منگل 26 مئی 2020ء
منگل 26 مئی 2020ء

قریب سے موت کا منظر ایسا کبھی نہیں دیکھا !کورونا وائرس کے مریض کی ہولناک موت کا منظر

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)بالکل سائیکو ہوگئی ہو! بیچ رات کو جب ڈاکٹر قرۃ العین خان افراتفری کے عالم میں اٹھیں تو انہیں دیکھ کر ان کے شوہر کے منہ سے بے ساختہ یہ الفاظ نکلے۔ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق36 سالہ اسسٹنٹ پروفیسر اس وقت کراچی کے ایک نجی ہسپتال کے ایک انتہائی نگہداشت یونٹ میں کام کررہی ہیں جہاں کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج معالجہ کیا جا رہا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ، 'میں بار بار اپنے 8 سالہ بیٹے کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر بخار چیک کرتی ہوں۔ اگر میرے شوہر بہت زیادہ کھانسنے لگتے ہیں تو googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); ایک ہاتھ سے ان کی نبض چیک کرتی ہوں تو دوسرے ہاتھ سے ان کے منہ میں تھرمامیٹر ڈالتی ہوں۔ میرے شوہر مجھ سے کہتے ہیں کہ مجھے کوئی ہوش ہی نہیں رہتا لیکن انہیں یہ علم ہی نہیں کہ مجھے کیا کچھ معلوم ہے اور روزانہ میں کیا دیکھ کر آتی ہوں۔اگرچہ بے خوابی ڈاکٹر قرۃ العین کو رات میں زیادہ سونے نہیں دیتی مگر ان کی صبحیں بھی کچھ اچھی نہیں ہوتیں۔ گزشتہ 2 ماہ سے ان کی ہر صبح 'پہلے سے زیادہ بھاری احساس کی کیفیت کے ساتھ ہوتی ہے۔ان کے ذہن کے کسی کونے میں یہی بات کھٹکتی رہتی ہے کہ کہیں وہ خود بھی اس وبا کا شکار نہ بن جائیں مگر انہیں جو سب سے بڑا ڈر ستاتا ہے وہ یہ ہے کہ کہیں وہ اپنے شوہر اور بیٹے کو وائرس کا شکار بنانے کی وجہ نہ بن بیٹھیں۔ڈاکٹر قرۃ العین کہتی ہیں کہ 'میرے شوہر اور بیٹا گزشتہ 2 ماہ سے گھر سے باہر نہیں نکلے اور ہم نے گھر کی ملازمہ کو بھی گھر آنے سے منع کردیا ہے۔ لہٰذا میں ہی گھر کی وہ واحد فرد ہوں جسے گھر سے باہر نکلنا ہوتا ہے اور اس لیے میں اس وائرس کی کیرئیر بن سکتی ہوں۔ڈاکٹر قرۃ العین کے والدین اسی شہر میں رہتے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ قریب 2 ماہ سے ان سے نہیں ملی۔ 'میں ان کے پاس نہیں جاسکتی اسی لیے میں ان سے فون پر بات کرلیتی ہوں اور بعض اوقات مجھ سے یہ سب برداشت نہیں ہوپاتا اس لیے رونا شروع کردیتی ہوں۔کلینکل ماہرِ نفسیات ڈاکٹر آشا بدر کے مطابق’کئی ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز (ایچ سی پی) یا شعبہ صحت سے وابستہ افراد یعنی ڈاکٹر، نرسیں اور فارما سوٹیکل عملہ اس سے پہلے بھی متعدد بار عوامی سطح پر ہنگامی حالات سے نبرد آزما ہوچکے ہیں لیکن موجودہ ہنگامی صورتحال ان سب سے یکسر مختلف اور نئی ہے۔ بگڑی صحت کے ساتھ مسلسل آنے والے مریضوں کو طبّی امداد پہنچانا اور پھر انہیں موت کے منہ میں جاتے دیکھنے کا تجربہ جنگی حالات میںکام کرنے کے تجربے سے کسی بھی طور پر کم نہیں۔ بس فرق اتنا ہے اس وقت دشمن سے فوجی سپاہی نہیں بلکہ خود ڈاکٹر ہی لڑ رہے ہیں اور ایسی صورتحال میں انہیں بھاری جسمانی اور نفسیاتی بوجھ اٹھانا پڑجاتا ہے۔ڈاکٹر قرۃ العین کہتی ہیں کہ انہیں خندقوں میں موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی کیفیت بھی کچھ محاذ پر تعینات کسی فوجی سپاہی کی کیفیت جیسی ہوتی ہے۔ وہ ناخوش لہجے میں کہتی ہیں کہ 'مگر یہ محاذ کچھ مختلف ہے۔ شہدا کی بہادری کے عوض ان کے گھر والوں کو اعزاز و انعام سے نوازا جاتا ہے لیکن ہم اپنی موت کے ساتھ ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی وائرس کا شکار بنا چکے ہوتے ہیں’۔لاہور میں واقع کنگ ایڈورڈ میڈیکل یونیورسٹی (کیمو) کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ اس اضطراب سے گزرنے والی ڈاکٹر قرۃ العین اس شعبے کی واحد فرد نہیں ہیں اور تحقیق سے یہ بات ثابت بھی ہو رہی ہے۔شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو زبردست تناؤ اور تھکن کا سامنا ہوتا ہے اور اس کےنتیجے میں وہ ڈپریشن، انزائٹی (گھبراہٹ)، بے خوابی، یہاں تک کہ مابعد صدماتی تناؤ کے مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔لاہور کے میو ہسپتال میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق فرنٹ لائن سے کورونا وائرس کا مقابلہ کرنے والوں میں انزائٹی اور دیگر نفسیاتی علامات کی شکایت میں کافی زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ووہان کے شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو بھی کورونا وائرس اور اس سے پہلے سارس اور مرس کی وباؤں کےوقت اسی قسم کے نفسیاتی مسائل کا سامنا رہا۔ ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کا کہنا ہے کہ 'اس کی مختلف وجوہات ہیں اور ان میں وائرس کا شکار بننے، اپنے گھر والوں اور پیاروں کو اس کا شکار بنانے کا خوف، حد سے زیادہ کام کرنے اور انزائٹی کے باعث نیند میں کمی شامل ہے، پھر یہی مسائل ان کے کام پر اثرانداز ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ ان کی مدافعتی نظام پر بھی دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ یہ سارے عناصر ان میں کورونا وائرس سےبیمار پڑنے کا خطرہ بڑھا دیتے ہیں۔ڈاکٹر صدف صدیقی ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز (ڈی یو ایچ ایس) میں کنسلٹنٹ اینیستھیسیولاجسٹ ہیں، ان کے مطابق ذاتی حفاظتی سازو سامان (پی پی ای) یا حفاظتی کٹ پہننا بہت ہی بے آرامی کا سبب بنتا ہے کیونکہ اس کی وجہ سے آپ پسینے سے شرابور ہوجاتے ہیں۔ وہ بار بار حفاظتی کٹ پر جراثیم کش اسپرے بھی کرتی رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'حفاظتی کٹ اتارنے کے بعدمیں ہسپتال میں شاور لیتی ہوں اور پھر گھر پہنچنے کے بعد ایک بار پھر نہاتی ہوں۔ میں اپنے عمر رسیدہ والدین کی صحت کو لے کر بہت ہی فکر مند ہوں۔ اس کے علاوہ دمے کی مریضہ ہونے کے باعث ڈاکٹر صدف صدیقی کو این 95 ماسک پہننے سے سانس لینے میں دشواری پیش آتی ہے، جس کے باعث وہ سمجھتی ہیں کہ ان کے کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔تاہم ایک طرف جہاں کئی افراد تناؤ اور انزائٹی کےباوجود اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، وہیں ایسے بھی لوگ ہیں جو جاری رکھ نہیں سکتے یا نہیں رکھیں گے۔ ایک نوجوان خاتون ڈاکٹر نے اپنے سینئرز کو بتایا کہ ان کے شوہر نے انہیں صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اگر انہوں نے کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کیا تو انہیں گھر واپس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ سرکاری تدریسی ہسپتالوں سے وابستہ کئی سینئر ڈاکٹروں نے کام سے چھٹیاں لے لی ہیں تاکہانہیں کورونا وائرس زدہ مریضوں کا علاج نہ کرنا پڑے۔ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کے مطابق لاک ڈاؤن میں نرمی لانے سے صورتحال مزید بدتر موڑ لے گی اور ہسپتالوں میں مریضوں کا رش بہت زیادہ بڑھ جائے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ 'حالات کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ ہوں گے جس کا سامنا پہلے اٹلی کے علاقے لمبارڈی اور پھر اسپین میں کیا گیا اور اب نیویارک سٹی کر رہا ہے۔پنجاب میں ہمارے ماہر وبائیات اورصحت عامہ کے ماہرین ہمیں بتا رہے ہیں کہ 15 مئی کے آتے آتے کورونا وائرس کے کیس اپنی بلند سطح پر پہنچ جائیں گے اور پہلے سے فرنٹ لائن سے وبا کا مقابلہ کرنے والے شعبہ صحت سے وابستہ افراد اور ضروری ساز و سامان کی کمی کے ساتھ مریضوں، اور ان کے اہل خانہ، خود شعبہ صحت سے وابستہ افراد اور وسیع پیمانے پر پورے معاشرے کو کٹھن مسائل کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔علاوہ ازیں شعبہ صحت سےوابستہ کئی افراد کو اس وقت 'اخلاقی چوٹ کی تکلیف سے بھی گزرنا پڑتا ہے جب انہیں طبّی امداد کے قیمتی وسائل کی فراہمی کے وقت فیصلے لینا پڑجاتے ہیں۔ مثال کے طور پر وینٹی لیٹر کی کمی کے باعث ایک وقت ایسا بھی آجاتا ہے جب یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کسے وینٹی لیٹر پر رکھا جائے اور کسے نہیں۔قریب سے موت کا ایسا منظر کبھی نہیں دیکھا۔مریضوں کو مرتے ہوئے دیکھنا کبھی آسان نہیں ہوتا۔ مگرحفاظتی کٹ اور دیگر ساز و سامان ناکافی ہونے کے باعث موت کے منہ میں جانے اور آپ کو وائرس منتقل کرنے والے شخص کے لیے خود کو خطرے میں ڈالنا پڑے، ایسی کسی صورتحال کے لیے شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو تیار ہی نہیں کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر بدر کہتی ہیں کہ، 'یہ لوگ روزانہ عام دنوں سے زیادہ تکلیف اور موت کو قریب سے دیکھ رہے ہیں۔ (اور خدا جانے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے) مگر انہیں یہبھی علم ہے کہ ان کی اپنی اور ان کے گھر والوں کی صحت و زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔ روزانہ اس قدر بھاری بوجھ کو برداشت کرنا بالکل بھی آسان نہیں ہوتا۔آغا خان یونیورسٹی سے بطور ایسوسی ایٹ پروفیسر وابستہ ڈاکٹر عائشہ میاں کہتی ہیں کہ 'اس کے پیچھے غیر یقینی کی صورتحال، کنٹرول میں کمی، مکمل علم کا فقدان، الگورتھم کا نہ ہونا، ناکافی وسائل وغیرہ جیسی وجوہات کارفرما ہیں۔شعبہ صحت سے وابستہ افراد کو مذکورہ ذیل جیسے سوالوں نے مضطرب کیا ہوا ہے۔کیا میری حفاظت کے لیے یہ انتظامات کافی ہیں؟میں وائرس کے کتنا قریب ہوں؟کیا میں اپنے ساتھ اپنے گھروالوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈال رہا ہوں؟کیا یہ علامات کورونا وائرس کے مرض سے جڑی ہیں؟کیا ہمیں حفاظتی تدابیر کا علم ہے؟مینجمنٹ کے طریقوں میں سے کس طریقے کے لیے مناسب شواہد دستیاب ہیں؟ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی کہتے ہیں کہ طبّی شعبے سے وابستہ افراد کے تناؤ کی ایک اور اہم وجہ وائرس کے حوالے سے معلومات کا فقدان اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر وائرس سے متعلق علم میں آنے والی تبدیلیاں ہیں۔ تاہم لاعلمی کے خوف کے ساتھ 'تناؤ کامستقل ذریعہ بنے ہوئے پاکستان کے نظام صحت کے ڈھانچے کے مسائل صورتحال کی بدتری کا وجہ دکھائی دیتے ہیں۔وہ مزید کہتے ہیں کہ، 'عالمی وبا سے قبل فنڈنگ کی کمی، ضروری ادویات اور دیگر سازو سامان کا فقدان، مطلوبہ عملے کی کمی، بیوروکریسی سے جڑے معاملات پہلے ہی مسائل کا باعث بنے ہوئے تھے اور اب کورونا وائرس کی وبا نے ان مسائل کو بہت بڑی حد تک مزید آشکار کردیا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں