جمعه 18 اکتوبر 2019ء
جمعه 18 اکتوبر 2019ء

پی آئی اے نے10 کروڑ 65 لاکھ روپے کا کھانا ضائع کردیا

اسلام آباد(آن لائن)’باکمال لوگ-لاجواب سروس‘ کے دعوے کی حامل پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے نے تین سالوں میں دس کروڑ 65 لاکھ روپے کا کھانا ضائع کرکے مال مفت دل بے رحم کی عملی مثال پیش کردی۔ پی آئی اے کے فلائٹ کچن کی آڈٹ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گزشتہ تین سالوں کے دوران قومی ایئر لائن کی انتظامیہ نے دس کروڑ 65 لاکھ روپے کا کھانا ضائع کیا ہے۔ آڈٹ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ2013 سے 2015 کے درمیانی عرصے میں سفر کے لیے کل 55 لاکھ 58 ہزار 284 مسافروں نے googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); قومی ایئر لائن کا انتخاب کیا لیکن اسی عرصے کے دوران انتظامیہ نے 60 لاکھ 72 ہزار 839 مسافروں کے لیے کھانے کا انتظام کیا۔ فلائٹ کچن کی آڈٹ رپورٹ میں درج ہے کہ ایئرلائن کی انتظامیہ نے مسافروں کی تعداد سے پانچ لاکھ 14 ہزار 554 زائد افراد کے کھانے کے انتظامات کیے جس پر سات کروڑ 25 لاکھ 72 ہزار 526 روپے کی خطیر رقم خرچ ہوئی۔آڈٹ رپورٹ میں ملکی خزانے کو پہنچنے والے بھاری نقصان کا ذمہ دار پی آئی اے انتظامیہ کی ناقص پالیسی کو قرار دیا گیا ہے۔ پی آئی اے انتظامیہ کو 2016 اور نومبر 2018 میں باقاعدہ طور پرآگاہ کیا گیا تھا لیکن تاحال جوابات نہیں دیے گئے ہیں۔ پاکستان کی قومی ایئر لائن کا شمار ان اداروں میں کیا جاتا ہے جو گزشتہ کافی عرصے سے سالانہ بنیادوں پر بھاری نقصان کا شکار ہورہے ہیں اور جنہیں ہمیشہ مالی امورکی انجام دہی کے لیے سرکاری امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔2018 میں سامنے آنے والی ایک مالیاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ درخشاں روایت کی حامل پی آئی اے کا مالی خسارہ 450 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔2019 میں پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ایئرمارشل ارشد ملک نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ قومی ایئر لائن کو 431 ارب روپے کی لائبلٹیز اورمجموعی طور پر سالانہ 36 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مالی بدعنوانیوں کا معاملہ نیب کو بھجوا دیا ہے۔ ادارے کی تباہی کے ذمے داروں کو قابل احتساب بنائیں گے۔ پریس کانفرنس میں ان کے ہمراہ وفاقی وزیر ہوابازی میاں محمد سومرو بھی موجود تھے۔ انہوں نے تسلیم کیا تھا کہ بر سر اقتدار لوگوں کی ناقص حکمت عملی اورغفلت نے پی آئی اے کو شدید مالی بحران سے دوچار کر دیا ہے۔‎

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں