منگل 18 جون 2019ء
منگل 18 جون 2019ء

ڈالر کی قدر میں ریکارڈاضافہ ، مہنگے پیٹرول نے اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو پَر لگا دیے

کراچی( این این آئی)دالوں،چاول،چینی، مصالحہ جات،گندم و دیگر اجناس کے تھوک تاجروں،درآمدکنندگان وبرآمدکنندگان کی نمائندہ کراچی ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن (کے ڈبلیو جی اے) کے سرپرست اعلیٰ انیس مجید اور چیئرمین ملک ذوالفقار نے روپے کی مسلسل بے قدری،ڈالر کی قدر میں ریکارڈ اضافے اور پیٹرولیم مصنوعات کی زائد قیمتوںکو درآمدی غذائی اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کا باعث قرار دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماہ مقدس رمضان المبارک میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میںہوشربا اضافے کو روکنے کے لیے فوری طور پر ڈالر کو لگام دینے کے اقدامات کریں اور پیٹرولیم مصنوعات googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ایک بیان میں ایسوسی ایشن کے سرپرست اعلیٰ انیس مجیداور چیئرمین ملک ذوالفقار نے کہاکہ ڈالر کی قدر میں متواتر اضافے نے درآمدی شعبے پر انتہائی منفی اثرات مرتب کیے ہیں خاص طور پر ایسی غذائی اشیاء جن کی پیداوار ملک میں کم اور طلب زیادہ ہے لہٰذا مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے یہ اشیاء وافر مقدار میں درآمد کی جاتی ہیں ۔ ڈالر کی قدر میں اضافے سے ایک جانب درآمدی اشیاء کی لاگت میں نمایاں اضافہ ہواتو دوسری جانب مہنگے پیٹرول کی وجہ سے درآمدی اشیاء کی ترسیل کے اخراجات بھی بڑھ گئے ہیں۔کے ڈبلیو جی اے کے عہدیداروں کا کہناہے کہ ڈالر کی قدر میں حالیہ اضافے سے درآمدی غذائی اشیاء خصوصاً دالوں کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہوجائے گا جس سے یقینی طور پر عوام براہ راست متاثر ہوں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ملک میں دالوں کی سالانہ کھپت تقریباً14سے15لاکھ ٹن ہے جبکہ پیداوار5سے6 لاکھ ٹن ہے لہٰذا مقامی طلب کو پورا کرنے کے لیے امریکا،کینیڈا،آسٹریلیا،چین،روس،یوکرین،برما اور افریقا سے تقریباً 7لاکھ ٹن چنا اور دالیں درآمد کی جاتی ہیں۔ انیس مجیداور چیئرمین ملک ذوالفقار نے مزید کہا کہ رمضان المبارک میں چنے اور دالوں کا استعمال زیادہ ہوتاہے جس کی وجہ سے اس کی مانگ بھی بڑھ جاتی ہے اور تقریباً ہر گھر میں ہی اس کا استعمال ہوتا ہے لہٰذا حکومت کو چاہیے کہ وہ ایسے اقدامات کرے جس سے غریب افراد بھی بغیرکسی دشواری کے اس ماہ مقدس میں اپنا دینی فریضہ احسن طریقے سے نبھا سکیں۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں