں متاثرہ مریضوں کی تعداد 10485 ہوگئی۔صوبے میں اب تک 2973 افراد کورونا وائرس سے صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔گلگت بلتستان میں پیر کو مزید 27 نئے کیسز سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ مریضوں کی تعداد 738 ہوگئی ہے۔محکمہ صحت گلگت بلتستان کے مطابق کورونا سے اب تک 11 ہلاکتیں ہوئی ہیں جبکہ صحت یاب مریضوں کی تعداد 527 ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں