بدھ 18  ستمبر 2019ء
بدھ 18  ستمبر 2019ء

کراچی(این این آئی)مہنگائی تو کم نہیں ہوئی، حکومت نے مہنگائی جانچنے کا پیمانہ بدل کر مہنگائی میں اضافے کی شرح تھوڑی کم کر لی، پرانے پاکستان کے مطابق اگست میں مہنگائی کی شرح 11.6 فیصد رہی لیکن نئے پاکستان میں 10.5 فیصد رہ گئی۔پاکستان ادارہ شماریات کے مطابق مہنگائی کی رفتار کے تعین کیلئے بیس ائیر مالی سال دو ہزار آٹھ کے بجائے مالی سال دو ہزار سولہ کو بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہےجبکہ مہنگائی کی شرح کا تعین کرنے کے لیے شہروں کے ساتھ دیہی علاقوں کی مارکیٹوں کوبھی شامل کیا گیا ہے۔پرانے بیس ائیر کے مطابق اگست googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); مین مہنگائی میں اضافے کی شرح 11.6 فیصد رہی جو گزشتہ سال اگست میں 5.8 فیصد تھیاور مالی سال کے پہلے دو ماہ جولائی اور اگست مین اوسطا مہنگائی کی شرح 10.98 فیصد رہی۔ تاہم نئے پیمانے کے مطابق اس سال اگست میں مہنگائی کی شرح 10.5 فیصد رہی اور مالی سال کے پہلے دو ماہ جولائی اور اگست میں اوسطا مہنگائی کی شرح 9.4 فیصد رہی۔بیس ائیر تبدیل کرنے سے مختلف اشیا کی قیمتوں میں اضافے کی شرح بھی کافی کم ہو گئی۔ معمول کے پرانے طریقہ کار کے مطابق اگست میں گیس کی قیمت گزشتہ سال کے مقابلے میں 143 فیصد زیادہ ہو گئی، پیاز 63 فیصد، دال مونگ 48 فیصد اور چینی 34.3 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ ٹماٹر 19 فیصد سستے ہوئے۔لیکن نئے پیمانے اور طریقہ کار کے مطابق ایک سال میں گیس کی قیمت میں اضافے کی شرح 114 فیصد رہ گئی، پیاز 61 فیصد، دال مونگ 46 فیصد اور چینی 33.8 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ ٹماٹر 29 فیصد سستے ہوئے۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں