منگل 07 اپریل 2020ء
منگل 07 اپریل 2020ء

بجلی ، گیس قیمت  بڑھانے کا فیصلہ کیوں کرنا پڑا،مہنگائی کے پیچھے وجوہات کیا بنی ؟وفاقی وزیر حماد اظہر نےاعتراف کر لیا

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی وزیر حماد اظہر نے مہنگائی بڑھنے کااعتراف کرتے ہوئے کہاہے کہ سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا کسی بھی حکومت کے لیے مقبول فیصلہ نہیں ہوتا، مجبوری ہوتی ہے،(ن) لیگ کے اپنے وزیر خزانہ آخری مہینوں میں آئی ایم ایف بیل آئوٹ کی بات کررہے تھے، جب ہم نے حکومت سنبھالی توملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا،زرمبادلہ کے ذخائر آدھے سے بھی کم تھے، ماضی میں یہ خود بھی کنٹینر پر سیلفیاں لیتے رہے، کنٹینر بھی اپنا نہیں بلکہ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔ googletag.pubads().definePassback('/1001388/JW_JavedCh', [1, 1]).display(); منگل کو قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیرریونیو حماد اظہر نے کہا کہ اپوزیشن ماضی میں اس لیے نہیں جانا چاہتی کہ انہیں پتہ ہے کہ انہوں نے معیشت کا کیا حال کیا ہے؟، (ن) لیگ کے اپنے وزیر خزانہ آخری مہینوں میں آئی ایم ایف بیل آئوٹ کی بات کررہے تھے، اگر ان کے دور میں معیشت ٹھیک تھی تو یہ لوگ توپھرآئی ایم ایف کے پاس کیوں گئے؟ کیوں بل آؤٹ پیکج پربات کی؟۔وفاقی وزیر نے کہا کہ جب ہم نے حکومت سنبھالی توملک دیوالیہ ہونے کے قریب تھا، زرمبادلہ کے ذخائر آدھے سے بھی کم تھے، پچھلی حکومت میں پانچ سوملین ڈالر کا ہرماہ خسارہ ہو رہا تھا، سابقہ حکومت کے خسارے آج ہم پورے کر رہے ہیں، آج آئی ایم ایف ہمیں خسارے ختم کرنے کے لیے کہہ رہے ہیں، دسمبر 2020 تک ہم نے گردشی قرضوں کو صفر پر لانا ہے۔حماد اظہر نے کہا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں کی بات ہورہی ہے، بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھانا کسی بھی حکومت کے لیے مقبول فیصلہ نہیں ہوتا، مجبوری ہوتی ہے، سخت فیصلے کرنا پڑے جس سے مہنگائی میں بھی اضافہ ہوا، لیکن آٹا بحران کی وجہ سندھ حکومت کا وقت پر گندم نہ خریدنا ہے اسی وجہ سے سندھ میں قلت پیدا ہوئی، کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں زیادہ ہوئیں ان پر قابو پانے کیلئے کابینہ اہم فیصلے کریگی، آٹے اور گندم کی قیمت نیچے آگئی ہے، سندھ اور کراچی میں بھی جلد قیمتیں نیچے آجائیں گی،گندم اور چینی بحران کی تحقیقات کو سامنے لے کر آئیں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ہم نے ملک کواستحکام کی جانب گامزن کیا، عالمی ادارے پاکستان کے ریٹنگ کو مثبت قرار دے رہے ہیں، گزشتہ سال جولائی سے زرمبادلہ کے ذخائرمیں50فیصداضافہ ہوا، ایف اے ٹی ایف معاملے پرپیشرفت حوصلہ افزاہے،معاہدے ہم نے نہیں کیے تھےتاہم آج خسارے ہمیں ادا کرنے پڑ رہے ہیں، ہمیں دھرنے پر طعنے دیتے ہیں تاہم ماضی میں یہ خود بھی کنٹینر پر سیلفیاں لیتے رہے، کنٹینر بھی اپنا نہیں بلکہ پرائی شادی میں عبداللہ دیوانہ۔وفاقی وزیر حماداظہر نے کہا کہ سندھ حکومت نیگندم وقت پر نہیں خریدی جس سیسندھ میں قلت پیدا ہوئی،گزشتہ سال جولائی سے زرمبادلہ کے ذخائر میں 50 فیصد اضافہ ہوا۔

سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں